۲۹؍ اور ۳۰؍ اگست کے واقعہ کے بارے میں نائب امیر شریعت کی وضاحت

پٹنہ(پریس ریلیز):آج مورخہ ۳۱؍ اگست ۲۰۲۱ء کو ذمہ داران امارت شرعیہ کی ایک نشست نائب امیر شریعت مولانا محمد شمشاد رحمانی صاحب کی صدارت میں منعقد ہوئی، اس میں نائب امیر شریعت نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امارت شرعیہ ایک دستوری ادارہ ہے ، اس کا سارا نظام دستورکے مطابق چلتا ہے ، اب جبکہ لاک ڈاؤن کی پابندیاں ختم ہو گئی ہیں تو امیر شریعت کا انتخاب بھی دستور کے مطابق جلد ہی کرایا جائے گا اور مناسب وقت پر تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔اس سلسلہ میں ملت کے بہی خواہان سے اپیل ہے کہ مطمئن رہیں اور اعلان کا انتظار کریں ، سوشل میڈیا اور اخباروں کے ذریعہ نہ غلط فہمی پھیلائیں اور نہ کسی قسم کی غلط فہمی میں پڑیں۔
انہوں نے کہا کہ امارت شرعیہ نہ صرف صوبہ بہار ، اڈیشہ و جھارکھنڈ بلکہ ملک کا ایک موقر شرعی ادارہ ہے ، جس کا سارا نظام اکابر و اسلاف کے بنائے ہوئے دستور و ضابطوں کے تحت چلتا ہے۔موجودہ حالات کے پیش نظر اس کو ٹرسٹ ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ بھی کرایا گیا ہے ، ٹرسٹ کے ضابطوں میں امارت شرعیہ کے مکمل دستور کو شامل کیا گیا ہے ۔ ٹرسٹ کے ضابطے کے مطابق بورڈ آف ٹرسٹیز کی کوئی بھی میٹنگ چیر مین ٹرسٹ کی اجازت سے سکریٹری ٹرسٹ طلب کریں گے۔ لیکن ایک ٹرسٹی کی جانب سے ایک میسج ٹرسٹ کے ممبران کو بھیجا گیا اور اس میں ۲۹؍ اگست ۲۰۲۱ء کو مغرب کے بعد امارت شرعیہ میں پہنچ کر مشورہ کی بات کہی گئی ، جس کی اطلاع نہ تو سکریٹری ٹرسٹ / قائم مقام ناظم کو تھی اور نہ نائب امیر شریعت کو تھی۔ حضرت نائب امیر شریعت نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے کسی مشورہ کے بارے میں نہ تو مجھے کوئی خبر کی گئی ہے اور نہ مجھ سے کوئی اجازت لی گئی ہے ۔
پھر بھی ۲۹؍ اگست کو رات میں تقریبا نو بجے چھ سات گاڑیوں پر ٹرسٹ کے چند ممبران ۲۰۔۲۵ اشخاص کے ساتھ امارت کے گیٹ پر پہنچے اور امارت شرعیہ کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی۔ امارت کے کارکنا ن نے کسی تصادم اور ناخوشگوار واقعہ رونماہونے کے اندیشے سے دروازہ نہیں کھولا۔کافی دیر تک دروازہ جب نہیں کھلا تو پھر وہ لوگ واپس چلے گئے، اس درمیان ان میں سے بعض لوگوں نے امارت شرعیہ اور اس کے ذمہ داروں اور کارکنان کے خلاف نازیبا کلمات کا استعمال کیا۔رات کے وقت بغیر کسی پیشگی اطلاع کے اور سکریٹری یا چیر مین ٹرسٹ کی دعوت کے بغیر کسی بھی ٹرسٹی کے ذریعہ میٹنگ طلب کرنا بالکل نا مناسب ہے۔اس کے باوجود ان لوگوں کی طرف سے سوشل میڈیا اور اخبار میں امارت شرعیہ کے ذمہ داروں اور کارکنان کے خلاف جو غیر اخلاقی اور نازیبا الفاظ استعمال کیے گئے وہ تکلیف دہ ہے۔
اس کے ساتھ ہی حضرت نائب امیر شریعت نے یہ بھی وضاحت کی کہ کل مورخہ ۳۰؍ اگست ۲۰۲۱ءکو شوریٰ کے چند ممبران کچھ اشخاص کے ساتھ مجھ سے ملنے کے لیے دفتر آنے والے تھے، انہوں نے مجھ سے وقت لیا تھا، لیکن میرے ذہن سے بات نکل گئی اور میں کسی دوسری ضرورت میں مشغول ہونے کی وجہ سے وقت پر ملاقات کے لیے حاضر نہ ہوسکا ، اس درمیان میرا موبائل بھی سائلنٹ تھا جس کی وجہ سے فون آنے کی خبر نہ ہو سکی ۔پھر جیسے ہی میں دفتر آیا اور مجھے ان ارکان کے آنے کی اطلاع ہوئی ، میں نے فوراً صحیح صورت حال بتانے کے لیے فون کیا ، مگر یہ حضرات فون نہیں اٹھا سکے ۔اور بجائے اس کے کہ وہ مجھ سے رابطہ کر کے اپنی غلط فہمی دور کرتے انہوں نے اخبار میں بیان دے دیا کہ نائب امیر شریعت وقت دینے کے بعد ان سے نہیں ملے اور ملاقات کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ ان ارکان کا یہ عمل بالکل ہی نامناسب تھا اور حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ الحمد للہ میں تو تمام آنے والوں سے ملتا ہوں اور آئندہ بھی ملوںگا ان شاء اللہ۔اس لیے اس طرح کی غلط فہمی ہرگز پیدا نہ کی جائے۔ ان ارکان میں بعض لوگوں نے کارکنان و ذمہ داران امارت شرعیہ کے بارے میں امارت شرعیہ کے احاطہ میں نا مناسب کلمات کا استعمال کیا، جو صحیح نہیں ہے۔ امارت شرعیہ ملت کا ایک با وقار ادارہ ہے ، اس لیے امارت شرعیہ سے تعلق رکھنے والوں کو کوئی بیان دینے میں ادارہ کے وقار کو ملحوظ رکھنا چاہئے۔ تمام ذمہ داروں نے متفقہ طور پر یہ طے کیا کہ بعض لوگ امارت شرعیہ کے ذمہ داران و کارکنان کے تعلق سے سوشل میڈیا یا اخبار میں بہت ہی نازیبا تبصرے کر رہے ہیں اور ان کی عزت اچھالنے کی کوشش کر رہے ہیں ، یہ قانوناً اور شرعاًجرم ہے ، اس طرح کی تحریروں سے گریز کرنا چاہئے ، ورنہ ادارہ ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی پر مجبور ہو گا۔