نبی رحمتﷺ کے اخلاق وعادات-عفت ندیم الواجدی

پرنسپل معہد عائشہ الصدیقہ قاسم العلوم للبنا ت دیوبند
یہ ربیع الاول کامبارک مہینہ ہے اس ماہ مبارک میں سرور عالم محسن کائنات سرکار دو جہاں رحمت للعالمین ﷺ دنیا میں تشریف لائے۔ انہوں نے انسانوں کو زندگی گزارنے کا جو دستور عطا کیا وہ صرف زبانی دستور نہیں تھا بلکہ آپ نے اس دستور کے ایک ایک حکم پر اور اس کے ایک ایک پہلو پرپہلے خود عمل فرمایا ،پھر لوگوں کو اس پر عمل کرنے کی تلقین فرمائی آپ ﷺ نے اس دستور پر عمل کرکے یہ اعلان فرمایا کہ اگر کوئی اس کا عملی نمونہ دیکھنا چاہے تو وہ میری زندگی میں دیکھے اللہ تعالی کا ارشاد بھی ہے لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہ اُسْوَۃٌ حَسَنَہْ ۔’’بیشک اللہ کے رسول کی حیات طیبہ میں ہمارے لئے بہترین نمونہ اور اسوہ ہے ‘‘رسول اللہ ﷺ کی مبارک زندگی میں ہمارے لیے مکمل رہنمائی موجود ہے قرآن کریم ساری انسانیت کے لیے نسخۂ شفا اور پیغام ہدایت ہے اور آپ ﷺ کی مکی زندگی کا ایک بہترین عملی نمونہ ہے ،اللہ تعالی نے اپنے بندوں کےلیے قرآن کریم ہی نازل نہیں فرمایا بلکہ اس کی تبلیغ کرنے کے لیے اپنے برگزیدہ اور محبوب بندے کو آخری پیغمبر کے طور پر منتخب کیا تاکہ وہ اس پر پہلے خود عمل کرکے دکھلائیں پھر آپ پر ایمان لانے والے آپ کی زندگی کو اپنے لئے نمونہ عمل مان کر عمل پیرا ہوں اس وقت دنیا جن حالات سے گذر رہی ہے اور انسانی آبادی ساری ترقیات اور تمام تر سہولتوں کے باوجود جن خطرات میں گھری ہوئی ہے اس کا علاج اگر کہیں ہے تو وہ اسی پیغام محمدی اور اسی دستور حیات میں ہے اس میں نہ کالے گورے کا فرق رکھا گیا ہے اور نہ عربی عجمی کا نہ امیر وغریب کا نہ بادشاہ اور فقیر کا، حضور اکرم ﷺ نے اپنے آخری حج کے موقع پر مقام عرفات میں جو تاریخی خطبہ ارشاد فرمایا اس میں واضح طور پر یہ اعلان فرمایا کہ :’’اے لوگوں آگاہ رہو تمہارا رب ایک ہے اور بیشک تم ایک آدم کی اولاد ہو کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر کسی کالے کو کسی گورے پر کسی گورے کو کسی کالے پر کوئی فضیلت نہیں ہے سوائے تقویٰ کے، مطلب یہ ہے کہ ایمان اور اللہ کا خوف وخشیت اور اس کا تقویٰ ایک ایسی صفت ہے کہ وہ اگر کسی کے اندر پائی جائے تو وہ قابل تعریف ہے، اسے ان لوگوں پر فضیلت حاصل ہے جو ایمان اور اعمال صالحہ سے محروم ہیں باقی اور کوئی وجہ فضیلت کی نہیں ہے ،آپ ﷺ نے ارشادفرمایا کہ: الناس کلّہم بنو آدم وآدم خلق من تراب۔ ’’تمام لوگ آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے پیدا کیے گئے ہیں اس طرح اسلام نے ہر قسم کے امتیازات ،ذات ،رنگ ونسل ،جنس زبان ،حسب نسب اور مال ودولت پر مبنی تمام تعصبات کو جڑ سے اکھاڑ دیا اور تاریخ انسانیت میں پہلی بار تمام انسانوں کو ایک دوسرے کے برابر قرار دے دیا۔ ورنہ آپ سے پہلے کی دنیا میں ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان بہت زیادہ تفریق تھی بہت زیادہ فرق ِ مراتب تھا ،بہت سے لوگ اپنے حسب نسب اپنے مال ودولت اور جاہ ومنصب اپنے رنگ ونسل اور اپنی زبان وغیرہ کی بنا پر دوسروں کو حقیر اور کمزور تصور کرتے تھے، انسانی مساوات کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہوسکتی ہے کہ 14سو سال سے برابر دنیا بھر کے مسلمان مختلف ملکوں سے آکر ہر سال مکہ مکرمہ میں حج کا فریضہ ادا کرتے ہیں ان کا لباس ایک ہوتا ہے ان کا طور طریقہ ایک ہوتا ہے ان کے اعمال وافعال ایک جیسے ہوتے ہیں حالانکہ ان کا تعلق مختلف ملکوں کی مختلف نسلوں سے ہوتا ہے ان کی زبانیں مختلف ہوتی ہیں ،ان کے رنگ الگ الگ ہوتے ہیں، مگر ان کی زبان پر ایک ہی نعرہ ہوتاہے اور دل میں بھی ایک ہی جذبہ ہوتا ہے ،اسلام نے عزت وشرف اور سربلندی کا معیار امارت ،غربت قوم اور قبیلے کو نہیں بلکہ حسن کردار اور اعلیٰ اخلاق کو بنایا ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :یَا ایُّہَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنَاکُمْ مِنْ ذَکَر وَّاُنْثٰی وَجَعَلْنَاکُمْ شُعُوْباً وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوْا اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ ’’اے لوگوں ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور تمہیں پہچان اور شناخت کے لیے مختلف قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کردیا ہے، تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی اور پرہیز گار ہو ،اس تخلیقی برابری کی وجہ سے تمام انسان آپس میں بھائی بھائی ہیں ،الگ الگ قوموں کا جدا جدا خاندانوں اور قبیلوں کا مقصد یہ ہے کہ انسانوں کو باہمی تعلقات میں سہولت اور آسانی ہو، کنبے اور قبیلے کے ذریعہ کسی کی تحقیر اور تذلیل کرنے کی ہر گز اجازت نہیں ہے ،اسلام نے تفریق اور امتیاز اور بھید بھائو کی خاردار جھاڑیوں کو ہمیشہ کے لئے کاٹ کر پھینک دیا ہے ،یاد رکھئے محسن انسانیت کے پیغام کو ماننا ہی ساری دنیا کے لیے باعث نجات ہے ،بھٹکے ہوئے انسانوں کے لیے اس پیغام میں منزل کا راستہ ملتا ہے ،اسی میں دکھی انسانیت کے لیے پیغام مسرت ہے ،اسی میں سب کے لیے چین وسکون ہے ،مرد وعورت بوڑھے جوان ،کنبے خاندان ،حاکم محکوم سب کے لئے اگر سامان راحت کہیں ہے تو وہ اسی پیغام محمدی میں ہے ،آپ کی عطا کردہ تعلیم سے نسلی اور قبائلی برتری کے تمام بت پاش پاش ہوچکے ہیں۔جناب رسول اللہ ﷺ کا فرمان مبارک ہے :بعثت لاتمم مکارم الاخلاق ۔مجھے اس لیے دنیا میں پیغمبر بناکر بھیجا گیا ہے تاکہ میں اچھے اخلاق کی تکمیل کروں ،یہ تکمیل اخلاق کس لیے فرمائی ،عمل کے ذریعہ اور دوسروں کی تبلیغ کے ذریعہ رسول اللہ ﷺ کے اخلاق عالیہ ،اوصاف جمیلہ ،عادات کریمہ اور فضائل شریفہ کا ذکر ایک صحابی نے کیا ہے جن کا نام ہند بن ابی ہالہ ہے یہ ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ ؓکے بیٹے حضرت فاطمہ ؓکے بڑے بھائی اور حضرت حسن ؓوحسین ؓکے ماموں تھے ،انہوں نے نہایت جامع اور بلیغ انداز میں جناب رسول اللہ ﷺ کے اخلاق وعادات کا نقشہ کھینچا ہے ،فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ طبعی طور بدکلامی ،بے حیائی اور بے شرمی سے دور تھے اور تکلفا بھی آپ سے ایسی کوئی بات سرزرد نہیں ہوتی تھی ،بازاروں میں آپ کبھی اپنی آواز اونچی نہیں فرماتے تھے ،برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے تھے بلکہ عفو ودرگزر کا معاملہ فرماتے ،آپ نے کسی پر ہاتھ نہیں اٹھایا سوائے جہاد فی سبیل اللہ کے موقع پر یہاں تک کے آپ نے کسی نوکر یا کسی عورت پر بھی دست درازی نہیں فرمائی ،میں نے آپ کو کسی ظلم وزیادتی کا انتقام لیتے ہوے کبھی نہیں دیکھا ،جب تک کہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کی خلاف ورزی نہ ہو اور حدود اللہ کی حرمت وناموس پر آنچ نہ آئے ہاں اگر اللہ تعالیٰ کے کسی حکم کو پامال کیا جاتا اور اس کے ناموس کو پامال کیا جاتا تو آپ ہر شخص سے زیادہ غصہ فرماتے، اگر آپ کے سامنے دو چیزیں ہوتیں تو آپ ہمیشہ آسان چیز کا انتخاب فرماتے، جب آپ اپنے گھر میں ہوتے تو اپنے کپڑے خود سے دھوتے ،بکری کا دودھ نکال لیتے اور اپنی ضرورتیں خود انجام دیتے ،اپنی زبان مبارک محفوظ رکھتے ،صرف اور صرف اس چیز کے لیے کھولتے جس سے آپ کو کچھ سرورکار ہوتا ،لوگوں کی دل داری فرماتے اور ان کو متنفر نہ کرتے تھے ،آپ ہر وقت آخرت کی فکر میں اور امور آخرت کی سوچ میں رہتے ،کسی وقت آپ کو چین نہیں ٓتا تھا ،غلاموں سے بھی محبت کا سلوک فرماتے تھے، آپ ایک مرتبہ مدینہ منورہ کے بازار میں تشریف لے گئے وہاں آپ نے دیکھا کہ ایک غلام یہ کہہ رہا ہے کہ جو مجھے خریدے وہ مجھے رسول اللہ کے پیچھے پانچ وقت کی نماز سے نہ روکے، ایک شخص نے اسے خرید لیا کچھ دنوں کے بعد وہ غلام سخت بیمار ہوا اللہ کے رسول اس کی عیادت کو تشریف لے گئے پھر اس کی وفات ہوگئی تو آپ اس کی تدفین میں بھی شریک ہوے آپ کے یہ اخلاق کریمانہ دیکھ کر بہت سے لوگوں نے حیرانی کا اظہار کیا کہ یہ غلام اور اس قدر اکرام ۔اس پر یہ آیت نازل ہوئی :اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ حضرت ہند بن ابی ہالہ فرماتے ہیں کہ آپ اکثر طویل سکوت فرماتے تھے ،بلا ضرورت کلام نا فرماتے تھے ،آپ کی گفتگو بہت صاف اور واضح اور قطعی ہوا کرتی تھی ،نہ اس میں غیر ضروری طوالت ہوتی نہ زیادہ اختصار ،آپ نرم مزاج اور نرم گفتار تھے ،بے مروت نہ تھے آپ کسی کی اہانت نہ کرتے اور نہ اپنے لیے اہانت پسند کرتے تھے ،نعمت کی بڑی قدر کرتے تھے اور اس کو بہت زیادہ مانتے تھے ،خواہ کتنی ہی قلیل کیوں نہ ہو، نعمت کی برائی نہ کرتے ،دنیا اور دنیا سے متعلق جو چیزیں ہوتیں اس پر آپ کو غصہ نہ آتا لیکن جب رب العالمین کے کسی حق کو پامال کیا جاتا تو اس وقت آپ کے جلال کے سامنے کوئی چیز نہیں ہوسکتی تھی یہاں تک کہ آپ اس کا بدلہ لے لیتے آپ کو اپنی ذات کے لیے غصہ نہ آتا نہ اپنی ذات کے لیے انتقام لیتے تھے جب کسی طرف اشارہ فرماتے تو پورے ہاتھ کے ساتھ اشارہ فرماتے ،غصہ اور ناگواری ہوتی تو روئے انور اس کی طرف سے پھیر لیتے ،خوش ہوتے تو نظریں جھکا لیتے ،آپ کا ہنسنا زیادہ تر تبسم تھا ،جس سے آپ کے دندان مبارک جو بارش کے اولوں کی طرح پاک شفاف تھے ظاہر ہوتے تھے ،حضرت ہند بن ابی ہالہ ؓ مزید بیان فرماتے ہیں کہ آپ خود دار ،باوقار اور شان وشوکت کے حامل تھے اور دوسروں کی نگاہوں میں بھی نہایت با رعب اور شاندار شخصیت کے مالک تھے ،آپ کا روئے انور چودھویں رات کے چاند کی طرح دمکتا تھا ۔یہ تو حضرت ہند بن ابی ہالہ ؓکا بیان تھا جو آپ کے سوتیلے بیٹے تھے اور جنہوں نے ایک بڑا عرصہ آپ کے ساتھ ایک ہی گھر میں گزارا ،اب حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالی عنہ کا بیان سنئے آپ ﷺ کے چچا زاد بھائی اور داماد تھے ،چوتھے خلیفۃ المسلمین بھی تھے فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ ہمہ وقت کشادہ رو اور انبساط اور بشاشت کے ساتھ رہتے تھے ،نہایت نرم اخلاق اور نرم پہلو والے تھے ،نہ سخت طبیعت کے تھے اور نہ سخت بات کہنے کے عادی تھے ،نہ چلاکر بولنے والے نہ کسی کو عیب لگانے والے نہ تنگ دل نہ بخیل ،تین باتوں سے آپ نے خود کو پوری طرح بچا کر رکھا ،ایک جھگڑے سے دوسرے تکبر سے ،تیسرے غیر ضروری اور لایعنی کام سے لوگوں کو بھی تین باتوں سے آپ نے بچاکر رکھا تھا نہ کسی کی برائی کرتے نہ اس کو عیب لگاتے تھے اور نہ اس کی کمزوریوں اور پوشیدہ باتوں کے پیچھے پڑتے تھے ،اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو جمال وکمال سے آراستہ فرمایا تھا ،آپ کو محبت ودلکشی اور رعب وہیبت سے نوازا تھا اور حسین وجمیل پیکر بنایا تھا ،ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم تمام اہل ایمان آپ کی سیرت اور آپ کی تعلیم پر عمل پیرا ہوکر نا صرف اپنی دنیا وآخرت سنواریں بلکہ ساری دنیا کو بھی اس پیغام سے روشناس کرائیں ۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*