نئی صبح کا آغاز کریں ـ مشرف عالم ذوقی

میں تصور نہیں کر سکتا کہ کوئی دنیا کیا اس قدر خراب ہو سکتی ہے ؟ کیا حقیقت میں وائرس تھے ؟ یا دنیا کو بے وقوف بنانے کا سلسلہ سپر پاور ممالک نے شروع کیا ؟ اب مجھے احساس ہوتا ہے کہ وائرس کو علامت بنا کر ملک میں ایک خوفناک کھیل کی بنیاد رکھی گئی اور اب بھی ، جب ان فائلوں کو غائب کیا جا رہا ہے ، جو آنے والے وقت میں حکمران طبقوں کو پریشان کر سکتی ہیں، یوگی کی فائلیں گم کہ آئندہ اتر پردیش میں کوئی حکومت غلطی سے آ جائے تو یوگی پر کوئی جرم بھی ثابت نہ کیا جا سکےـ سنگیت سوم جیسے زہریلے لوگوں کی فائلیں بند ہو رہی ہیں ـ یہ کام حکومت کے دو افراسیاب جادوگر پہلے ہی انجام دے چکے ہیں،مگر فائلیں کیوں گم کی گئیں ؟عدالتی سطح پر جرائم پیشہ لوگوں کو بری کیوں کیا گیا،ان سب کا جواب ہے کہ بڑی طاقتیں اب بھی خوف زدہ ہیں اور اب کسانوں نے مسلمان اور دلتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر جو پیغام دیا ہے ، وہ پیغام حکومت کی حکمت عملی کےخلاف جنگ کا بگل ہےـ آزادی کے بعد یہ پہلی حکومت ہے جو بدنامی، رسوائی ، جہالت کا تمغہ لگائے شٹر مرغ کی طرح ریت میں منہ چھپائے بیٹھی ہے اور پورا ملک ، ملک کی زمینیں، یہاں تک کہ کسان بھی امبانی ادانی کے ہاتھوں فروخت کر چکی ہےـ ہلاکت ، خوں ریزی،جنگ عظیم کی وحشتوں کے درمیان بھی انسانی سفر ختم نہیں ہوتا،دھول کی چادر میں لپٹی ہوئی زہریلی گیس تیزی سے ہماری طرف بڑھ رہی ہے، یہ ہماری اس نئی دنیا کا سچ ہے،جہاں تمام تر اقدامات کے باوجود ماحولیات کے تحفظ میں ہم ناکام رہے ہیں۔ ایک ایسی دنیا اور سیاسی نظام سامنے ہے جہاں پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے خوفناک اثرات کو دیکھتے ہوئے کتنی ہی امن پسند تنظیموں کو یہ ذمہ داری دی گئی کہ تیسری جنگ عظیم کی صورتحال کو پیداہونے سے روکا جاسکے۔ آج انسانی حقوق و تحفظ سے وابستہ تنظیمیں لاچارہیں اور ہم آہستہ آہستہ جنگی کہرے میں گھرتے جارہے ہیں۔ صیہونی فوجیوں کی انتقامی کارروائی، میانمار کے مظالم، روہنگیائی مسلمانوں کی بربادی، کابل میں مسلسل ہونے والے خودکش حملے، شام اور فلسطین میں ہونے والی انہدامی کارروائی، ہندوستان میں سیاہ چوغہ کا غلبہ اور مصنوعی مور سے جاری ہونے والا خون ، اقلیتوں کے لئے نفرت کا کھلا اظہار ، چین، جاپان، امریکہ اور روس کی حکمت عملیاں ـ غور کریں تو سیاسی میزائل تاناشاہوں کے حرم سے باہر نکل کر ایک دوسرے پر یلغار کررہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی اس بات سے واقف ہیں کہ عالمی سیاست پر آہستہ آہستہ جنگ عظیم کے خطرات منڈرانے لگے ہیں۔
جواب لکھا جارہا ہے /وہ اسی کہرے سے برآمد ہوا ہے۔
جو لفظ ابھی وجو د میں نہیں آیا /وہ اسی دھند سے عالم وجود میں آئے گا۔
سوچنا ضروری ہے کہ یہ خوفناک وحشتیں، ہمیں کہاں لے کر آگئی ہیں اور اس کا انجام کیا ہوگا۔؟نئی صدی کے بیس برسوں میں ایک دنیا تبدیل ہوچکی ہے۔ سیاست، ثقافت، مذہب، معاشرہ، مرد اور عورت کے تعلقات، بچوں کے مزاج، ہر جگہ بڑی تبدیلیاں دیکھی جاسکتی ہیں۔ ستر برسوں کی سیاست پر مذہبی رنگ حاوی ہے ۔ عدم برداشت اور عدم تحمل پر بحثیں ہوئیں۔ یہ نئی تہذیب کا المیہ ہے۔ جس کی پیشین گوئی برسوں پہلے ہرمن ہیسے نے اپنے مشہور زمانہ ناول ڈیمیان میں کی تھی۔”پرانی دنیا کا زوال نزدیک آرہا ہے۔ پرندے مررہے ہیں“۔ اس وقت سب سے بڑا حادثہ یہی ہے کہ انسان مہاجر پرندہ بن چکا ہے۔ آسمان سے زہریلی گیس برس رہی ہے۔ پرندرے مسلسل ہلاک ہورہے ہیں۔ اور ہم فنتاسی کی بد ترین دنیا میں قدم رکھ چکے ہیں . ایک حکمران ٹیگور کی طرح داڑھی بڑھاتا ہے مگر ایک مسلم پولیس انسپکٹر کا داڑھی رکھنا جرم ثابت ہوتا ہے . ہندو کسانوں کو لنگر کھلانے کی اجازت ہے اور مسلمانوں کو زعفرانی پولیس حقارت سے روکنے کا کام کرتی ہے . شہلا ، عمر ، شرجیل پر آزادی کی دیواریں بند کر دی جاتی ہیں اور سوم سنگیت ، راگنی تیواری ، کپل مشرا آگ بھڑکانے کے باوجود جشن زعفرانیت میں ڈوبے نظر آتے ہیں . قبر سے نکال کر مسلم عورتوں کا ریپ کرو ، کہنے والا یوگی ملک کی سب سے بڑی ریاست کا سر براہ بن جاتا ہے ، اور وائرس کا ٹھیکرا کمزور ، معصوم تبلیغی جماعت کے لوگوں پر پھوڑا جاتا ہے . فنتاسی .اذیت ناک فنتاسی . تاریخ کے خوفناک چہرے۔ میںتاریخ کی کتابوں سے ایک صفحہ پلٹا ہوں اور حیران رہ جاتا ہوں . ۔ مجھے وہ گھوڑ سوار نظر آئے جو شمشیریں لہراتے ہوئے خلا میں کھو گئے تھے۔ یہاں وہی چہرہ تھا، جسے میں نے خانقاہ میں دیکھا تھا۔ راسپوتین۔ میں نے دیکھا، وہ تصویر میں ہنس رہا تھا۔ میں نے نگاڑوں کی آواز سنیں۔ وہی آوازیں جو خانقاہ میں سنائی دی تھیں۔ اور راسپوتین نے کہا تھا۔ فوجی جنگ کی مشق کررہے ہیں اور مقدس گناہ نے میرے اندر کچھ مخفی اور پُر اسرار قوتیں رکھ دی ہیں۔ افراسیاب ہنس رہا تھا۔ یاد کرو، میں نے کیا کہا تھا۔ سلطنتیں تباہ ہورہی ہیں۔ کوئی ہے جس نے میرا چہرہ پہن لیا ہے… اور میں نے بھی کبھی کسی کا چہرہ پہنا تھا۔مقدس گناہوں نے تمہیں میری طرف بھیجا ہے۔ مضبوط لکڑی کا ایک مربع نما ٹکڑا پانی کے ساتھ بہتا بہتا میرے پاس آگیا ہے۔ میں اس وقت تیز بُو محسوس کررہا ہوں اور یہ بو اسی لکڑی کے ٹکڑے سے آرہی ہے۔راسپوتین۔ میں دو تین بار اس لفظ کو دہراتا ہوں۔ مجھے ہر بار وہ چہرے بدلتا ہوا نظر آتاہے۔مجھے اس کے قہقہے اس ملک کے دریا،سمندراور پہاڑوں میں گونجتے ہوئے نظر آتے ہیں… اور نخلستانوں میں۔ میں بہت دنوں بعد ریت کی آندھیوں کی زد میں ہوں۔ میں بھاگتا ہوں اور اڑتی ہوئی ریت میں اس کے خوفناک چہرے کو محسوس کرتا ہوں۔ اب میں صحرا سے دور نکل آیا ہوں مگر وہ چہرہ بدستور میرے سامنے ہے۔ میں خلا میں اس چہرے کو محسوس کرتا ہوں اور مجھے خوف کا احسا س ہوتا ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ یہ چہرہ دیکھتے ہی دیکھتے خلا میں پھیل گیا ہے اور اس کے منہ سے نکلتی ہوئی بدبو دار سانسیں خلا میں جمع ہورہی ہیں۔پھر میں نے سڑک پر افراتفری کا ماحول دیکھا۔ ایک جم غفیر تھا، جو بھاگ رہا تھا۔ گاڑیاں ہوا میں اچھل رہی تھیں۔ہجوم چیخ رہا تھا…. وائرس….اور دیکھتے ہی دیکھتے سڑک ویران ہوگئی۔ جابجا لوگ گرے ہوئے تھے۔ پتہ نہیں زندہ تھے یا مردہ۔یا اس خوفناک چہرے کے منہ سے نکلتی ہوئی بدبودار سانسوں کے شکار۔ مگر مجھے یاد ہے، جب اس کے جبڑے کھلے تھے…. اور بدبودار سانسیں باہرنکلی تھیں، اس وقت آتش فشاں پہاڑوں سے آگ کی موجیں اٹھ رہی تھیں۔ سمندر گرج رہا تھا۔ گلیشیر ٹوٹ رہے تھے اور پگھل رہے تھے…. اور زمین پر گاڑیاں ہوا میں اچھل رہی تھیں۔….. کیا یہ فنتاسی ہے ؟
یہ سب حقیقت کہ ہم نے ٢٠٢٠ کو کلینڈر میں دفن دیکھا ہے . ٢٠٢١ میں ہم ٢٠٢٠ کی طرف پلٹ کر نہیں دیکھیںگے . ٢٠٢٠ ، مردہ خانے میں عورت کا آخری صفحہ لکھتے ہوئے میں مغموم تھا ، کہ وقت کی کتاب میں انسانیت کا آخری صفحہ لکھا جا رہا ہے . ہم پیچھے پلٹ کر نہ دیکھیں لیکن اس نیی صوبۂ کا آغاز ضرور کریں ، جہاں نہ ہٹلر ہو ، نہ چنگیز ، نہ راسپتن ہو ، نہ سیاہ چوغہ والا فرقہ پرست .مرے چارہ گر کو نوید ہو صف دشمناں کو خبر کرو ..جو وہ قرض رکھتے تھے جان پر وہ حساب آج چکا دیاـ

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)