نفرت کاچکر ویو : جو بویا وہی کاٹنا پڑے گا -ڈاکٹر عابدالرحمن

 dr.abidurrehman@gmail.com
’ جس کی بات ایک نہیں ،اس کاباپ ایک نہیں‘ یہ انتہائی نیچ بات اکھل بھارتیہ ہندو مہاسبھا نے عزت مآب وزیر اعظم نریندر مودی جی کے متعلق کہی ۔ ہندو مہاسبھا دراصل مودی جی کے ذریعے زرعی قوانین کی واپسی سے ناراض ہے ۔ اس نے اپنے علی گڑھ دفتر سے مودی جی کی تصویر ہٹادی ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ ایسے نیتا کی تصویر ہم اپنے کاریالیہ میں نہیں لگائیں گے جو اپنی ہی بات سے پلٹ جائے ۔ ان کا کہنا ہے کہ جس طرح سرکار نے تینوں زرعی قوانین واپس لئے ہیں اس سے ایسا لگتا ہے کہ سرکار نے علیٰحدگی پسندوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ہیں، اب تک سرکار جن کسانوں کو الگاؤ وادی خالصتانی غنڈے کہہ رہی تھی انہی کے دباؤ میں یہ قوانین واپس لئے ہیں اس سے تو ایسا لگتا ہے کہ سرکار سی اے اے ، این آرسی اور دفعہ ۳۷۰ پر اپنا فیصلہ بھی واپس لے لے گی۔‘ ( جن ستا ۲۱ نومبر ۲۱) اسی طرح بالی ووڈ ادا کارہ کنگنا راناوت بھی مودی جی کے اس اقدام سے کافی ناراض بلکہ دکھی ہیں انہوں نے مودی جی کے اس اقدام کو شرمناک اور غیر منصفانہ قرار دیا ہے ۔ وہ مودی جی کے اس اقدام سے اس قدر تلملا اٹھی ہیں کہ انہوں نے سڑکوں پر احتجاج کرنے والوں کو قوانین بنانے والے کہہ کر ملک کو ’ جہادی دیش ‘ تک قرار دیا ہے( اے این آئی ۱۹،نومبر۲۰۲۱ )۔

مذکورہ دونوں نظریات اس لئے اہم ہیں کہ ان نظریات کے حامل دونوں مودی بھکتی میں سب سے آگے رہے ہیں ۔ گو کہ ہندو مہاسبھا کا وجود آزادی کے پہلے سے ہے لیکن یہ ۲۰۱۴ مودی جی کے اقتدار میں آّنے کے بعد سے ہی زیادہ خبروں میں آئی ہے ۔ کبھی اس نے گاندھی جی کے قاتل ناتھورام گوڈسے کا مندر بنایا تو کبھی اس کی پوجا ارچنا کی تو کبھی گاندھی جی کا پتلا بنا کر اس پر گولیاں چلائی گو کہ ناتھورام نے جو کیا تھا گاندھی جی کے فالورس کے ساتھ بھی وہی کرنے کا عندیہ دیا وغیرہ لیکن اس پر اب تک کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی مودی جی بھی خاموش رہے لیکن آج دیکھئے مودی جی اس کی خواہش سے تھوڑا ہٹے اور خود ہی اس کے نشانے پر آگئے اور اس نے اپنے محسن سے اختلاف کے اظہار کے لئے بھی وہی نیچ زبان کا استعمال کیا جو وہ اپنے مخالفین کے لئے کرتی آئی ہے۔دوسری کنگنا راناوت ہیں کہ وہ تو مودی بھکتی میں اتنی آگے چلی گئی تھیں کہ ابھی کچھ دنوں پہلے انہوں نے ’ اصل آزادی ۲۰۱۴ میں ملی ‘ کہہ کر نہ صرف تحریک آزادی کو مسترد کردیا تھا بلکہ تحریک آزادی کی مرکزی شخصیت بابائے قوم مہاتماگاندھی پرسیدھے سوال کھڑے کر کے گویا مودی جی کو ان کی جگہ مہاتما بنانے کی کوشش کی تھی ،لیکن جب مودی جی کی بات ان کی دماغی حالت کے بر خلاف ہو گئی تو یہ مہاتما بھی اسی طرح ان کے نشانے پر آگیا جس طرح اس مہاتما کی محبت میں اصل مہاتما کو انہوں نے نشانہ بنایا تھا اور ان کے منھ سے اس مہاتما کے لئے بھی وہی الفاظ نکلے جو اس سے اختلاف کرنے والوں کے لئے نکلا کرتے تھے۔ یہ سب اس لئے ہوا کہ مودی جی نے اقتدار میں آنے کے بعد سے اسی کی آبیاری کی ہے ۔ لوگ ہندو مسلم کرتے رہے مودی جی خاموش رہے ، بلکہ انہوں نے خود بھی شمسان اور قبرستان کی سیاست دل کھول کر کی ، انہوں نے سی اے اے کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو کپڑوں سے پہچانے جانے کا طعنہ دیا تو ان کے حواری ان احتجاج کرنے والوں کو غدار کہنے لگے بلکہ ’گولی مارو سالوںکو‘ کے نعرے لگانے لگے سچ مچ فائرنگ تک بھی پہنچ گئے اور مودی جی خاموش رہے۔ ملک میں مسلمانوں کی ماب لنچنگ ہوتی رہی اور مودی جی خاموش رہے ۔

خود ان کی پارٹی کے لوگ ماب لنچنگ کرنے والوں کی حمایت میں آئے اور مودی جی خاموش رہے ۔ بات مسلمانوں سے آگے بڑھ کر مودی جی سے اختلاف کرنے والے ہندوؤں کی ٹرولنگ تک پہنچی تو بھی مودی جی خاموش رہے ۔ نفرت اور جھوٹ کے ذریعہ لوگوں کو اپنی حمایت اور اپنے سے اختلاف کرنے والوں کے خلاف اتنا ورغلایا گیا کہ ان کے اذہان ،جھوٹ نفرت گالی گلوچ دھمکیاں اور مارڈھاڑ کے سوا کچھ بھی سوچنے کے قابل نہیں رہے ۔ کسان آندولن ہی کی بات لے لیجئے خود مودی جی شروع ہی سے اس میں شامل لوگوں کو گمراہ کہتے آرہے ہیں ، انہیں زندہ رہنے کے لئے آندولن کا سہارا لینے والے ’آندولن جیوی‘ اور آندولن اور احتجاج کی دعوت اڑانے والے ’ پرجیوی‘ ( طفیلی parasites)کہا۔یہ بھی کہا کہ دہشت گرد نکسل اور فرقہ پرست اس آندولن کو اپنے فائدے کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔بس پھر کیا تھا ان کے حواریوں نے بھی آگے بڑھ کر احتجاج کررہے کسانوں کو خالصتانی علیٰحیدگی پسند ، دہشت گرد اور ٹکڑے ٹکڑے گینگ تک کہہ دیا ۔ ان احتجاجی کسانوں کی ضافت میں بھی حکومت نے پولس کی لاٹھی پانی کی دھار اور آنسوں گیس کے گولوں کا استعمال بھی بہت فراخ دلی سے کیا جس کی وجہ سے مودی جی کی حمایت میں کسانوں کی مخالفت کرنے والے لوگوں کے اذہان میں کسانوں کے تئیں اتنی نفرت بیٹھ گئی کہ اب جب آپ نے یو ٹرن لے کر زرعی قوانین واپس لینے کا اور کسانوں سے معافی مانگنے کا اعلان کیا تو یہ ورغلائے ہوئے اذہان اسے ایڈجسٹ نہیں کرپارہے ہیںاور ان کے نفرت بھرے ذہن خود مودی جی کے خلاف ابلے پڑ رہے ہیں۔ یہی نفرت کا چکر ویو ہے کہ جب اسے عروج حاصل ہوتا ہے ہر اس چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے جو اس کی راہ میں آجائے ، جو اس کے فکر و نظر سے ذرا بھی ہٹے پھر چاہے وہ اس کا موجد آقا و مولیٰ ہی کیوں نہ ہو ۔ ماضی قریب میں ہم اڈوانی جی کا حال دیکھ چکے ہیں کہ کس طرح جناح کو سیکولر کہنے کے بعد سے وہی لوگ ان کے مخالف ہو گئے تھے جن کو خود اڈوانی جی نے اپنے نظریہ اور فکر سے اختلاف کرنے والوں کی نفرت انگیز مخالفت کرنا سکھائی تھی ۔ ہم دیکھ چکے ہیں کہ کس طرح وزارت عظمیٰ کے لئے مودی جی کے انتخاب کے بعد یہی لوگ مودی جی کی حمایت میں نعرے بازی کرتے ہوئے اڈوانی جی کے گھر بھی پہنچ گئے تھے۔ یہ سلسلہ اسی طرح دراز ہوتا رہے گا ہر وہ شخص جو نفرت کا پرچار کرے گا خود ہی نفرت کے نشانے پر بھی آئے گا کیونکہ قدرت کا قانون ہے کہ آدمی کو وہی کاٹنا پڑتا ہے جو وہ بوتا ہے۔