نم آنکھوں کے ساتھ مولانا ابراہیم قاسمی سپردخاک

جنازہ میں کثیر تعدادمیں علماء اور عوام کی شرکت،مفتی ابوالقاسم نعمانی نے اداکرائی نماز جنازہ
دیوبند:(سمیر چودھری) علاقہ کی معروف دینی درسگاہ جامعہ ناشر العلوم پانڈولی کے مہتمم مولانا محمد ابراہیم پانڈولی کی وفات کی خبر سے علاقہ میں غم کی لہر دوڑگئی ۔مولانا کی نماز جنازہ آج بعد نماز ظہر ادارے کے احاطے میں دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی نے پڑھائی جس میں علاقے کے ہزاروں علماء اور سرکردہ افراد نے شرکت کی ۔ مولانا محمد ابراہیم قاسمی نے 1971میں دارالعلوم دیوبند سے فراغت حاصل کی اور مئی 1971میں مدرسہ ناشر العلوم سے بحیثیت مدرس وابستہ ہوئے ۔ ایک سال کے بعد کمیٹی نے انہیں مہتمم مقرر کردیا اور تاحیات مہتمم کی حیثیت سے مدرسہ کی خدمات انجام دیتے رہے۔ آج ان کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔نماز جنازہ میں دیوبند سے بھی بڑی تعداد میں علماء نے شرکت کی ، جن میں دارالعلوم دیوبند کے کارگزار مہتمم مولانا قاری عثمان منصورپوری ، دارالعلوم وقف کے شیخ الحدیث مولانا سید احمد خضر شاہ مسعودی، دارالعلوم وقف کے استاذ حدیث مولانا اسلام قاسمی، دارالعلوم دیوبند کے استاذ مولانا منیر عالم، جامعہ امام محمد انور شاہ کے استاذ مفتی نثار خالد، مولانا ابوطلحہ اعظمی، مولانا بدرالاسلام، مفتی محمد سعید پالنپوری، مولانا فضیل ناصری، مولانا حسین احمد، مولانا شمشاد رحمانی، مولوی اسجد کے علاوہ بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ ممتاز ادیب نامور قلم کار اور دارالعلوم وقف کے استاذ مولانا نسیم اختر شاہ قیصر نے کہا کہ مولانا ابراہیم قاسمی مرحوم شریف اور دیانت دار ، عالم باعمل ، متبع سنت ، بہترین منتظم اور صاحب کردار انسان تھے ، تقریباً 50سال مدرسہ کے مہتمم رہے اور مدرسہ کی دن رات خدمات انجام دی، رواداری روایت اور اعلیٰ اخلاق کے مالک تھے ، انہو ںنے اکابر اور خاندان انوری کے ہر فرد سے خصوصی تعلق رکھا ، اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کاملہ فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے۔ دوسری جانب جامعہ امام محمد انور شاہ دیوبند میںتعزیتی نشست کاانعقاد کیاگیا۔اس دوران بتایا گیا کہ مرحوم فخر المحدثین حضرت مولانا سید محمد انظرشاہ کشمیریؒ کے خصوصی تربیت یافتہ اور ان کے خادمِ خاص تھے۔ مولانا کا تعلق بشن پور پورنیہ بہار سے تھا۔ ادارہ کے مہتمم مولانا سید احمد خضر شاہ مسعودی کشمیری نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ مولانا کی وفات سے دل پر گہرا اثر ہے۔ وہ خانوادۂ انوری کے بڑے مداح اور قدر داں تھے اور اسی نسبت پر ہم سے اور جامعہ امام محمد انور شاہ سے بڑا قلبی لگاؤ رکھتے تھے۔ بلاشبہ ان کا عہدِ اہتمام مثالی اور تاریخی تھا۔ اللہ انہیں غریقِ رحمت فرمائے۔ ان کی وفات خانوادۂ انوری کے لیے بھی بڑا سانحہ ہے۔جامعہ کے ایک وفد پانڈولی گیا اور نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔ وفد میں مولانا فضیل احمد ناصری، مفتی نثار خالد، مفتی محمد سعید پالن پوری، مولانا شبیر احمد، مولانا بدر الاسلام قاسمی اور مولانا عبید انور شاہ قیصر تھے۔