نا سمجھ ملا اور افغانستان-عمر فراہی

 

افغانستان کے ملاؤں کو تو پہلے یونیورسٹی اور کالج کھول کر اپنے بچوں کو سائنسداں بنانا چاہیے تھا تاکہ ان کے بچے اسی ٹینک اور میزائل سے اپنے ملک کو سویت روس سے آزاد کرواتے ۔اگر یہ بھی نہیں کر سکتے تھے تو وہ روسی فوجیوں کو اسلام کی دعوت پیش کرتے تاکہ وہ ایمان میں داخل ہو جاتے مگر ان بیوقوف ملاؤں نے اپنے بچوں , نوجوانوں اور بوڑھوں کے ہاتھ میں کراۓ کی بندوقیں تھما دیں ۔ایک دوسرا لبرل مسلم دانشور طبقہ کہہ رہا تھا کہ یہ نا سمجھ ملا کہاں اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہے ہیں ۔مگر یہ ملا اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر قائم رہے اور چھپ چھپ کر روسی ٹینکوں پر حملہ کرتے رہے ۔مزے کی بات تو یہ ہے کہ وسیع و عریض طریقے سے بنائی گئی موٹی چادروں اور درختوں کی شاخوں سے انہوں نے چند ٹینکوں کو ناکارہ بھی بنادیا اور پھر اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر جشن بھی منانے لگے ۔کچھ پاکستانی صحافیوں نے ٹوٹے ہوئے روسی ٹینک اور پھٹے ہوئے کپڑوں اور ٹوٹی پھوٹی چپلوں میں ملبوس جشن مناتے ہوئے ان اڑیل ملاؤں کی تصویر بھی کھینچ کر اخبارات میں شائع کر دی ۔اس وقت اتفاق سے پاکستانی اقتدار پر بھی ایک اڑیل فوجی حکمراں قابض ہو چکا تھا ۔ان کا نام ضیاء الحق تھا جس نے پاکستان کے اسی وزیراعظم کو پھانسی پر لٹکا دیا تھا جس نے اسے جنرل بنایا تھا ۔جنرل ضیاء الحق کو جب افغانیوں کی بہادری کا پتہ چلا تو اس نے اس وقت کے امریکی صدر ڈک چینی سے کہا کہ دیکھو موقع اچھا ہے روس کو افغانستان کے صحرا میں دفن کر دیتے ہیں ۔ڈک چینی نے کہا کہ اس میں امریکہ کا کیا بھلا ہونا ہے ۔ضیاءالحق نے کہا اگر سپر پاور بننے کی خواہش ہے تو میدان میں آجاؤ ۔ڈک چینی نے کہا میاں جاؤ اپنے ملک کی خیر مناؤ سویت روس کی تاریخ رہی ہے کہ وہ ایک بار جس ملک میں داخل ہوتا ہے تو واپس نہیں جاتا ۔ہاں اتنی دور سے آئے ہو تو ایک دوست ممالک کی حیثیت سے کچھ رقم لیتے جاؤ اس سے افغانی ملاؤں کو کچھ جدید ہتھیار خرید کر دے دینا باقی امریکہ روس کے خلاف آ کر اپنے ہاتھ نہیں جلانا چاہتا ۔ضیاء الحق نے کہا یہ جو رقم آپ دے رہے ہیں یہ اتنی بھی نہیں ہے کہ ملا مونگ پھلی بھی خرید کر کھا سکیں اسے آپ اپنے پاس ہی رکھ لیں ۔ضیاء الحق نے ڈک چینی پر مونگ پھلی کا طنز اس لئے مارا تھا کیوں کہ ڈک چینی مونگ پھلی کی کاشت کا بہت بڑا تاجر بھی تھا ۔ضیاءالحق واپس آگئے اور انہوں نے سعودی عربیہ کا دورہ کر کے شاہ خالد کو سمجھایا کہ بادشاہ سلامت سویت روس اگر افغانستان پر قابض ہو جاتا ہے تو آپ کی بھی سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے ۔سعودی بادشاہ نے کہا جنرل افغانستان کی جنگ سے ہمارا کیا لینا دینا ۔ضیاء الحق نے کہا روس گرم پانیوں کی تلاش میں ہے ۔شاہ خالد سمجھدار تھے اور وہ گرم پانیوں کی اصطلاح کو سمجھ گئے لیکن پھر بھی انہوں نے سوال کیا کہ جب تک روس ایران اور عراق پر قابض نہیں ہوتا ہم تک کیسے آ سکتا ہے ؟
ضیاءالحق نے کہا اگر وہ افغانستان پر قابض ہو جاتا ہے تو ایران پر قابض ہونا اس کے لئے بہت مشکل نہیں ہے ۔عراق پہلے ہی سے اس کا دوست ہے اور جب وہ ایران میں داخل ہو گیا تو عراق باآسانی روس کو آپ کی طرف آنے کا راستہ ہموار کر دے گا اور پھر آپ کی بادشاہت کی جگہ یہاں بھی صدام حسین ، نجیب یا حافظ الاسد کی طرح کوئی کمیونسٹ ڈکٹیٹر قابض ہو جاۓ گا ۔شاہ خالد راضی ہو گئے اور انہوں نے نہ صرف دولت سے مدد کی افغانستان میں عرب کے وہابی جنگجوؤں کیلئے بھی راستہ ہموار کر دیا ۔یہی بات جنرل ضیاء الحق نے ایران کو بھی سمجھایا ۔چونکہ ایت اللہ خمینی نے پہلے ہی امریکہ اور روس دونوں کو شیطان عظیم قرار دیا تھا اس لئے ان کو جنرل کی بات آسانی سے سمجھ آ گئی اور ایران نے بھی افغانستان میں اپنی شیعہ ملیشیاؤں کو متحرک کر دیا ۔نا سمجھ ملا جنرل ضیاالحق کا احسان کبھی نہیں بھول سکتے ۔سعودی اور ایران کی مدد سے جب ان ملاؤں نے روس کے پرخچے اڑانا شروع کیا تو مغربی میڈیا میں بھی اس کی گونج اٹھنا لازمی تھا ۔امریکی صدر ڈک چینی نے جب مسلسل یہ تصویریں دیکھیں تو اسے یقین ہو گیا کہ سویت روس ناقابل تسخیر نہیں ہے اور اسے راتوں میں سونے کے بعد سپر پاور ہونے کے سپنے آنے لگے ۔اس نے ضیاء الحق کے پاس اپنا سفیر بھیجا اور کہا وہ ان ملاؤں کی بھر پور مدد کرنے کو تیار ہے آپ بتائیں یہ مدد کیسے دی جاۓ ۔ضیاء الحق نے موقع کا فائدہ اٹھایا اور امریکہ کو سپر پاور بنانے کی قیمت وصول کر لی ۔امریکہ ساری امداد پاکستان کو دیتا رہا اور پاکستانی جنرل نے اس امریکی امداد سے جہاں اپنے ملک کو مالا مال کیا دس سال میں سویت روس کو اس کی اوقات بتا کر امریکہ کو اس کے سپر پاور ہونے کا تحفہ بھی لوٹا دیا ۔روس تھک کر اور ٹوٹ کر چلا گیا ۔اب باقی دیگر ممالک نے بھی ناسمجھ ملاؤں کی مدد کرنا بند کر دیا اور پھر ان ملاؤں کی آپسی پھوٹ سے روس کا پٹھو حکمراں نجیب کابل پر قابض رہ کر اسی طرح دنیا کی نظر میں جائز حاکم ہونے کا کردار نبھاتا رہا جیسے آج اشرف غنی کی حکومت ہے ۔کسی طرح ان گروہوں نے جس میں ربانی ۔۔گلبدین حکمت یار ۔۔رشید دوستم اور احمد شاہ مسعود وغیرہ شامل تھے وقتی حکومت تو بنا لی لیکن افغانستان میں اس حکومت کے ذریعے امن پھر بھی کوسوں دور رہا ۔اسی انتشار کے دوران پاکستانی مدرسوں سے فارغ طالبان کا عروج ہوتا ہے اور وہ پھر پاکستان کی مدد سے بہت تیزی کے ساتھ کابل پر قابض ہو جاتے ہیں ۔9/11 کے حادثے کے بعد اب ان کی حکومت امریکہ خود ختم کر دیتا ہے ۔افغانی طالبانوں کو بھی اس حادثے سے سبق حاصل کرتے ہوۓ کالج یونیورسٹی اور اسپتال کھولنے چاہئیے تھے یا دعوت و تبلیغ کی دکان کھول لینا چاہئیے تھی مگر اڑیل اور نا سمجھ طالبانوں نے پھر ہتھیار اٹھا لئے ۔بیس سال تک ان کے پاس کہاں سے ہتھیار آئے پتہ نہیں لیکن دنیا نے دیکھا کہ سپر پاور نے جھک کر ان سے معاہدہ کیا اور واپس جانے کی درخواست کی ۔امریکہ کے جانے کے بعد ایک بار پھر پتہ نہیں ان مدرسوں کے فارغ ملاؤں کو کون ہتھیار اور دماغ دے رہا ہے کہ یہ لوگ تیزی کے ساتھ کابل کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔حیرت ہے ہند و پاک کے مسلم دانشور ایک زمانے سے انہیں سمجھا رہے ہیں کہ پہلے وہ کالج اور یونیورسٹی کھولیں اس کے بعد سائنسداں پیدا ہوں گے اور پھر یہ جو ہتھیار بنا کر دیں گے تم ان سے اچھے سے لڑ سکتے ہو مگر پتہ نہیں یہ ملا کس کھوپڑی کے بنے ہیں سمجھنے کو تیار نہیں ہیں ! کہتے ہیں پہلے کابل پر قبضہ کر لیتے ہیں پھر سرکاری خزانوں سے کئی یونیورسٹی کالج اسپتال اور دعوتی سینٹر بھی کھول لیں گے !
ویسے چندوں کی رقم سے اگر ملا پچاس سال میں کوئی ایک یونیورسٹی کھولنے میں کامیاب بھی ہو جاتے تو کابل کی پٹھو حکومت کسی بھی وقت یہ کہہ کر اس ادارے پر بلڈوزر چلا سکتی تھی کہ اس میں تو طالبان تیار کئے جارہے ہیں !!
علامہ کے لفظوں میں ابلیس نے تو اسی سوچ کے خلاف بہت پہلے ہی اپنے فرزندوں کو فرمان جاری کر دیا تھا کہ:
افغانیوں کی غیرت دیں کا ہے یہ علاج
ملا کو اس کے کوہ و دمن سے نکال دو