نئی تعلیمی پالیسی پر پی ایم نے کہا:اب ہمارے نوجوان اپنی پسند کے مطابق تعلیم حاصل کرسکیں گے

نئی دہلی:وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو کہا کہ نئی قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) میںتحقیق کے بجائے سیکھنے پر زیادہ زور دیاگیا ہے اور اس میں نصاب سے ہٹ کر غوروفکر پر زیادہ توجہ دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام فریقوں کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ قومی تعلیمی پالیسی کو نافذ کیا جائے ۔ گورنرز کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ طلبہ پر نئی تعلیمی پالیسی میں کسی خاص فیکلٹی کا انتخاب کرنے کا دباؤ ختم کردیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ اب ہمارے نوجوان اپنی پسند کے مطابق تعلیم حاصل کرسکیں گے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پہلے طلبا اپنے رجحانات سے بالاتر فیکلٹی کا انتخاب کرتے تھے اور بعد میں اس کو محسوس کرتے تھے۔ این ای پی میں ان تمام چیزوںکاخیال کیا گیا ہے۔ مودی نے کہا کہ مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے قومی تعلیمی پالیسی میں وسیع تر انتظامات کیے گئے ہیں۔ جیسے جیسے دیہاتوں تک ٹیکنالوجی پھیل رہی ہے ویسے ہی معلومات اور تعلیم تک رسائی بھی بڑھ رہی ہے۔ ایسی صورت میں ہماری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم ہر کالج میں تکنیکی چیزوں کو زیادہ فروغ دیں۔ وزیر اعظم نے کہاکہ یہ تعلیمی پالیسی حکومت کی تعلیمی پالیسی نہیں ہے۔ یہ ملک کی تعلیمی پالیسی ہے۔ جس طرح خارجہ پالیسی ملک کی پالیسی ہے، دفاعی پالیسی ملک کی پالیسی ہے، اسی طرح تعلیم کی پالیسی بھی ملک کی پالیسی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی خواہشات کو پورا کرنے کا اہم ذریعہ تعلیمی پالیسی اور نظام تعلیم ہوتا ہے،نظام تعلیم کی ذمہ داری سے مرکز، ریاستی حکومت، بلدیاتی ادارے سبھی جڑے ہوتے ہیں، لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ تعلیمی پالیسی میں حکومت ،اس کی مداخلت، اس کا اثر کم از کم ہونا چاہئے۔مودی نے کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی میں علم کے حصول اور زبان پر توجہ دی جارہی ہے۔ اس میں سیکھنے کے نتائج اور اساتذہ کی تربیت پر بھی توجہ دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی پالیسی میں رسائی اور تشخیص سے متعلق بھی وسیع اصلاحات کی گئی ہیں۔ اس میں ہر طالب علم کو بااختیار بنانے کا ایک راستہ دکھایا گیا ہے۔