نہیں نہیں‘ خودکشی نہیں!-ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز

ایڈیٹر گواہ اردو ویکلی‘ حیدرآباد
فون:9395381226
حیدرآباد کی مشہور درگاہ حضرات یوسفین کے سابق متولی فیصل علی شاہ کی موت خودکشی کا نتیجہ ہے یا قتل کا۔ اس کی تحقیقات ہوں گی۔ حقائق منظر عام پر آنے کے لئے وقت لگے گا۔ ویسے شاہ صاحب کی اہلیہ نے پولیس میں جو شکایت درج کرائی اس میں یہ کہا گیا ہے کہ وہ مالی پریشانی اور کئی امراض کے شکار تھے۔ چوں کہ شاہ صاحب کی شخصیت جس قدر بھاری بھرکم تھی کہ وہ کس طرح سے لکڑی کی سیڑھی سے چڑھ کر پھانسی لئے ہوں گے‘ اس پر حیرت ضرور ہے۔ جو بھی ہو مرنے والے تو مرچکے ہیں۔ کسی نے افسوس کیا، کسی نے حرام موت پر لاحول پڑھا تو کچھ لوگ یہ سوچتے رہے گئے کہ جن آستانوں پر لوگ اپنے مسائل کا تلاش کرنے اور اپنے ذہنی انتشار اور قلبی اختلاج کے علاج کے لئے آتے ہیں۔ جن سجادوں اور متولیوں کو وہ اولیائے کرام کے جانشین سمجھتے ہوئے ان سے دعائیں کرواتے ہیں‘ جب یہی اپنے مسائل سے گھبراکر خودکشی کرلیتے ہیں تو پھر عام آدمی کیا کرے!
فیصل علی شاہ اور سوشانت سنگھ راجپوت دونوں کی موت کے چرچے ہیں۔ سوشانت سنگھ ایک فلم اسٹار تھے‘ اس کی موت پر کم از کم ہمیں اس لئے افسوس نہیں ہے کہ اس کا ماحول، صحبت، حلقہ احباب، زندگی گذارنے کا ڈھنگ شریفانہ نہیں تھے۔ کئی لڑکیوں سے تعلقات علی الاعلان بغیر شادی کے ایک ساتھ رہا کرتے تھے۔ بے پناہ دولت تھی‘ سنبھالی نہیں گئی۔ ڈرگس کے عادی ہوگئے۔ جانے کن کن امراض میں مبتلاہوئے۔ بہرحال جو بھی حالات تھے اس کا شکار ہوکر یا تو انہوں نے خودکشی کی یا پھر قتل کئے گئے‘ انہیں وہ تعلیم ہی نہیں ملی‘ جس سے انہیں پتہ چلتا کہ خودکشی حرام ہے۔
فیصل علی شاہ کی پیدائش، پرورش بلکہ ان کی زندگی کا زیادہ تر حصہ اللہ والوں کے آستانے اور اللہ والوں کی صحبت میں گذرا۔ خانقاہی نظام میں زندگی گذار دی۔ خود ان کا مطالعہ غیر معمولی تھا۔ ان کی اپنی ذاتی لائبریری میں نادار و نایاب کتابوں کا ذخیرہ تھا۔ اگر ان جیسی شخصیت خودکشی کرتی ہے تو افسوس بھی ہوتا ہے اور تکلیف بھی۔ اس لئے کہ جن اولیائے کرام کی تعلیمات کو وہ عام کرتے رہے۔ عین آزمائشی حالات میں انہی تعلیمات سے انحراف کیا۔ اس کا قوم پر اچھا اثر نہیں پڑتا۔
خودکشی ہر دور میں بزدلوں کی بہادری رہی ہے۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ مایوسی، عدم تحفظ اور محرومی کا احساس کبھی کبھی اس قدر شدت سے ہوتا ہے کہ انسان اس سے بچنے کے لئے موت کی آغوش میں پناہ لینے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ احساس چند لمحوں کا ہوتا ہے۔ اگر اُن چند لمحوں پر قابو پالیا جائے تو خودکشی کا ارادہ ا حساس ندامت میں بدل جاتا ہے۔ خودکشی کرنے والے سماج کے وہ لوگ بھی ہیں جو غربت، فاقہ کشی، قرض، اپنوں کی بے رخی اپنے بچوں کے تاریک مستقبل سے تنگ آکر یا گھبراکر اپنے آپ کو ختم کرلیتے ہیں۔کچھ کچی عمر اور نادانی کی وجہ سے عشق میں ناکامی، یا والدین کی مخالفت، سماج کے ڈر کی وجہ سے کبھی تنہا تو کبھی ساتھ جئیں گے ساتھ مریں گے کے وعدہ کے ساتھ فلمی انداز میں موت کو گلے لگالیتے ہیں۔ تعلیم کے میدان میں ناکامی، بیروزگاری، لاعلاج بیماری بھی ایک وجہ ہوسکتی ہے۔ فصل کی خرابی، بینکوں کا قرض کسانوں کی خودکشی کا سب سے بڑا سبب بنا۔ نوٹ بندی کے بعد کے حالات نے بے شمار افراد کو خودکشی کے لئے مجبور کیا۔مگر سماج کا وہ طبقہ جسے خدا نے ہر نعمت سے نوازا، دولت، عزت، شہرت، سب کچھ ملنے کے باوجود وہ جب ذہنی سکون سے محروم ہوجاتے ہیں تو عارضی سکون کے لئے ڈرگس کا سہارا لیتے ہیں۔ اور اسی کے نشہ میں کبھی وہ اپنی زندگی کو داؤ پر لگادیتے ہیں۔ حالیہ عرصہ کے دوران بے شمار ٹاپ بزنسمین، صنعت کار، فلمی اداکاروں نے خودکشی کی ہے۔ ان کے پاس سب کچھ تھا‘ نہیں تھا تو صرف ذہنی سکون۔ دولت کی بھرمار تھی‘ مگر قلبی طمانیت کی قلت لاکھوں پرستاروں کی بھیڑ ان کی جھلک دیکھنے کے لئے ترستی رہتی مگر وہ خود ایک ایسے فرد کی تلاش میں جو ان کی دولت سے نہیں بلکہ ان سے محبت، ہمدردی اور وابستگی رکھتا ہو۔ کبھی کسی کو بے پناہ دولت، شہرت مل جاتی ہے اور جب زندگی کے نشیب و فراز آتے ہیں تو وہ کامیابی کی بلندی پر جانے کے بعد پستی میں نہیں آنا چاہتا۔ اس کے مقابلے میں وہ موت کو ترجیح دیتا ہے۔ کئی فلمی اداکاروں نے محض اس لئے خودکشی کرلی۔
اِن دنوں خودکشی بھی ایک فیشن بن گیا ہے۔ سوشیل میڈیا نے موت کو کھیل میں بدل دیا۔ کتنے نوجوانوں نے سیلفی لینے کی خواہش میں اپنی جان گنوادی۔ اسے بھلے ہی خودکشی نہ کہیں مگر یہ خودکشی سے کم نہیں۔ ٹک ٹاک، بلووہیل گیم نے کتنے نوجوانوں کوخودکشی کے لئے مجبور کیا۔ نوجوانوں نے تو اپنی خودکشی کو اپنے موبائلس کے ذریعہ لائیو ٹیلی کاسٹ بھی کیا۔ حال ہی میں حکومت ہند نے پب جی گیم پر پابندی عائد کی تو اس کے صدمے سے دو نوجوانوں نے خودکشی کرلی۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق 2019 میں 90ہزار نوجوانوں نے خودکشی کی ہے۔ جن میں 10ہزار سے زائد طلبہ ہیں۔ روزانہ اوسطاً 26طلبہ خودکشی کرتے ہیں۔ اور ہر ہندوستان میں 90منٹ میں ایک نوجوان خودکشی کی کوشش کرتا ہے جبکہ عالمی سطح پر نوجوانوں کے خودکشی کی شرح 14.5فیصد ہے۔
ترقی یافتہ ممالک جہاں دولت کی ریل پیل ہے‘ جہاں آبادی کی اکثریت تعلیم یافتہ ہے۔ وہاں سب سے زیادہ خودکشی کے واقعات پیش آتے ہیں۔ ان ممالک میں ماں باپ اپنے بچوں پر پیسہ تو خرچ کرتے ہیں مگر انہیں اپنا وقت نہیں دے سکتے۔ ماں باپ کی توجہ نہ ملنے کی وجہ سے بچوں میں عدم تحفظ اور محرومی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ اسی کے ساتھ وہ بڑے ہوتے ہیں اور اپنے ذہنی سکون کے لئے مختلف وسائل تلاش کرتے کرتے اکثر موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں۔ اُسی طرح یہی بچے جب بڑے ہوتے ہیں تو اپنے ماں باپ پر توجہ نہیں دے سکتے اور انہیں بیت المعمرین House for aged میں چھوڑ دیتے ہیں۔ کوئی ہفتہ میں یا مہینہ میں ایک بار یا سال میں دو بار چند گھنٹے ماں باپ کے لئے دیتا ہے۔ یہ ماں باپ تنہائی سے بیزار ہو کر بھی خودکشی کرلیتے ہیں۔ شکاگو میں مقیم ممتاز ماہر نفسیات اور عظیم باکسر محمد علی کلے مرحوم کے نفسیاتی مشیر ڈاکٹر محمد قطب الدین کے الفاظ میں بچے کی ابتداء ہی سے اس طرح سے پرورش اور تربیت کی جائے کہ وہ ہر قسم کے چیالنجس کا سامنا کرنے کے لئے تیار رہیں۔ کسی بھی معاملہ میں اس پر دباؤ نہ ڈالا جائے۔ اللہ رب العزت نے ہر بچے میں کوئی نہ کوئی صلاحیت دی ہے‘ وہ اپنی صلاحیت کو اپنی توانائی کے مطابق تلاش کرتا ہے۔ کوئی تعلیم میں تو کوئی کھیل کود میں تو کوئی تخلیقی صلاحیت میں اپنے آپ کو منواتا ہے۔ اِن دنوں ہندوستان میں یہ عادت ایک وباء کی طرح عام ہوگئی ہے کہ والدین چاہتے ہیں کہ ان کے بچے ٹاپ رینک لائیں مسابقتی امتحانات میں کسی سے پیچھے نہ رہیں۔ اِس دباؤ کی وجہ سے جو بچے اوسط معیار کے ہوتے ہیں‘ وہ ڈر اور شرم کی وجہ سے خودکشی کی طرف مائل ہوجاتے ہیں۔ جبکہ ماں باپ کو سوچنا چاہئے کہ جو بچے تعلیم میں آگے نہیں بڑھ سکتے وہ اسپورٹس کے میدان میں اپنے آپ کو منواسکتے ہیں۔ اسپورٹس ہر بچے کے لئے لازم ہے۔ اس میں جسمانی افزائش کے ساتھ دماغی صلاحیت پروان چڑھتی ہے۔ شکست کا مسکراکر سامنا کرنے کا حوصلہ اوردوسروں کی کامیابی کو خندہ پیشانی سے قبول کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے جو اُسے زندگی میں ہر قدم پر آگے بڑھانے میں کام آتا ہے۔ ابتداء ہی سے بچے کو زندگی کی اہمیت سے واقف کروانا چاہئے۔ اُسے یہ احساس دلانا چاہئے کہ آپ اُسے چاہتے ہیں۔ وہ آپ کے لئے بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ اس کے بغیر آپ کا وجود ادھورا ہے۔ اولاد میں کبھی تفریق یا امتیاز نہیں کرنا چاہئے۔ کسی کو زیادہ اہمیت دی جائے تو دوسرے بچے احساس کمتری کا شکار ہوتے ہیں۔ ان میں نفرت، دشمنی، انتقام کا جذبہ پیدا ہوتا ہے جس کی انتہا اکثر کسی کو ختم کرتے ہیں یا خود ختم ہوجاتے ہیں۔ زندگی کی اہمیت کیا ہے‘ ہر انسان کس قدر اہمیت کا حامل ہے‘ سمجھایا جائے۔ ناکامی کو کامیابی کا پہلا زینہ بتایا جائے تاکہ ناکامیوں کے باوجود بچے حوصلہ نہ کھوئیں۔ ڈاکٹر محمد قطب الدین نے جو ترکی کے صدر طیب رجب اردغان کے قریبی حلقہ احباب میں شامل ہیں‘ اور گذشتہ 40برس سے امریکہ میں لاکھوں غیر ملکیوں کا نفسیاتی علاج کرچکے ہیں۔ بتایا کہ الحمدللہ! مسلمانوں میں خودکشی کا تناسب بہت کم ہے اس کی وجہ اللہ رب العزت پر کامل بھروسہ، مذہبی تعلیم ہے۔ اللہ پر بھروسہ رکھنے والا صبر کرتا ہے اور صابر ہر قسم کے آزمائشی حالات سے کامیابی کے ساتھ گذر جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خودکشی کا ارادہ اک لمحہ کے لئے آتا ہے۔ وہ ایک لمحہ پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔ اکثربچے، نوجوان اگر ڈپریشن کا شکار نظر آئیں تو ان کے ساتھ پوری ہمدردی سے پیش آتے ہوئے اس کی وجہ معلوم کرنے کی ضرورت ہے۔ضرورت پڑنے پر کونسلنگ کروائی جائے۔ عام طور پر ہم اسے نظر انداز کردیتے ہیں۔جس کا خمیازہ ہمیں بھگتنا پڑتا ہے۔ ماں باپ کے ساتھ ساتھ ٹیچرس، دوستوں، رشتہ داروں پر بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ہمیں مثبت اور تعمیری رویہ اختیار کرے۔طنز، لعن و طعن یا حقارت آمیز لہجہ، امتیازی رویہ، اکثر کمزور ارادوں اور حواس کے افراد کو تباہی کے دہانے تک پہنچا دیتاہے۔ بنیاد مضبوط ہو تو ایمان بھی مضبوط ہوتا جس کا ایمان مضبوط ہے وہی کامیاب ہے۔ بہرحال ہماری زندگی اللہ کی امانت ہے‘ اس کی رضا کے لئے جینا ہے‘ اور اس کی رضا لحاظ سے ہی موت کی آرزو کرنی چاہئے۔ اللہ رب العزت ہم سب کو غیر فطری موت سے محفوظ رکھے آمین۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)