نئی ویکسین پالیسی کے لیے حکومت کو پچاس ہزارکروڑ روپے کی ضرورت : وزارت خزانہ

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی کے 18 سے 44 سال کے لوگوں کو مفت ویکسین فراہم کرنے کے اعلان کے بعد مرکزی حکومت اب ریاستوں کے ذریعہ خریدی گئی ویکسین واپس لے رہی ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق اس اسکیم کے لیے 50 ہزار کروڑ روپئے خرچ ہوں گے اور اس کےلیے حکومت کے پاس فنڈز موجود ہیں۔ وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق فی الحال ہمیں فوری طور پر اضافی گرانٹ کی ضرورت نہیں ہے، ہمارے پاس اس کے لیے فنڈز موجود ہیں، لیکن ہمیں موسم سرما کے سیشن میں دوسرے مرحلے میں جانا پڑ سکتا ہے۔ ذرائع نے یہ بھی اشارہ کیا ہے کہ حکومت اب ویکسین کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بیرون ملک سے آنے والے ٹیکوں کاانتظار نہیں کرے گی۔ذرائع کے مطابق ہندوستان کی طرف سے ویکسین خریدنے کا پروگرام بھارت بائیوٹیک، سیرم انسٹی ٹیوٹ اور نئی کمپنی بائیو-ای کے ارد گرد مرکوز رکھا جائے گا۔ حکومت ان کمپنیوں سے ویکسین کی فراہمی کے ساتھ پوری آبادی کو ویکسین دینے کی تیاری کر رہی ہے۔ معلومات کے مطابق فائزر اور ماڈرنا کے ساتھ ہندوستان کی بات چیت مبینہ طور پر ان کے ایک مطالبے کی وجہ سے موقوف ہے، جس کے مطابق وہ چاہتے ہیں کہ ویکسین سے متعلق تمام تنازعات امریکی عدالت میں اٹھائے جائیں۔وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق فی الحال ماڈرنا کے اگلے سال جنوری تک ہندوستان آنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ جبکہ بھارت بائیوٹیک کی کو-ویکسین، سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کے کوویڈشیلڈ اور روس کے اسپتونک-وی ویکسین کو ملک میں استعمال کے لیے منظوری مل چکی ہے ۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اسپتونک بھی کافی تعداد میں دستیاب نہیں ہوسکے گا ،لہٰذا اس کی خریداری ابھی تک شروع نہیں ہوئی ہے۔