نئی پرانی کتابوں کی ایک دل چسپ دنیا-محمد مرجان علی

شعبۂ اردو، جے پرکاش یونی ورسٹی، چھپرا(بہار)
Email: ghulamjilani0143@gmail.com
صفدر امام قادری گذشتہ چار دہائیوں سے اردو ادب کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کی پہچان یو ں توکئی نوعیتوں سے ہے لیکن خاص رشتہ تنقید و تحقیق سے متعلق ہی ہے۔ ان کی متعدد اصناف میں درجنوں کتابیں منظرِ عام پر آ چکی ہیں۔صحافتی کالم نویسی، خاکہ نگاری اور سفر نامے کے علاوہ ان کی بیشتر کتابیں تنقید و تحقیق سے تعلق رکھتی ہیں۔ رسائل و جرائد میں ان کے تبصرے بھی شائع ہوتے رہیں ہیں۔۲۰۱۳ ء میں ڈاکٹر الفیہ نوری نے ان کے تبصروں کو یکجا کر کے’’ نئی پرانی کتابیں‘‘ نام سے شائع کیا۔ ۲۰۱۵ ء میں اس کتاب کے دوسری اشاعت عمل میں آئی۔ ’’نئی پرانی کتابیں‘‘ صفدر امام قادری کی تنقیدی بصیرت کا آئینہ ہے جس میں ان کے ۲۲ نئے پرانے تبصرے شامل ہیں۔یہ تبصرے کتابی شکل میں آنے سے پہلے مختلف رسائل و جرائد کی زینت بن چکے تھے۔
اس کتاب میںروایتی یا رسمی قسم کے تبصرے نہیں ہیں۔اکثرخاصے طویل اور عموماً تجزیاتی نوعیت کے ہیں۔کتاب کے مقدمّے بہ عنوان ’التماس‘ میں صفدرامام قادری نے تبصرہ نگاری کے فن پر اجمالی گفتگو کی ہے۔آج کل جس انداز کے تبصروںکا رواج چل نکلاہے کہ کتاب کی فہرست دیکھی اور مقدمّہ پڑھ کر تبصرے کی تکمیل ہوگئی؛قادری صاحب ایسے تبصرہ نگاراور اس اندازکی تبصرہ نگاری کی سخت الفاظ میں مذمّت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اردو میں تبصرہ نگاری کے فن اورتاریخ کو اجاگر کرتے ہوئے انھوں نے سرسیّد اور ان کے رُفقا حالی،شبلی اور منشی ذکاء اللہ کی تحریروںکا تذکرہ کیا ہے۔ قادری صاحب نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کی کہ’ آبِ حیات‘ جیسی عظیم کتاب جب منظرِعام پر آئی تو سر سید،حالی اور منشی ذکاء اللہ نے اپنے تنقیدی تبصروںسے اس کتاب کی ادبی اور علمی جہتیں واضح کیں۔نذیر احمد کے خطوط پر محمد حسین آزاد نے تبصرہ کرتے ہوئے اپنی تنقیدی رائے پیش کی تھی۔یہاں مبصّرین میں کتابوں کے تئیں ایک احساسِ ذمّہ داری موجود تھا، اس لیے کتاب کے مواد پر آزادانہ بحث ممکن ہو سکی۔ مولوی عبدالحق، عبدالماجد دریابادی،سیّد سلیمان ندوی کے علاوہ قاضی عبدالودود اور ظ۔انصاری کی تبصرہ نگاری میں قادری صاحب ایک معقول علمی رویہ تسلیم کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں:
’’مذکورہ تمام اصحاب میں ایک بات لازماً موجود تھی کہ وہ کتاب کے متن اور اس کی جہات پرقدرت رکھتے تھے اور ایک ایک لفظ اور بین السطور کے مفاہیم متعین کرنے کے اہل تھے۔‘‘ ص۱۰
خلاصۂ کلام یہی ہے کہ قادری صاحب نے تبصرہ نگاری کے حوالے سے اور خاص طور سے نئی نسل کے لکھنے والوں کے لیے ایک معیارمتعین کرنے کی توقع کی ہے۔
کتاب میں شامل پہلا تبصرہ اردو اور انگریزی کے ممتاز مترجم پروفیسر محمد ذاکر کی ترجمہ کردہ کتاب ’’ہندستانی سماج پر اسلامی اثراور دیگر مضامین‘‘ کے حوالے سے ہے۔ اصل میں یہ تبصرہ معتبر مورخ پروفیسر محمد مجیب کے انگریزی مضامین کے اردو ترجمے کے مجموعے کا جائزہ ہے۔تبصرہ پڑھنے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ مبصر نے صرف ترجمہ نہیں بلکہ اصل کتاب کو حرف بہ حرف پڑھ کر نتیجہ اخذ کیا ہے۔ صفدر امام قادری نے ہندستانی سماج پر اسلامی اثرات ، ہندستان میں مسلمانوں کی آمد کی وجوہات، مسلمانوں کی آمدسے ہندستان میں نئی تہذیبی تبدیلیاں، ہندستان کی تعمیر و تشکیل،عہدِقدیم سے ہمارے زمانے کے احوال؛ یہ تمام باتیں محمد مجیب کی کتاب سے اپنی دانشورانہ عقل و فہم کی وجہ سے اخذ کرکے پیش کی ہیں۔کتاب میں شامل دوسرا تبصرہ شافع قدوائی کی انگریزی کتاب پر محیط ہے ۔انگریزی کتاب پر تبصرہ پیش کر کے صٖٖفدرامام قادری نے انگریزی زبان و ادب سے اپنی واقفیت ظاہر کر دی ہے۔یوں تو قادری صاحب نے انگریزی زبان میں متعدّد مضامین قلم بند کیے ہیںلیکن یہاں انگریزی زبان کی کتاب پر اردو میں تبصرہ لکھ کر انگریزی زبان سے اپنی پختہ وابستگی کا بھی انھوں نے ثبوت پیش کیا ہے۔شافع قدوائی کی کتاب سے سر سیّدکی صحافتی کارکردگی اور خاص طور سے’’ تہذیب الاخلاق‘‘ اور’’ علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ‘‘ کے حوالے سے حرف بہ حرف مطالعہ کر کے اہلِ علم کے سامنے مبصر نے سر سیّد کی ایک اعلا صحافتی تصویرپیش کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
نذیر احمد نے جو خطوط اپنے بیٹے کے نام رقم کیے تھے، ان خطوط کا جائزہ لیتے ہوئے صفدر امام قادری نے’ تعلیمِ جدید کا مثالی منشور‘ کے عنوان سے لکھے اپنے تبصرے میں جدید تعلیم کے سلسلے سے کئی اہم نکات پیش کیے ہیں۔اس تجزیے میں نذیر احمد کے خطوط سے جدید تعلیم کے تصورات کے سلسلے سے قادری صاحب نے اہم باتیں اخذ کرکے یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ سرسیّد،حالی،شبلی اور محمد حسین آزاد کی صف میں جدید تعلیم کے حوالے سے نذیر احمد کے یہاں سب سے متوازن رنگ ابھر کر سامنے آتا ہے۔
ریاض الرحمٰن شروانی کی خودنوشت ’’دھوپ چھاؤں‘‘کاتجزیہ کرتے ہوئے صفدر امام قادری نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ’’دھوپ چھاؤں‘‘ ایک خود نوشت کی حیثیت کے ساتھ ہندستان کی تاریخ کے کچھ اہم گوشوں کی وجہ سے خاص معنویت رکھتی ہے۔تقسیمِ ملک اورعلی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے حوالے سے ریاض الرحمٰن شروانی نے بہت اہم معلومات اپنی خود نوشت میں شامل کی ہیں۔ان مباحث کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے مبصر نے اپنے سیاسی اور سماجی شعور کا ثبوت بھی فراہم کیا ہے۔ظفر کمالی کی کتاب’’متعلقاتِ احمد جمال پاشا‘‘ پر تبصرہ کتاب میں شامل سب سے طویل تبصروں میں سے ایک ہے۔یوں تو ظفر کمالی کی محققانہ شخصیت کے سبھی قائل ہیں لیکن یہاں صفدر امام قادری نے ظفر کمالی کی تحقیقی شان کو اجاگر کرتے ہوئے یہ بتایا ہے کہ اہلِ اردو اور خاص طور سے نئی نسل کے محققین کو ظفر کمالی کی تحقیق سے سلیقہ سیکھنا چاہیے۔
’’بہار کی ادبی تاریخ نویسی اور مظفّر اقبال کی تحقیق‘‘ عنوان کے تبصرے میں کتاب کا بھرپور جائزہ لیا گیاہے۔ تبصرہ پیش کرتے ہوئے قادری صاحب نے پہلے دو صفحے میں علاقائی تاریخ نویسی اور خاص طور سے بہار میں اردو کی تاریخ نویسی کے سلسلے سے اپنی باتیں پیش کی ہیں اور اپنے تجزیے کی بنا پر یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ مظفّر اقبال کی کتاب ’’بہار میں اردو نثر کا ارتقا‘‘ اپنے معیار اور ٹھوس علمی بنیادوں کی وجہ سے بہار کی ادبی تاریخ نویسی میں ایک سنگ میل قرار دیا جاسکتاہے۔
شاملِ کتاب اگلا تبصرہ ملک العلما مولانا ظفرالدین بہاری کی کتاب ’’حیاتِ اعلی  حضرت‘‘ پر محیط ہے۔قادری صاحب نے تمہیدی کلام کے ذریعہ سوانح نگاری کے اصولوں کو پیش کیااورانھی اصولوں کے کی مدد سے ’’حیاتِ اعلی حضرت‘‘ کو پرکھا گیاہے۔تبصرہ کرتے ہوئے قادری صاحب نے یہ رائے پیش کی ہے کہ حالی اور شبلی کی سوانح نگاری کے ساتھ مولانا ظفرالدین بہاری کی کتاب ’’حیاتِ اعلی حضرت‘‘ کوبھی سوانح نگاری کے اعلا نمونے کے طور پر مستند کتاب تسلیم کیا جا سکتاہے۔
صفدرامام قادری کا سخت تنقیدی رویّہ ’’وہاب اشرفی بہ نام کلیم الدین احمد‘‘تبصرے میں ابھر کر سامنے آتا ہے۔صفدررامام قادری وہاب اشرفی کی کتاب (کلیم الدین احمد پرساہتیہ اکادمی کی جانب سے شائع کردہ مونوگراف) پر تبصرہ کرتے ہوئے وہاب صاحب کے تمام ادبی سرمائے کا احتساب کرتے ہوئے یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ کلیم الدین احمد کے سلسلے میں وہاب اشرفی حسداور کینہ پروری تک پہنچ گئے ہیں جو تنقید میں معروضی اصولوں کے خلاف ہے۔صفدر امام قادری نے یہاں جس بے باکی اور حقیقت پسندانہ انداز سے تبصرہ پیش کیاہے،وہ آنے والی نسل در نسل کے لیے نشانِ راہ ثابت ہوگا۔
’’معاصر تنقیدی رویے‘‘ کے عنوان سے ابوالکلام قاسمی کے مضامین کا انتخاب اور’’ آوازے ہست‘‘( ناوک حمزہ پوری کے مجموعۂ مضامین) پر تبصرے بھی نہایت بلیغ ہیں۔ یہاں بھی صفدر صاحب کا ِ گہراشعورِنقد ابھر کر سامنے آتا ہے۔خاص طور سے ناوک حمزہ پوری کے تعلّق سے صفدرامام قادری نے یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ ایک استاد شاعر ہیں اور ان کا ذاتی مشغلہ فاعلاتن فاعلات کاہے جس سے ان کی تنقید نگاری میں رہ رہ کر یہ استادی غیر ضروری طورپر ابھر کر سامنے آتی ہے ۔اس سے ان کی باتیں عام طور پر تنقیدی دائرے سے باہرنکل جاتی ہیں۔ صفدر امام قادری رقم طراز ہیں:
’’ناوک حمزہ پوری کو باضابطہ نقاد کہنا مشکل ہے حالاں کہ تنقید سے متعلق وہ بہت ساری چیزیں لکھتے رہے ہیں۔ استادی کی وجہ سے انھیں تقریظ اور مقدّمات لکھنے کی بار بار ضرورت پڑتی ہے۔ اپنے شاگردوں کو دعائیں دیتے ہوئے یا نیک خواہشات کا اظہار کرنے کے مقصد سے جو تحریریں پیش کی جائیں گی ،وہ عام طور سے تنقید کے دائرے سے رہ رہ کر نکل جائیں گی۔ــ‘‘ ص۳۹۔۱۳۸
جناب صابر القادری صاحب کے کتابچہ’’کریماے سعدی‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے صفدر امام قادری نے سعدی سے ہندستانی معاشرے کی وابستگی اور اہالیانِ اردو سے سعدی کے گہرے رشتوں کے اسباب درج کیے ہیں۔ صفدر امام قادری نے فارسی زبان و ادب کے حوالے سے جو رائے قائم کی ہے، اس سے قادری صاحب کی علمی استعدادکی داد دینی پڑے گی۔بات انگریزی زبان و ادب کی ہو یا فارسی زبان کی، صفدر امام قادری ہر جگہ اپنا سکہ بٹھاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ داغ دہلوی نے اعلی حضرت رحمۃاللہ علیہ کی علمی استعداد کی داد دیتے ہوئے مصرعہ کہا تھا ع ۔’’ جس سمت آ گئے ہو، سکّے بٹھا دیے ہیں‘‘۔ داغ دہلوی سے معذرت کے ساتھ یہ مصرعہ میں صفدر امام قادری کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔
’ترتیب‘ کے زُمرے میں چار تبصرے شامل ہیں۔’’ حبیب تنویر کا رنگ منچ‘‘( محمدمسعودالحق)،’’مولانا آزاد کا قیام رانچی:احوال و آثار‘‘(جمشید قمر)، ’’شمس الرحمٰن قاروقی کی مدح پہ قدح‘‘(احمدمحفوظ) اور’’ فرہنگِ لفظیاتِ غالب‘‘(سلیم شہزاد) پر قادری صاحب کے تبصرے بھی خوب سے خوب تر ہیں۔’’ حبیب تنویر کارنگ منچ‘‘ مسعودالحق مرحوم کی ترتیب کردہ کتاب ہے جس میں حبیب تنویر کے متعلّق منتخب مضامین شامل ہیں۔چونکہ اردو ادب میں ڈرامہ نگاری سے بے رغبتی کی وجہ سے ڈراما اور ڈراما نگاروںکو فراموش کیا جاتا رہا ہے۔شایداسی لیے جب مسعود الحق مرحوم نے حبیب تنویر کے سلسلے سے ایک ضخیم کتاب تیّار کی تو اردو حلقے میں اسے بہت پسند کیا گیا۔صفدر امام قادری رقم طرازہیں:
’’ہندی اور انگریزی زبانوں میں حبیب تنویر کے بارے میں متعدّد مختصر اور طویل تصانیف موجود ہیں۔لیکن ان کی مادری زبان کی گوداُن کے اوصاف سے خالی ہیں۔پچھلے دنوں جب دلّی کتاب گھر نے تقریباً پونے تین سو صفحات پر مشتمل ایک کتاب ’’ حبیب تنویر کارنگ منچ‘‘عنوان سے پیش کی تو خوشی کے ساتھ تعجّب کا احساس بھی ہوا۔‘‘ص ۱۴۹
’حبیب تنویر کا رنگ منچ ‘پر تبصرہ کرتے ہوئے صفدرامام قادری نے مرتّب کے بارے میںجو رائے قائم کی ہے ،وہ اپنے آپ میںتبصرہ نگاری کی ایک اعلا مثال ہے۔قادری صاحب نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے جو نتیجہ اخذ کیا ہے، وہ اقتباس ملاحظہ کریں:
’’اس کتاب کے مطالعے سے حبیب تنویر کی شخصیت اور کارنامے کی جو دنیا روشن ہوتی ہے،اس میں سب سے اہم وہ اطّلاعات ہیں جن سے ہمیں حبیب تنویر کی مکمّل ڈرامائی شخصیت کے عناصر معلوم ہو جاتے ہیں۔یہاں آغاز،تشکیلی دور،عروج،فکری بنیادیں اور کام کا مجموعی احتساب۔۔۔۔ سب باتیں مرحلہ وار طریقے سے ہمارے سامنے آتی رہتی ہیں ۔اس کی وجہ سے کسی بھی قاری کو حبیب تنویر کے تدریجی ارتقا کو سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی۔‘‘ص ۱۵۱
اس کے علاوہ قادری صاحب نے ’’مولاناآزاد کا قیام رانچی:احوال و آثار‘‘(جمشید قمر)، ’’شمس الرحمٰن قاروقی کی مدح پہ قدح‘‘(احمدمحفوظ) کتابوںکی تنقیدی کوتاہ د ستیوں پر سخت اعتراضات پیش کیے ہیںاور اس کے حوالے سے واضح دلیلیں دی ہیں۔
صفدر امام قادری کی نگاہ صرف کلاسیکی ادب یا دیگرمشاہیرکی کتب پرہی نہیں بلکہ ان کی نگاہِ تنقید رسائل و جرائد پر بھی پڑی ہے ۔ ’’نئی پرانی کتابیں‘‘میں ادبی صحافت کے زُمرے میں رسائل و جرائد کے مختلف شماروںپرپانچ تبصرے شامل ہیں ۔’’رسالہ ’استعارہ‘ کے اوّلین دو شمارے‘‘ پر قادری صاحب تبصرہ کرتے ہوئے مدلل مدّاحی کا الزام عائد کرتے ہیںاوران کے طرفداروں کو کٹگھرے میں لا کر کھڑا کر دیتے ہیں۔تنقید و تحقیق کے حوالے سے صفدر امام قادری کا یہ تبصرہ نہایت ہی کار آمد اور مبنی بر حقیقت ہے۔علاوہ ازیں قادری صاحب کے د یگر تبصرے’بہت شور سنتے تھے۔۔۔۔‘(ادبی اخبار نقّاد کا جائزہ) یا’ معلم اردو‘ کا گوشۂ احمد جمال پاشا ، ’ زبان و ادب ‘کا حفیظ بنارسی نمبر، یا نگارشات خواتین نمبر،وغیرہ میں ان کے تنقیدی شعورکو پہچانا جا سکتاہے۔
صفدر امام قادری ظرافت نگار تو نہیں ہیں لیکن ان کا وصفِ خاص حسِ مزاح ہے جس کی بار بار اس کتاب میں مثالیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ یوں تو صفدر امام قادری تنقید و تحقیق سے وابستہ رہے ہیں اور تنقید و تحقیق کے فنکار کو بھلا یہ کب موقع ملتاہے کہ وہ اپنی تصانیف میں طنزوظرافت کو بھی شامل کرے۔ قادری صاحب کی پہچان ایک مدرّس کی حیثیت سے بھی ہے اور دورانِ تدریس مزاح کی ضرورتوں سے انکار ممکن نہیں۔ تنقید و تجزیے میں برجستہ کسی بات کو ظرافت کے ذریعہ پیش کردینا قادری صاحب کے اوصاف میں شامل دکھائی دیتا ہے۔اس سلسلے سے ان کے چند جملے ملاحظہ ہوں:
< ’’وہاب اشرفی برق رفتاری سے کتابیں تیّار کرتے ہیں ۔جتنے وقفے میں دوسرے لکھنے والے کسی ایک مضمون کا خاکہ مکمّل کرتے ہیں ،اتنے وقفے میں وہاب اشرفی کی کتاب چھپ کر بازار میں چلی آتی ہے ۔ ‘‘ص ۱۱۸
< ’’ یہ بھی پُرلطف ہے کہ وہ اس نئی ادبی تحریک یا رویّے کے ایسے رہبر ہیں جسے اِن نظریوں میں کوئی کوتاہی یا تحفظ اور حدود کا اندازہ ہی نہیں ہوتا۔ نئے ادبی رویّے پر جاں نثاری اور غیر مشروط طرف داری گوپی چند نارنگ کی قدر شناسی میں، مختصر لفظوں میں ہی سہی ، عقیدت مندی میں بدل جاتی ہے۔‘‘ ص ۱۳۲
< ’’یہ کتاب ایک معّمر ادیب اور مستند استاد شاعر کی خوش گپّی کی طرح ہے۔.حضرت جب ترنگ میں ہوںتو گہرے رموز ہاتھ آجائیں اورجب عمر کی تھکان حاوی ہوجائے تب اِدھر اُدھر کی یادوں کا بے جوڑ سلسلہ سامنے آجائے ۔ اس کتاب میں علمی نکتے اورگانٹھ میں باندھ لینے والے اشارے بہت ہیں ۔ لیکن وہ غیر ضروری رسومیاتِ علمی اور فضولیات کے جنگل میں کھو گئے ہیں ۔‘‘ ص ۱۴۳
< ’’ بعض الفاظ کا ایسی بے احتیاطی کے ساتھ استعمال کیا گیا ہے کہ اس سے ناواقفیت ظاہر ہوتی ہے۔‘‘ ص ۱۶۶
< ’’تنقید وتحقیق کی یہ سخاوت اور دریادِلی مرتّب نے صرف ذاتی تحویل میں نہیں رکھی ہے بلکہ اس کتاب کے اکثر مضمون نگاروں اور شاعروں کو اس کی اجازت (یا شاید ہدایت) حاصل ہے کہ وہ حیرت انگیز مبالغوں کی فصل اُگائیں۔‘‘ ص ۱۷۲
< ’’لیکن نہ جانے کس علمی جلال اور غالب کی مانوس انا پسندی کے زیراثر آکر ایسی خوٗ اپنالی جس میں یہ لازم ہوگیا کہ پونے سات سو صفحات پر مشتمل فرہنگ نویس کسی ایک کتاب کے نتائج سے استفادہ کرنے کی بات کا بہ بانگِ دہل اعلان نہیں کرنا چاہتا۔ یہ علمی بخل اور کو تاہ دستی نہیں، بے ایمانی ہے۔ ‘‘ ص ۱۸۱
کتاب کی فہرست میں ’جہان تازہ‘ کے زُمرے میں ظرافت کے متعلق دو تبصرے شامل ہیں ۔یہاں دونوں تبصرے ظرافت نگاری کے حوالے سے ہیں۔اردو ادب میں ظرافت نگاری کو بہ نظرِ توجہ بہت کم دیکھا گیا ہے۔ ’پیروڈی کا فن‘(امتیاز وحید)اور ’مرزا عظیم بیگ چغتائی کی ادبی خدمات‘(حنا آفریں) ۔ دونوں کتابیں نئی نسل کے ریسرچ اسکالروں کی محنتوں کا ثمرہ ہیں۔ پیروڈی کا فن پر قادری صاحب نے مختصر اور جامع تبصرہ پیش کر کے ظرافت کے سلسلے سے اپنی رائے قائم کرتے ہوئے نئی نسل کے ریسرچ اسکالروں اور محققین کی خدمات پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔چونکہ اردو ادب میں ظرافت نگاری بالخصوص پیروڈی کے سلسے سے چند متفرق مضامین ہی دستیاب ہیں، اس لیے امتیاز وحیدکی پیروڈی کے فن پر پیش کردہ کتاب کو انھوں نے’’ریگستان میں ایک شجر  سایہ دار اُگایا ہے‘‘ قرار دیا ہے۔
کتاب کے آخری صفحے پر’ قطعۂ تاریخ انطباع‘ ( واحد نظیر) شامل ہے۔ واحد نظیر عہدِ حاضر کے سب سے معتبر تاریخ گو تسلیم کیے جاتے ہیں۔ کتاب کے سالِ تصنیف پرتاریخی اشعار کہنے کا رواج قدیم زمانے سے چلا آرہا ہے۔ میر امن نے’’ نوطرزمرصع‘‘ کو سلیس اردو میں منتقل کر کے کتاب کا تاریخی نام ’’باغ و بہار‘‘ رکھاجس سے سنہ تصنیف ۱۲۱۷ھ برآمد ہوتا ہے۔ اسلاف کی روایت کو قائم رکھتے ہوئے واحد نظیر ایک طویل مدّت سے شاعروں، ادیبوں یا اپنے وقت کی معتبر شخصیات کے سانحۂ ارتحال پر یا کسی اہم ادبی کتاب کے سالِ تصنیف پر تاریخی اشعار پیش کرتے رہے ہیں ۔صفدر امام قادری کی کتاب ’’نئی پرانی کتابیں‘‘ پر بھی واحد نظیر نے قطعۂ تاریخ کا نذرانہ پیش کیا ہے۔شعر ملاحظہ ہو:
تاریخ ہوگی نامِ مصنّف سے شادکام
بائیس نئی پرانی کتابیں ہیں عطربیز
اس کتاب کی دوسری اشاعت کے موقع سے انھوں نے قطعۂ تاریخ میں ایک شعر کے اضافے سے نئی تاریخ بھی بر آمد کر لی اورحقیقتِ حال کا اظہار بھی کر دیا:
موقع یہ طبعِ ثانی کا ہے دوسرے ہی سال
مقبولیت کی ایسی ہوائیں ہیں عطر بیز
’’ نئی پرانی کتابیں‘‘ میں شامل تبصرے تقریباً ربع صدی کے درمیان مختلف رسائل و جرائد میں لکھے گئے ہیں۔ان رسائل و جرائد سے مضمون کو یکجا کر کے کتابی شکل میں ترتیب دے کرنئی نسل کی ادیبہ ڈاکٹر الفیہ نوری نے ایک معقول ادبی کام کیا ہے۔ڈاکٹر الفیہ نوری اردو کی ادبی صف میں ایک ناقد کی حیثیت سے اپنی شناحت قائم کر چکی ہیں۔ان کی نصف درجن کتابیںمنظرِ عام پر آ چکی ہیں اور تین درجن سے زائد تحقیقی مقالے عالمی سے می ناروں کی ادبی محفلوں میں پڑھنے کے علاوہ مختلف رسائل و جرائد میں بھی شائع ہوچکے ہیں ۔ ’’نئی پرانی کتابیں‘‘ کے پہلے ایڈیشن میں مرتّبِ کتاب ڈاکٹر الفیہ نوری صاحبہ کا مقدمّہ بعض اسباب کے تحت کتاب میں شامل نہ ہو سکاتھا لیکن دوسرے ایڈیشن میں ان کا تفصیلی مقدمّہ بہ عنوان ’’عرضِ مرتّب‘‘ شامل ہے۔ بتّیس ۳۲ صفحات میں پھیلا ہوا یہ تفصیلی مقدمہ کتاب میں شامل ہر ایک مضمون کا فرداً فرداً احاطہ کرتا ہے ۔صفدر امام قادری کی تنقیدی خصوصیات کا جائزہ لیتے ہوئے ڈاکٹرالفیہ نوری نے قادری صاحب کی تنقید نگاری کو کلیم الدین احمد کے تنقیدی اصولوں کا پابندقرار دیا ہے۔ موصوفہ رقم طراز ہیں:
ـــ’’ جناب صفدر امام قادری کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ سلسلے وار ڈھنگ سے گفتگو کرنے کے قائل ہیں۔ وہ کلیم الدین احمد کے تنقیدی اصولوں پر قائم نظر آتے ہیں۔ کلیم الدین احمد نے غزل پر اعتراضات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس صنف کا طَور غیر سلسلے وار ہے جب کہ انسانی فطرت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ سلسلے وار ڈھنگ سے سوچے اور غور و فکر کرے۔ یہاں صفدر امام قادری سلسلے وار ڈھنگ سے شافع قدائی کی کتاب کا جائزہ لیتے ہوئے تہہ در تہہ گتھّیاں کھولتے اور سلجھاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔‘‘ ص ۲۶۴
صفدر امام قادری کی تحریروں کی ادبی اہمیت واضح کرتے ہوئے انھوں نے یہ خاص بات کہی ہے:
’’مرتّبِ کتاب ہونے کی حیثیت سے میری سفارش یہ ہوگی کہ قارئین اس کتاب کو سرسری انداز سے نہ پڑھیں بلکہ یہ کتاب جس توجّہ سے پڑھی جانے کی حقدار ہے،وہ اسے حاصل ہونا چاہیے۔ عام کتابوں کے بہ طوراس کا مطالعہ کرنے سے ممکن ہے ہمیں کچھ دھوکاہو جائے۔میری یہ بھی خواہش ہوگی کہ اس کتاب کے ساتھ ساتھ اس دوران صفدر امام قادری کی جو دوسری کتابیں شائع ہوئیں اور جو مضامین چھپ کر سامنے آئے ہیں، انھیں بھی توجّہ سے دیکھ لینے کی ضرورت ہے تاکہ پڑھنے والوں کو یہ بات سمجھ میں آسکے کہ اردو تنقید کے نئے منظر نامے پر کچھ اور بھی ایسے گل بوٹے ہیں جن سے ہم اپنی زبان کے مستقبل کی کوئی امّید باندھ سکتے ہیں۔‘‘ص ۲۷۱
واقعتا صفدر امام قادری کی یہ کتاب ہر اُس شخص کے مطالعے کا حصّہ ہونا چاہیے جسے تنقید وتبصرے میں غیر جانب داری اور انصاف پسندی سے سروکار ہے۔اصولی اورعملی تنقید کے معقول نمونے اس کتاب کو سنجیدگی اور وقار عطا کرتے ہیں۔ صاف، شستہ،رواں اور بے لاگ زبان اسے مقبولِ عام کتاب کا درجہ عطا کرے گی، ایسی مجھے توقع ہے۔