نہ تومعافی مانگی،نہ ہی ٹوئیٹ ڈیلیٹ کیا:ڈاکٹرظفرالاسلام خان

نئی دہلی:دہلی اقلیتی کمیشن کے صدرڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے کہاہے کہ انہوں نے اپنا ٹوئیٹ ڈیلیٹ نہیں کیاہے، وہ اپنے موقف پرقائم ہیں۔انہوں نے کہاہے کہ میڈیا کے ایک حصے نے یہ غلط طریقے سے بتایاہے کہ میں نے ٹوئیٹ کے لیے معافی مانگی ہے اوراس کوہٹا دیاہے۔ میں نے ٹویٹ کے لیے معافی نہیں مانگی ہے اوراسے ڈیلیٹ نہیں کیاہے۔غور طلب ہے کہ نظام الدین مرکزکے بعداب ڈاکٹرظفرالاسلام خان کے بہانے میڈیاٹرائل کیاجارہاہے۔ایسی آوازیں اوایس آئی،خلیجی ممالک اورامریکہ کے مذہبی حقوق کی کونسل کی طرف سے بھی اٹھی ہیں لیکن بھارت نے داخلی معاملہ قراردے کرمعاملے پرصفائی پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ظفرالاسلام خان نے سوشل میڈیامیں لکھاتھاکہ اگربھارت کے مسلمانوں نے عرب اور دنیاکے مسلمانوں سے کٹرو لوگوں کی نفرت انگیزمہم،لنچنگ اور فسادات کی شکایت کر دی توزلزلہ آ جائے گا۔ظفرالاسلام خان نے ذاکر نائیک کی بھی مبینہ طورپرحمایت کی تھی۔ظفرالاسلام خان نے کہاہے کہ میں نے ٹویٹ کے لیے معافی نہیں مانگی ہے، لیکن اس وقت ہمارا ملک وباکاسامنا کر رہا ہے. میرے ٹوئٹر ہینڈل اور فیس بک پیج پرپوسٹ بہت زیادہ ہیں۔انھوں نے کہاہے کہ اس کے علاوہ میں نے اپنے یکم مئی 2020 کے بیان میں کہا ہے کہ میں اپنے خیالات اور مضبوط عقائد کے ساتھ کھڑاہوں۔میں ملک میں نفرت کی سیاست کے خلاف جنگ جاری رکھوں گا۔ ایف آئی آر، گرفتاری اور قید اس راستے کو نہیں تبدیل نہیں کر سکتے۔میں نے اپنے ملک، اپنی قوم، بھارتی سیکولر سیاست اور آئین کو بچانے کاراستہ اختیارکیاہے۔اس سے پہلے سنیچرکوظفرالاسلام خان پرسخت کارروائی کرنے اور انہیں دہلی اقلیتی کمیشن کے صدر کے عہدے سے ہٹانے کی مانگ کی گئی تھی۔ظفرالاسلام خان کے خلاف 106 شہریوں نے دہلی کے لیفٹننٹ گورنر انل بیجل کوخط لکھاہے۔میڈیاٹرائل بھی جاری ہے۔خط میں ظفرالاسلام خان پرسخت کارروائی اور عہدے سے ہٹانے کامطالبہ کیاگیاہے۔