نائب صدر جمہوریہ نے زندگی گزارنے کے نئے طریقے اپنانے کی تلقین کی

زندگی اور انسانیت کے تئیں نیا رجحان اپنایا جانا چاہیے
نئی دہلی:نائب صدر جمہوریہ اور راجیہ سبھا کے چیئرمین ایم وینکیا نائیڈو نے کورونا کے دوران زندگی گزارنے کیلئے نئے طریقے اختیار کرنے پر زور دیا ہے اور اس وائرس سے نمٹنے کے لیے یعنی اس کے ساتھ معمول کے مطابق زندگی بسر کرنے کے لئے 12نکات پر مبنی فریم ورک بھی تجویز کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ کورونا کی وبائی مرض نے ہمیں اب تک جو سبق سکھائے ہیں، اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ا نہوں نے زندگی اور انسانیت کے تئیں نئے رجحانات اپنانے پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ یہ وائرس اب تک متوقع م مدت سے زیادہ عرصے تک اپنے اثر کے ساتھ باقی رہے۔گزشتہ رات 4.0لاک ڈاؤن کے اعلان کے فورا بعد جس میں پابندیوں کو خاطر خواہ حد تک نرم کاری سے ہمکنار کیا گیا ہے۔ نائیڈو نے 1539الفاظ پر مشتمل ایک تفصیلی مضمون فیس بْک پر تحریر کیا ہے، جس کا تعلق کووڈ-19 کے وبائی مرض کے پس منظر میں فلسفیانہ اور اخلاقی اقدار و موضوعات سے ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اس میں آئندہ زندگی کو گزارنے کے لئے زندگی کی ضروریات پر بھی احاطہ کیا گیا ہے۔نائیڈو کی تحریر میں خصوصی توجہ اس با ت پر دی گئی ہے کہ زندگی الگ تھلگ رہ کر نہیں گزاری جا سکتی ہے اور اس وائرس کے پھوٹ پڑنے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہماری زندگیاں ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ جو چیز کسی ایک شخص پر کہیں بھی اثرانداز ہوتی ہے، اس کا اثر دوسری جگہوں پر بھی پڑتا ہے خوا ہ یہ مرض ہو یا معیشت۔کورونا سے قبل کی زندگی کی نوعیت کی تفصیل کا ذکر کرتے ہوئے نائیڈو نے کہا ہے کہ انسان مسرت کی تلاش میں ایک قرضدار بن گیا ہے اور مادی زندگی کی ترقی نے کنبوں کو چھوٹا کر دیا ہے اور اب معاشرے میں محض غرض کے تحت تعلقات رکھے جاتیہیں اور انسان کے ذہن میں تکبر اس حد تک آ گیا ہے کہ وہ یہ سوچتا ہے کہ وہ الگ تھلگ رہ کر اپنی زندگی بسر کر سکتا ہے، اسے دوسرے کی زندگی کی پرواہ نہیں ہوتی۔نائب صدر جمہوریہ ہند نے میڈیا سے کہا ہے کہ وہ اس وائرس کے سلسلے میں ہر حال میں صحیح اورسائنٹفک اطلاع ہی بہم پہنچائے نہ کہ اسے ایک عظیم تباہی بنا کر پیش کرے۔ جناب نائیڈو نے عوام سے کہا ہے کہ وہ مختلف انداز میں زندگی گزاریں اور محفوظ رہیں۔