نہ سنتوش، نہ آنند-دیپک اسیم

ترجمہ:محمد توصیف

موبائل فون استعمال کرتے ہوئے ایک زمانہ گزر گیا لیکن موبائل آف کرنے کے بعد جیسا سکون اس دن نصیب ہوا تھا، زندگی میں کبھی نہیں ہوا۔ اس دن یعنی جب میں نے سنتوش آنند کو الوداع کہا تھا اور ان کے تئیں ذمے داری سے خود کو آزاد کیا تھا۔
انہیں ایک مشاعرہ میں مدعو کیا تھا لہذا انہیں ان کے کمرے تک پہنچانا، مشاعرہ کے بعد رقم کی ادائیگی اور اگلی صبح ان کی روانگی کا بندوست میرا فرض تھا۔ ٹی وی پر سنتوش آنند کو دیکھ کر یہ پرانی بات اور خصوصاً وہ رات یاد آرہی ہے جب وہ میرے مہمان تھے۔ وہ ایک قیامت کی رات تھی۔ اس رات اگر میں نے سر نہ پیٹا، کپڑے نہیں پھاڑے، بے قابو ہو کر گالیاں نہ بکنے لگا تو صرف اس لئے کہ میں ضبط کرنے کے ہنر سے واقف ہوں۔

آتے ہی کہنے لگے کہ میرا بیلٹ ٹوٹ گیا ہے، لاکر دو! بیک وقت مشاعرے کی مختلف ذمے داریاں لئے شخص کے پاس اتنی فرصت نہیں ہوتی کہ وہ بیلٹ لانے جائے اور پھر بیلٹ بھی عام بیلٹ نہیں بلکہ 44 پلس کا۔ ان دنوں وہ صحت مند ہوا کرتے تھے، کمر کم از کم پچاس رہی ہوگی نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے سائز کا بیلٹ نہ مل سکا۔ خیر پہلے شراب پیش کی گئی اور معا معذرت بھی کر لی کہ میں ان کا ساتھ نہیں دے سکتا لیکن کمیٹی کے ہی ممبر، اندور کے شاعر ظہیر راز کو ان کے ہمراہ کر دیا کہ باتیں کرتے رہئے اور پیتے رہئے۔ بمشکل پانچ سات منٹ گزرے ہوں گے کہ فون آیا کہ میرے کمرے میں آؤ۔ میں نے پہنچ کر بیل بجایا۔ باہر نکلتے ہی کہنے لگے تم نے میرے ساتھ ایک مسلمان کو بٹھا دیا؟ میں نے کہا: ہاں، شاعر ہیں۔ پیتے ہیں۔ کہنے لگے میں برداشت نہیں کر سکتا۔ انہیں ہٹاؤ یہاں سے۔ میرا نمکین بھی کھایا ہے اس نے۔ دوسرا نمکین منگواؤ۔ میں نے کہا آپ آرڈر کر دیجئے، آجائےگا۔ ظہیر راز ہماری اب تک کی باتیں سن چکے تھے اور اس توہین کو صاف محسوس کر چکے تھے۔ وہ چپ چاپ اٹھ کر باہر آ گئے۔ میں نے انہیں نیچے بھیج دیا۔ پھر شکایت کرنے لگے کہ یہ آدمی میری شراب بھی پی گیا ہے۔ حالانکہ ظہیر نے بمشکل دو پیگ لگائے ہونگے۔ میں نے انہیں یاد دلایا کہ بلینڈر پرائڈ کی یہ بوتل ان کی نہیں ہے۔ کمیٹی کی طرف سے پیش کی گئی ہے اور پینے والا آدمی بھی کمیٹی کا ممبر ہے، میزبان ہے۔ آپ کو کمپنی دینے کے لئے اسے پینے کو کہا گیا تھا۔

خیر، وہ لگاتار شراب پیتے رہے۔ مشاعرہ کا وقت ہو چکا تھا۔ تمام شعرا پہنچ چکے تھے۔ مجھے فون آیا کہ سنتوش آنند کو لے کر یہاں رجواڑہ آجاؤ، مشاعرہ شروع ہوا چاہتا ہے۔ لیکن ادھر سنتوش آنند تھے کہ اب تک کپڑے بھی نہیں بدلے تھے۔ وہ خواہ مخواہ غصہ کئے جا رہے تھے اور بیچ بیچ میں انہیں یہ بھی یاد آجاتا تھا کہ ان کے ساتھ ایک مسلمان کو بٹھا دیا گیا تھا۔ مجھ سے لگاتار مسلمانوں کے بارے میں کچھ نہ کچھ کہتے رہے۔ میں میزبان تھا اور ان کی بےکار باتیں سننا میری مجبوری تھی۔ مجبوری کا نام سنتوش آنند۔ مگر جب دس بج گئے اور ایم ایل اے اشونی جوشی بیسیوں دفعہ مجھے فون کر چکے تو میں نے سنتوش آنند کو ان کے آنند میں چھوڑ کر مشاعرہ میں واپس جانے کا فیصلہ کر لیا۔ لیکن جاتے جاتے اپنے دوست سنجے ورما کو کہہ گیا کہ جب ان کا تماشہ ختم ہو جائے تو انہیں لے آنا۔ سنجے ورما مسلم نہیں تھے اور نہایت شریف طبع بھی لیکن اب تو سنتوش آنند ایک ہندو کے ساتھ بھی آنے پر آمادہ نہیں تھے۔تھک ہار کر وہ بھی گیارہ بجے اکیلے چلے آئے۔
کمیٹی نے مجھ سے سوال کیا کہ سنتوش آنند کہاں ہیں؟ میں نے انہیں صاف کہ دیا کہ آنا ہوگا تو آجائیں گے آپ مشاعرہ پر توجہ دیں۔ منور رانا اسٹیج پر موجود تھے۔ مشاعرہ شروع ہو گیا اور ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا کہ سنتوش آنند جو لاکھ منتیں کرنے پر بھی نہیں آئے، خود ایک رکشا کرکے پہنچ گئے۔ سننے والوں میں دھوم مچ گئی کہ سنتوش آنند آ گئے ہیں۔ وہ کرسی پر بیٹھ گئے کیونکہ نیچے بیٹھنے میں انہیں تکلیف محسوس ہوئی۔ ہاتھ میں ایک چھڑی تھی جو وہ لگاتار میری پیٹھ پر بجاتے رہے۔ میں ان کے ٹھیک سامنے ہی بیٹھا تھا۔ اتنے میں میرے کانوں میں آواز پڑی۔ دیپک شراب لا…! میں نے پانی کی بوتل میں ووڈکا بھر کر ان کو پیش کر دیا۔ وہ ہر گھونٹ پر کسی نہ کسی شاعر کے خلاف کچھ بول رہے تھے اور ہم سب پریشان ہوتے رہے۔ جب منور رانا کی باری آئی انہوں نے سنتوش آنند کی خوشامد میں کئی باتیں کہیں، لیکن سب بےکار گئیں۔ انہوں نے منور رانا کو بھی نہیں بخشا۔
اس مشاعرے میں منور رانا پیسے کے لئے نہیں بلکہ مجھ سے آپسی تعلقات کا بھرم رکھنے آئے تھے۔ میرا ایک احسان تھا جو انہوں نے اتارا تھا۔ بہرحال میں گزشتہ شام سے ان سے تنگ آ چکا تھا۔ اور مشاعرہ کے آخری لمحے تک وہی تماشہ دیکھ دیکھ کر آپے سے باہر ہو گیا۔ میں سیدھے مائک پر گیا اور کہا کہ سنتوش آنند جی! پورا اسٹیج رات سے ہی آپ کا لحاظ کر رہا ہے۔ آپ بھی تو کچھ خیال کریں۔ برائے کرم شعرا کو پڑھنے دیں۔ اتنے تبصرے مت کریں کہ سارے لوگ ہی برا مان جائیں۔ مشاعرہ میں خلل تو پڑ ہی چکا تھا۔ جیسے تیسے منور رانا نے پڑھا اور سنتوش آنند نے کچھ گیت اور اپنی لن ترانیاں سنائیں۔
یہ سنتوش آنند اس سنتوش آنند سے بالکل الگ تھے جنہیں تیس سال قبل میں نے چھاؤنی میں سنا تھا۔ انہوں نے اپنے گیتوں سے سامعین کو مدہوش کر دیا تھا۔ ہم نے تو اسی سنتوش آنند کو مدعو کیا تھا اور اب ان کے بھوت کو جھیل رہے تھے۔ اس رات میری اتنی ہی خواہش تھی کہ کاش مشاعرہ جلدی ختم ہو بلکہ یہ رات جلدی گزر جائے۔

واپسی میں ہوٹل پہنچ کر میں نے ان کی رقم ان کے حوالے کی اور سفر کی تفصیلات بتاکر اپنا موبائل بند کر لیا اور گھر جاکر سو گیا۔ شام کو جب موبائل آن کیا تو مرحوم جاوید عرشی صاحب کا فون آیا۔ بتانے لگے کہ جاتے جاتے بھی انہوں نے خوب ہنگامہ کیا تھا۔ جاوید عرشی صاحب سے بضد ہو گئے تھے کہ میرے ساتھ رہو۔ مجھے روانہ کرو۔ مجھے چھوڑ کر آؤ۔

ٹی وی پر آنسو بہا کر ٹی آر پی بٹورنے والے ایک گانے بجانے کے پروگرام میں سنتوش آنند آئے۔ اپنا دکھڑا سنایا۔ رونے والے اور رونے والیاں روئیں۔ لیکن مجھے ہنسی آ گئی۔ ان میں سے کوئی اگر پندرہ منٹ بھی سنتوش آنند کے ساتھ گزارے اور پھر اس کے بعد بھی ان کے دکھ پر رو جائے تو میں یقین کر لوں کہ اس پر اداکاری مکمل ہو گئی ہے۔ مجھے تو سونی چینل کے ان اسٹاف ممبرز پر افسوس ہے جنہوں نے انہیں تیار کیا ہوگا۔ اسکرپٹ دی ہوگی۔ بات کی ہوگی۔ پانی پلایا ہوگا۔

اپنے گیتوں کی وجہ سے سنتوش آنند لازوال ہیں۔ لیکن ان کے اخلاق سے ان کے تئیں پیدا ہونے والی عقیدت چاروں شانے چت ہو جاتی ہے۔ کیا وہ واقعی اتنے ہی فرقہ پرست ہیں جتنے وہ اس دن تھے؟ یا وہ اس دن کی کوئی سنک، کوئی ترنگ تھی، میں فیصلہ نہیں کر پا رہا ہوں۔ میں نے تیسری قسم کے راج کپور کی طرح اس دن پہلی قسم کھائی تھی کہ آئندہ سے کوئی ان کا خرچ برداشت کرنے کے ساتھ چار دیگر شاعروں کا خرچ بھی اٹھانے کی پیشکش کرے تب بھی سنتوش آنند کو تو کسی مشاعرہ میں کبھی بھی نہیں بلاؤں گا۔ بعد کے دنوں میں معلوم ہوا کہ میں اکیلا نہیں تھا۔ دوسرے بہت سے میزبان ان کی یہ بداخلاقی برداشت کر چکے ہیں۔ آخر میں یہی دعا ہے کہ وہ خوب جیئں، خوش رہیں، بس مجھ سے دور رہیں۔

 

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*