نائب امیر شریعت مولانا محمد شمشاد رحمانی کا امار ت شرعیہ کے صدر دفتر میں والہانہ استقبال

پٹنہ:امیر شریعت بہار ، اڈیشہ و جھارکھنڈ مولانا سید محمد ولی رحمانی نے دار العلوم وقف دیوبند کے استاذ حدیث و فقہ مولانا محمد شمشاد رحمانی قاسمی کو امارت شرعیہ بہار،اڈیشہ و جھارکھنڈ کا نائب امیر شریعت نامزد کیاہے۔مولانا محمد شمشاد رحمانی کافی عرصے سے امارت شرعیہ کی مجلس عاملہ اور شوریٰ کے فعال و متحرک رکن اور فکر امارت شرعیہ کے ترجمان ہیں،آپ ضلع ارریہ کے موضع جھوا کے رہنے والے ہیں اور عرصے سے دار العلوم وقف دیوبند میں تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں ، ان کی صلاحیت وصالحیت کی بنیاد پر امیر شریعت نے ان کو نیابت کی ذمہ داری سونپی ہے۔ نائب امیر شریعت بننے کے بعد پہلی بار امار ت شرعیہ کے مرکزی دفتر پھلواری شریف تشریف لانے پر قائم مقام ناظم امارت شرعیہ مولانا مفتی محمد سہراب ندوی سمیت تمام ذمہ داران و کارکنان نے ان کا والہانہ استقبال کیا اور نائب امیر شریعت بننے پر انہیں مبارک باد دی۔اس موقع پر امارت شرعیہ کے میٹنگ روم میں ایک استقبالیہ نشست بھی منعقد ہوئی ، اس نشست میں تمام ذمہ داران و کارکنان امارت شرعیہ کی طرف سے قائم مقام ناظم صاحب نے نائب امیر شریعت کاخیر مقدم کیا ۔ قائم مقام ناظم نے کہا کہ امارت شرعیہ کا نظام سمع و طاعت اور امیر کی اطاعت پر قائم ہے ، امارت شرعیہ سے تعلق رکھنے والا ہر فرد امیر شریعت مد ظلہ کے اس حسن انتخاب پر فرحاں و شاداں ہے۔
نائب امیر شریعت نے بھی کارکنان کے سامنے نصیحت آمیز گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امیر شریعت مد ظلہ نے جس حسن ظن کے ساتھ یہ ذمہ داری میرے ناتواں کاندھے پر ڈالی ہے ، اللہ سے دعا فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ اس کا حق ادا کرنے کی توفیق بخشے۔آپ نے اپنے رفقاے کار سے باہمی تعاون و مشورہ سے کام کو مزید قوت کے ساتھ آگے بڑھانے کی تلقین کی ، انہوں نے فرمایاکہ اس وقت امارت شرعیہ میں جو کچھ بھی ترقی ہو رہی ہے ، اس میں امیر شریعت مد ظلہ کی فکر رسا کے ساتھ آپ حضرات کاعملی تعاون بھی شامل ہے ،اگر ہم سب اخلاص و للٰہیت کے جذبے کے ساتھ اسی طرح کام کرتے رہیں گے تو یہ ادارہ مزید ترقیات کی نئی شاہ راہوں سے گزرے گا اور ملت کو اس سے فائدہ پہنچتا رہے گا ، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی مرضیات پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور ملت کو وحدت و اجتماعیت کے ساتھ امیر شریعت کی ہدایت و رہنمائی میں ادارہ کو ترقی دینے کی توفیق بخشے۔اخیر میں جناب نائب امیر شریعت کی دعا پر مجلس اختتام کو پہنچی۔