نبی رحمت ﷺ کے معجزات – عظمیٰ حشمت

فاضلہ معہد عائشہ الصدیقہ ؓ قاسم العلوم للبنات دیوبند
لفظ ”معجزہ”کے معنی کسی چیز پر قادر نہ ہونا، کسی کام کی طاقت نہ رکھنا یا کسی امر سے عاجز آجانا وغیرہ ہیں۔ عجز کے اصلی معنی کسی چیز سے پیچھے رہ جانے یا اس کے ایسے وقت میں حاصل ہونے کے ہیں جبکہ اس کا وقت نکل چکا ہو۔ عام طور پر یہ لفظ کسی کام کے کرنے سے قاصر رہ جانے پر بولا جاتا ہے۔قاضی عیاض اپنی کتاب ”الشفاء” میں معجزہ کا مفہوم بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”یہ بات بخوبی جان لینی چائیے کہ جو کچھ انبیاء اپنے ساتھ لے کر آتے ہیں اسے ہم معجزے کا نام اس لئے دیتے ہیں کہ مخلوق اس کی مثل لانے سے عاجز ہوتی ہے۔”امام خازن معجزہ کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”معجزہ اللہ کے نبی اور رسول کی طرف سے (جملہ انسانوں کے لئے) ایک چیلنج ہوتا ہے اور باری تعالیٰ کے اس فرمان کا آئینہ دار ہوتا ہے کہ: میرے بندے نے سچ کہا، پس تم اس کی کامل اطاعت کرو، اس لئے کہ نبی اور رسول کا معجزہ جو کچھ اس نے فرمایا ہوتا ہے اس کی حقانیت اور صداقت پر دلیل ناطق ہوتا ہے۔علامہ شبلی نعمانی سیرۃ النبیﷺ جلد سوئم میں معجزہ کی تعریف یوں بیان کرتے ہیں: ”معجزہ اس خارق عادت چیز کو کہتے ہیں جو خدا کی طرف سے پیغمبر کی تصدیق کے لئے صادر ہو۔”معجزہ نبی یا رسول کا ذاتی نہیں بلکہ عطائی فعل ہے اوریہ عطا اللہ رب العزت کی طرف سے ہوتی ہے۔معجزہ من جانب اللہ ہوتا ہے لیکن اس کا صدور اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی کے ذریعے ہوتا ہے۔معجزے کا ظہور چونکہ رحمانی ہوتا ہے اس لئے عقل انسانی اس کے سامنے ماند پڑجاتی اور حقیقت کا ادراک نہیں کر سکتی۔انبیاء کرام پر ایمان لانے والوں کے حالات پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ معجزات کی طلب نیکوکاروں نے نہیں کی جیسا کہ آنحضرتﷺ سے حضرت ابوبکر و حضرت عمر نے معجزات طلب نہیں کئے بلکہ سرداران قریش و کفار قریش ابوجہل و ابو لہب نے طلب کئے۔قرآن کریم نے اس حقیقت کو پوری طرح تصریح کی ہے اور طلب معجزہ کے سوال کو ہمیشہ کفار کی طرف منسوب کیا ہے۔ ارشاد ربانی ہے:ترجمہ: ” اور (جن کو کتاب الٰہی کا) علم نہیں(کفار قریش) کہتے ہیں کہ کیوں خدا ہم سے خود بات نہیں کرتا، یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی۔”(سورہ بقر:۸۱۱)اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء کو اپنی قدرت کاملہ سے معجزات عطا فرمائے۔ نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفیﷺ کو بھی اللہ تعالیٰ نے نبوت کی دلیل کے طور پر بے شمار معجزات سے نوازا۔امام بیہقی فرماتے ہیں کہ آپ حضورﷺ کے معجزات ایک ہزار تک پہنچتے ہیں، امام نووی فرماتے ہیں کہ ایک ہزار دو سو تک پہنچتے ہیں مگر تمام معجزات کا بیان یہاں پر بہت دشوار ہے البتہ آپ ﷺ کے کچھ معجزات یہ تھے ؛قرآن پاک رسول اللہﷺ کا معجزہ:آں حضرتﷺ کے معجزات میں سب سے بڑا معجزہ قرآن کریم ہے جو علمی معجزہ ہے اور تمام انبیاء کے معجزات سے بڑھا ہوا ہے سب مانتے ہیں کہ علم کو عمل پر شرف ہے، یہی وجہ ہے ہر فن میں استادوں کی تعظیم کی جاتی ہے۔قرآن کریم آنحضرتﷺ کا علمی معجزہ ہے اور آپ کے معجزات میں عمدہ ترین معجزہ ہے ایسا معجزہ اور کسی پیغمبر کو عنایت نہیں ہوا، سب انبیاء اور مرسلین کے معجزہ ایک خاص وقت میں ظاہر ہوئے اور ختم ہوگئے اور معجزہ قرآن ایسا معجزہ ہے جو کبھی زوال پذیر نہیں ہوتا،ابتدائے نزول سے لیکر آج تک اسی طرح بلا تغیر وتبدل باقی اور محفوظ ہے اور انشاء اللہ قیامت تک اسی طرح باقی رہیگا جس طرح آپ ﷺ پر نازل ہوا تھا،قرآن کریم کو زندہ جاوید معجزہ کہنے کی چند وجوہات یہاں ذکر کی جارہی ہیں؛پانی سے متعلق معجزات:انگلیوں سیپانی کاچشمہ؛صحیحین میں حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ مقام حدیبیہ میں صحابہ کرام کو پیاس کی شدت محسوس ہوئی،نبی کریمﷺ کے پاس ایک لوٹا تھا جس سے آپﷺ نے وضو فرمایا تھا لوگوں نے عرض کیا کہ ہمارے لشکر میں پینے اور وضو کرنے کے لیے بالکل پانی نہیں ہے بس وہی تھوڑا سا پانی ہے جو آپ کے لوٹے میں وضو سے بچ گیا، آنحضورﷺ نے اپنا مبارک ہاتھ لوٹے میں ڈال دیا تو آپﷺ کی انگلیوں سے چشمے کی طرح پانی ابلنے لگا،تمام صحابہ نے وضو کیا اور خوب پانی پیا، حضرت جابرؓ سے پوچھا گیا کہ اس لشکر میں کتنے آدمی تھے انہوں نے کہا کہ ہم لوگ پندرہ سو آدمی تھے؛ لیکن ایک لاکھ ہوتے تب بھی یہ پانی کافی ہوجاتا، اس طرح کا معجزہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے بھی ظاہر ہوا تھا کہ چھڑی مارتے ہی پتھر سے پانی کے چشمے نکل پڑے تھے؛ لیکن آنحضور ﷺکا یہ معجزہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے بھی افضل ہے کیونکہ عام طور پر عادۃ پتھروں سے پانی نکلا ہی کرتا ہے جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا:وَإِنَّ مِنَ الْحِجَارَۃِ لَمَا یَتَفَجَّرُ مِنْہُ الْأَنْہَارُ وَإِنَّ مِنْہَا لَمَا یَشَّقَّقُ فَیَخْرُجُ مِنْہُ الْمَائُ۔(البقرۃ:۴۷)بے شک بعض پتھر ایسے ہیں کہ ان میں سے پانی کے چشمے نکلتے ہیں،بعض پتھر پھٹ جاتے ہیں اور ان میں سے پانی بہہ نکلتا ہے۔لیکن گوشت پوست سے پانی نکلنا کبھی نہیں ہوتا اس لیے آنحضور ﷺ کا یہ معجزہ بہت عجیب ہے پھر وہاں عصاکو پتھر پر مارنے سے پانی نکلتا تھا اور یہاں دست مقدس کی انگلیاں چشموں کا کام دیرہی تھیں یہ حضورﷺ کے معجزے کی امتیازی شان ہے۔صحیحین میں حضر ت انسؓ سے وایت ہے کہ نبی کریمﷺ مدینہ کے قریب مقام روا پر تشریف فرما تھے،آپ کی خدمت میں پانی کا ایک برتن لایاگیاآپﷺ نے اپنا مبارک ہاتھ برتن میں رکھ دیا؛ چنانچہ آپﷺ کی مبارک انگلیوں سے پانی کا فوارہ ابلنے لگا تین سو کے قریب آدمی تھا سب نے اس پانی سے وضو کیا۔آگ سے متعلق معجزات:ہانڈی چولہے پرسے نہ اتارنا؛صحیحین میں حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ ہم غزوۂ خندق کے موقع پر خندق کھود رہے تھے کہ ایک سخت پتھر اس میں آنکلا جو کسی طرح ہم لوگوں سے نہ ٹوٹ سکا،آنحضورﷺ کو جب خبر ہوئی توآپﷺ تشریف لائے اور خندق میں اترے؛حالانکہ آپ تین دن کے بھوکے تھے اورآپ کے پیٹ پر پتھر بندھے ہوئے تھے، آپ ﷺنے ایک کدال اس پتھر پر ماری تو ریت کے ٹیلے کی طرح وہ ریزہ ریزہ ہوگیا،حضرت جابر کا بیان ہے کہ اس کے بعد میں نے اپنے گھرآکر بیوی سے پوچھا کہ کچھ کھانے کا انتطام ہوتو بتاؤ، میں نے آنحضورﷺ کو بہت بھوکا دیکھا ہے، انہوں نے کوئی پونے تین سیر جو نکالے اور ایک بکری کا بچہ تھا اس کو ذبح کیا، میری بیوی نے جَو کا آٹا پیسا اور گوشت کی ہنڈیا چولہے پر چڑھادی،ادھر میں نے آنحضورﷺ کی خدمت میں چپ کے سے عرض کیا یارسول اللہ آپ چند آدمیوں کو اپنے ہمراہ لے کر میرے یہاں تشریف لے چلیں ایک بکری کا بچہ ذبح کیا ہے اور تھوڑا سا جو کا آٹا ہے، آنحضورﷺ نے بآواز بلند تمام لوگوں میں اعلان فرمادیا کہ اے خندق کھودنے والو جابر نے تمہاری دعوت کی ہے،حضرت جابرؓ کے گھر جلدی چلو اس کے بعد آپﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ جب تک میں نہ آؤں ہانڈی چولہے پر سے نہ اتارنا اور روٹی بھی پکوانی نہ شروع کرنا پھر آپﷺ تشریف لائے اور لعاب دہن مبارک گوندھے ہوئے آٹے میں اور ہانڈی میں ڈال کر دعا فرمائی اس کے بعد آپ نے روٹی پکانے والی کو بلوایا اور ہدایت فرمائی کہ ہانڈی کو چولہے پر سے نہ اتارنا اور پیالے بھر بھر کے کھلاتے رہنا؛چنانچہ ایسا ہی کیاگیا، حضرت جابرؓ کا بیان ہے کہ خندق والے ہزار آدمی تھے خدا کی قسم! سب نے خوب آسودہ ہوکر کھایا اور پھر بھی ہانڈی بھری ہوئی اسی طرح جوش ماررہی تھی اور آٹے میں سے بھی کچھ کم نہ ہوا تھا۔اس واقعہ میں حضورﷺ کا یہ بھی معجزہ تھا کہ پتھر آپ کی ضرب سے ریت ریت ہوگیا نیز کھانے میں بڑی برکت ہوئی اور آگ کے اثر سے نہ پتیلی کا سالن خشک ہوا اور نہ جلا؛ اگرچہ آگ کی خاصیت خشک کردینے اور جلادینے کی ہے؛ لیکن یہ نبی کریمﷺ کا معجزہ اور آپﷺ کے مبارک لعاب دہن کی برکت تھی کہ جابر کی ہنڈیا بالکل محفوظ رہی،حضورﷺ کے اس معجزے کا تعلق آگ سے تھا۔آسمان سے متعلق معجزات:چاند کے دو ٹکڑے(معجزۂ شق القمر)صحیحین اور دوسری معتبر کتب احادیث میں مشہور اور متواتر روایتوں سے یہ واقعہ ثابت ہے کہ ہجرت سے پہلے مکہ معظمہ میں ابوجہل،ولید بن مغیرہ اور عاص بن وائل وغیرہ کفار نے جمع ہوکر نبی کریمﷺ کی خدمت میں یہ سوال اٹھایا کہ اگر تم سچے ہو تو چاند کے دو ٹکڑے کر دکھاؤ،آنحضورﷺ نے فرمایا اگر میں ایسا کردوں تو کیا تم ایمان لاؤگے،سب نے کہا ہاں،چنانچہ آنحضورﷺ نے اللہ تعالی سے دعا کی کہ یہ چاند دو ٹکڑے ہوجائے،آپﷺ کی دعا قبول ہوئی،آپ نے چاند کی طرف اشارہ فرمایااور چاند کے دو ٹکڑے ہوگئے،آپﷺ نے ہر کافر کو نام لے کر پکارا اور کہا اے فلاں گواہ رہنا اے فلاں گواہ رہنا، سب لوگوں نے چاند کے ٹکڑے اچھی طرح دیکھ لیے دو ٹکڑے ایک دوسرے سے اتنی دوری پر ہوگئے تھے بیچ میں ہرا پہاڑ نظر آرہا تھا،مشرکین مکہ نے اس پر کہاکہ یہ تو جادو ہے، ابوجہل نے کہا ہم اس معاملہ کی مزید تحقیق کریں گے اگر یہ جادو ہوگا تو صرف ہم لوگوں پر ہی ہوسکتا ہے جو لوگ یہاں موجود نہیں ہیں دوسرے شہروں اور ملکوں میں ہیں ان پر تو جادو نہیں ہوسکتا،اس لیے باہر سے جولوگ آئیں ا ن سے معاملہ کی تحقیق کرنی چاہیے؛چنانچہ دور دراز کے ے لوگ آیا کرتے تھے اور ان سے جب چاند کے دو ٹکرے ہونے کا حال پوچھا جاتا تو وہ سب اقرار کرتے کہ ہاں ہم نے بھی چاند کے دوٹکڑے ہوتے دیکھا ہے، یہ معجزہ آنحضورﷺ کا اتنا بڑا ہے کہ اس کے بارے میں قرآن کی یہ آت نازل ہوئی:اقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ، وَإِنْ یَرَوْا آیَۃً یُعْرِضُوا وَیَقُولُوا سِحْرٌ مُسْتَمِرٌّ(القمر۱،۲)قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا اور اگر یہ لوگ کوئی معجزہ دیکھتے ہیں تو رو گردانی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو چلتا ہوا جادو ہے۔اب یہ چیز ممکن ہی نہیں؛بلکہ ناممکن ہوگئی کہ آسمان اور سارے عالم کی حالت بدل سکتی ہے؛ لیکن کفار کا عجب حال ہے کہ بت پرستی وغیرہ جو عقل کے بالکل خلاف ہے اس کو تو مانتے ہیں؛ لیکن کوئی سچا معجزہ اور نشانی ظاہر ہوتو اس کو جادو وغیرہ کہہ کر رد کریتے ہیں۔آنحضورﷺ کا یہ معجزہ صرف عرب میں ہی نہیں؛بلکہ تمام دنیا میں دیکھاگیا۔اس کے علاوہ نبی رحمت ﷺ کے ذات مبارکہ سے بہت سے معجزات کا ظہور ہوا ۔تحریر کو طوالت سے بچانے کے لئے ہم انہیں معجزات کے تذکرے پر اکتفا کرتے ہیں ۔دعا گو ہوں کہ رب کریم ہمیں نبی اکرم ﷺ کی سیرت مبارکہ کو جاننے کی اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین ثم آمین

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*