Home خاص کالم نہ تم دلّی والے،نہ ہم دلّی والے-معصوم مرادآبادی

نہ تم دلّی والے،نہ ہم دلّی والے-معصوم مرادآبادی

by قندیل

دلّی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ دل نوازوں کا شہر ہے۔اس کی ایک پہچان تو وہ تاریخی عمارتیں ہیں جو مختلف بادشاہوں نے یہاں تعمیر کروائیں۔ملک و بیرون ملک سے آنے والے سیاحوں کے لئے ان عمارتوں کی بڑی اہمیت ہے جو بلاشبہ فن تعمیر کا بہترین شاہکار ہیں۔ لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو دلّی کا اصل حسن اس کی تہذیب وتمدن میں پنہاں ہے، جس کے دھندلے نقوش آج بھی فصیل بند شہر میں نظر آجاتے ہیں۔دلّی کے باشندوں کو اپنی اس تہذیب سے ہمیشہ لگاؤرہا ہے اور وہ اس پر جان ودل نثار کرتے رہے ہیں۔اس تہذیب کے دائرے میں یہاں کی سماجی، ادبی، سیاسی اور ثقافتی زندگی اور اس کے البیلے کردار آتے ہیں۔حالانکہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ زمانے کی گردشوں اور اس شہر کے بننے اور بگڑنے کی اذیتوں نے یہاں کے بہت سے نقوش پامال کردئیے ہیں۔ کہتے ہیں کہ دلّی سات بار بسی اور اتنی ہی بار اجڑی۔بسنے اور اجڑنے کے اس عمل نے اس شہر کی بہت سی رونقوں اور رعنائیوں کوہم سے چھین لیا۔
دہلی کی تہذیبی اور تمدنی زندگی کو سب سے بڑا روگ غدر کے زمانے میں لگا جب انگریزوں نے اس شہر میں ایسا قتل عام کیا کہ پورا شہر قبرستان ہوگیا۔دلّی کو دوسرا اور زیادہ بڑا جھٹکا ملک کی تقسیم کے وقت لگا جب یہاں کے وہ لوگ سرحد پار چلے گئے جنھیں” منتخب روزگار "کہا جاتا تھا۔بقول میر تقی میر
دلّی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب
رہتے تھے منتخب ہی جہاں روزگار کے
اس کو فلک نے لوٹ کے برباد کردیا
ہم رہنے والے ہیں اسی اجڑے دیار کے
غدر کے اجاڑ کے بعد جن لوگوں نے اس دل نواز شہر کو سنبھالا دیاتھا، انھیں تقسیم کی آندھیاں بہاکر سرحد پار لے گئیں۔اس دوران کیسے کیسے لوگ تھے جنہوں نے اس زندہ جاوید شہر کو خیر باد کہا۔ دلّی کے گلی کوچے ویران ہوگئے اور تمام ہنرمنداورباوقار لوگ اس شہر کو چھوڑکر چلے گئے۔ان میں شرفاء کی ہی بڑی تعداد نہیں تھی بلکہ وہ لوگ بھی تھے جنھوں نے اس شہر کی تاریخ و تہذیب کو اپنے خون جگر سے سینچا تھا۔ان میں اپنے زمانے کے جیالے اہل قلم بھی تھے اور صنعت وحرفت کے یکتائے زمانہ بھی۔شاہد احمد دہلوی اور سیدیوسف بخاری جیسے صاحبان قلم نے ہی اسے خیرباد نہیں کہا بلکہ ملا واحدی جیسا’دلّی والا‘ بھی کراچی میں جابسا جن کے بارے میں یہ کہاوت مشہور تھی کہ”ملا واحدی نے شادیاں تو تین کیں لیکن عشق صرف دلّی سے کیا۔“ملا واحدی اور ان کا خاندان عہد شاہجہانی سے دلّی میں آباد تھا اور وہ ان تین سید خاندانوں میں سے ایک خاندان کے چشم وچراغ تھے جنھیں جامع مسجد کی تعمیر کے بعد شاہجہاں نے دلّی بلایا تھا۔
ملک کی تقسیم کے نتیجے میں آبادی کے تبادلے اور فرقہ وارانہ منافرت کی ہواؤں نے اس شہر کو ویران کردیا۔لٹے پٹے بدحال لوگوں کو پرانے قلعہ میں پناہ لینی پڑی۔جاتے ہوئے قافلوں کو روکنے کے لئے دی گئی مولانا آزاد کی پکار صدا بصحرا ثابت ہوئی جس کی بازگشت آج بھی جامع مسجد کے میناروں میں سنی جاسکتی ہے۔اس تباہی اور بربادی کے بعد پرانی دلی میں اگرکچھ بچا تھا تو وہ محض ایسی صدائیں تھیں جن کی پکار کو سننے اور سمجھنے والے بھی بہت کم بلکہ نہ کے برابر تھے۔جولوگ دلی مرحوم میں باقی رہ گئے تھے ان کے کانوں میں گزشتہ دہلی کی تہذیبی اور معاشرتی زندگی کی نحیف وناتواں آوازیں گونجتی تھیں۔ انھیں اس بات کا شدید قلق تھا کہ کیسا بھرا پرا شہر یوں ویران ہوگیا ہے کہ اب کہیں سے کوئی صدا ہی نہیں آتی۔ان دہلی والوں نے بچی کھچی تہذیب کے نقوش کو جوڑ کر اس میں زندگی پیدا کرنے کی کوشش کی تاکہ خود ان کے زندہ رہنے اور سراٹھاکر چلنے کے اسباب پیدا ہوجائیں۔
کچھ شاعر وں، کچھ ادیبوں اور دہلی کی گنگا جمنی تہذیب کے متوالوں نے مل جل کر زندگی کا تانا بانا جوڑا اور شہر کو اس کی پرانی ڈگر پر واپس لانے کی ناکام کوشش کی۔آزادی کے بعد کی خانما برباد دلّی میں جہاں ایک طرف وہ لوگ تھے جو زندگی کا شیرازہ اکٹھا کرنے کی کوشش کررہے تھے تو دوسری طرف ایک تعداد وہ تھی جو مرحوم دلّی کی سماجی اور ادبی زندگی میں ازسر نو رنگ بھرنے کی کوشش کررہی تھی۔ عظیم اختربھی ان لوگوں میں سے ایک ہیں، جن کی تحریریں ان سیاسی، سماجی، ادبی اور تہذیبی کرداروں کے ارد گرد ہی گھومتی ہیں، جنھوں نے لٹی پٹی دلّی کو سہارا دینے اوراسے اس کا شاندار ماضی واپس دلانے کی شعوری کوششیں کی تھیں۔
عظیم اختر کوئی پیشہ ور ادیب یا قلم کار نہیں ہیں۔وہ کسی شعبہ اردو کی پیداوار بھی نہیں ہیں اور نہ ہی کسی یونیورسٹی کے پروفیسر ہیں بلکہ ایک ایسے باپ کے بیٹے ہیں جس نے انھیں محنت کرکے زندگی گزارنے کا ہنر سکھایا تھا۔قلم اور قرطاس سے ان کا رشتہ بھی پیشہ ورانہ نہیں بلکہ قلندرانہ ہے۔اسی لئے انھوں نے نہ تو کبھی اپنی کسی تحریر کا کوئی معاوضہ لیا اور نہ ہی کسی اردو اکادمی کے’جزوی مالی تعاون‘ سے اپنی کوئی کتاب شائع کروائی۔لکھنے پڑھنے سے ان کا تعلق عبادت و ریاضت کے زمرے میں آتا ہے۔وہ اپنے طولانی جملوں اور طنزیہ انداز سے کبھی کبھی لوگوں کو ناراض بھی کردیتے ہیں۔ ہماری دانش گاہوں میں اردو کے شعبے اور پروفیسر حضرات ان کا مرغوب موضوع رہے ہیں۔ اسی لیے وہ اس حلقے میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ ادیب ہیں۔انھیں اس بات کا بھی شکوہ ہے کہ دہلی کی جامعات میں تحقیق کے نام پر جھک ماری جارہی ہے اور کسی کو بھی اس بات کا احساس نہیں ہے کہ فصیل بند شہر کی نابغہ روزگار شخصیات پر تحقیقی کام ہو۔انھوں نے ’بیسویں صدی کے شعرائے دہلی‘ پر بارہ سو سے زائد صفحات کی ایک کتاب دہلی اردو اکادمی کے لئے ترتیب دی۔ اس کتاب میں تین سو سے زیادہ شعراء کا تعارف اور ان کا کلام شامل ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے تقریباً 120دلّی والوں کے خاکے لکھے۔وہ روزنامہ اخبارات میں ہفتہ واری کالم بھی لکھتے ہیں۔
عظیم اختر مجھ سے عمر میں کئی سال بڑے ہیں، لیکن ہم دونوں میں ایک قدرمشترک یہ ہے کہ نہ وہ دلی والے ہیں اور نہ میں۔ دونوں ہی مغربی یوپی میں پیدا ہوئے اور اپنی عملی زندگی دلی میں گزاری۔ عظیم اختر چھ سال کی عمر میں مظفر نگر سے دہلی آئے تھے اور میں سولہ سال کی عمر میں مرادآباد سے۔دونوں کا ہی پڑاؤ فصیل بند شہر تھا اور دونوں نے اس شہر کی مٹتی ہوئی تہذیب کو اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھا۔عظیم اختر کی خوش قسمتی یہ رہی کہ ان کے والد مولانا علیم اختر مظفر نگری پائے کے شاعر تھے اور پھاٹک حبش خاں میں ان کے گھر شاعروں اور ادیبوں کا آنا جانا لگا رہتا تھا۔ اس ادبی ماحول میں عظیم اختر کی پرورش وپرداخت ہوئی اور ان کے ادبی ذوق کو جلا ملی۔یہ وہ دور تھا جب فصیل بند شہر میں علم وادب کی نابغہ روزگار ہستیوں کی پوری کہکشاں موجود تھی۔ یہ شہر جس نے اپنے اچھے دنوں میں اپنی ادبی، سماجی اور تہذیبی زندگی کا عروج دیکھا تھا، آہستہ آہستہ ویران ہوتا چلا گیا۔اس کی ویرانی اس حد تک بڑھی کہ فصیل بند شہر کا سب سے بانکا دہلی والا جس کو اس شہر کی ٹکسالی زبان پر ملکہ حاصل تھا،نوئیڈا جیسے غیر ادبی شہر کا باسی ہوگیا۔میری مراد سید ضمیر حسن دہلوی مرحوم سے ہے جنھیں میں دہلی کے باقیات الصالحات میں شمار کرتا تھا۔گلزار دہلوی نے بھی بازارسیتا رام کو خیرباد کہہ کر نوئیڈا آباد کیا اور وہیں آخری سانس لی۔ان سے قبل ڈاکٹر خلیق انجم،جو خود کو دوسو فیصد دلی والا قرار دیتے تھے، غازی آباد کے باسی ہوئے اور وہیں انہوں نے آخری سانس لی۔یہ الگ بات ہے کہ ان کا جنازہ دفنانے کے لیے دلی لایا گیا۔خود عظیم اختر ڈاکٹر صلاح الدین کا تعاقب کرتے ہوئے اوکھلا جا بسے۔اس معاملے میں ڈاکٹر اسلم پرویز مرحوم اور ڈاکٹر فیروز دہلوی کو داد دینی پڑے گی کہ انہوں نے فصیل بند شہر کو خیر باد نہیں کہا۔

You may also like

Leave a Comment