نعتِ پاک- واحد نظیر

لیل اک سمت ہے، اک سمت نہارِ عارض
طرۂ زلف کو زیبا ہے جوارِ عارض
ساری زیبائیاں مرکز پہ سمٹ آئی ہیں
کچھ ہیں عارض کے یمیں، کچھ ہیں یسارِ عارض
زینت آرائے فلک مہر و مہ و کاہ کشاں
بہرِ خیرات ہوئے عرض گزارِ عارض
حمد بے ساختہ ہوتی ہے زباں سے جاری
شانِ تخلیق ہے کیا نقش و نگارِ عارض
اِس کی سرشاری پہ ساون کی گھٹائیں ہیں نثار
جب سے ہے بادِ صبا بادہ گسارِ عارض
کائنات اور ہے کیا ذاتِ محمد کے سوا
کیا ہیں آفاق بجز عکسِ حصارِ عارض
دل کے آئینے میں عشاق اسے رکھتے ہیں
اس کو کہتے ہیں نظیر آئنہ زارِ عارض

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*