نفرت پر مبنی حملے میں ہلاک ہونے والے پاکستانی خاندان کی تدفین،سیکڑوں افراد کی شرکت،پیدل مارچ

لندن :کینیڈا کے صوبے اونٹاریو کے شہر لندن میں گزشتہ اتوار نفرت پر مبنی حملے میں ہلاک ہونے والے پاکستانی نژاد خاندان کے چار افراد کو سپردِ خاک کر دیا گیا ہے۔ہلاک شدگان کی نمازِ جنازہ ہفتے کو لندن کے اسلامک سینٹر میں ادا کی گئی جس میں عزیز و اقارب اور مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد بھی موجود تھے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق کینیڈا میں پاکستانی ہائی کمشنر رضا بشیر تارڑ نے جنازے میں شریک افراد سے کہا کہ کینیڈا کے جھنڈے میں لپٹے ہوئے یہ جنازے اس بات کے گواہ ہیں کہ کینیڈا کی پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔حملے میں ہلاک ہونے والی خاتون مدیحہ بتول کے ماموں علی اسلام نے حاضرین کو بتایا کہ رنگ و مسلک سے قطع نظر، جذبات کا اظہار، دعائیں، آنسو، ہمارے جاننے والے اور اجنبی افراد کی طرف سے موصول ہونے والے پیغامات، زخموں کو بھرنے کی تلاش کی طرف پہلا قدم ہے۔دوسری جانب جمعے کو خاندان کے قتل کے خلاف ہزاروں افراد نے لندن (اونٹاریو) کی سڑکوں پر مارچ کیا۔ مارچ کا آغاز اس مقام سے کیا گیا جہاں خاندان پر حملہ کیا گیا تھا۔ شرکا نے سات کلو میٹر تک پیدل مارچ کیا اور نفرت پر مبنی حملے روکنے پر مبنی نعرے لگاتے رہے۔ شرکا نے ’نفرت پر غالب محبت‘، ‘یہاں نفرت کا کوئی گھر نہیں جیسے پلے کارڈز تھام رکھے تھے۔واضح رہے کہ گزشتہ اتوار پیش آنے والے واقعے میں 20 سالہ شخص نتھانیل ویلٹمن نے کینیڈا کے صوبے اونٹاریو کے شہر لندن میں فٹ پاتھ پر ٹرک چڑھا کر مسلم خاندان کے چار افراد کو ہلاک جب کہ ایک کو شدید زخمی کر دیا تھا۔مرنے والوں میں 46 سالہ سلمان افضال، ان کی 44 برس کی بیوی مدیحہ، بیٹی 15 سالہ یمنیٰ اور سلمان کی 74 سالہ والدہ طلعت افضال بھی شامل تھیں جب کہ سلمان کا نو سالہ بیٹا فائز سلمان واقعے میں زخمی ہو گیا تھا۔پولیس رپورٹ کے مطابق حملہ آور نتھانیل ویلٹمن لندن شہر کا ہی رہائشی ہے جس نے جان بوجھ کر رکاوٹ عبور کی اور چوراہے پر سگنل کے انتظار میں کھڑے خاندان کو اپنے ٹرک سے روند ڈالا۔ واقعے کے فوری بعد پولیس نے نتھانیل کو قریبی پارکنگ لاٹ سے گرفتار کر لیا تھا۔ادھر حملے میں زندہ بچ جانے والے نو سالہ بچے فائز سلمان کے بہتر مستقبل کے لیے چلائی جانے والی عطیہ مہم میں اب تک آٹھ لاکھ 50 ہزار سے زائد کینیڈین ڈالر جمع ہو چکے ہیں۔اس مہم کاآغاز واقعے میں ہلاک ہونے والے سلمان کے دوست نے کیا تھا۔ گو فنڈ می کے نام سے چلائی جانے والی مہم کے لیے اب تک درجنوں افراد اپنے عطیات دے چکے ہیں۔اس واقعے کے بعد ہر طبقہ فکر کی جانب سے افسوس کا اظہار کیا جا رہا تھا۔