نہ مہرِ فاطمی کی کوئی شرعی حیثیت ہے،نہ جہیزِ فاطمی کی ـ ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

آج مرکز جماعت اسلامی ہند کی مسجد اشاعت اسلام میں ایک نکاح پڑھانے کا موقع ملاـ دولہا کا تعلق شیعہ مسلک سے تھا اور دلہن سُنّی خاندان سے تعلق رکھتی تھی _ میں نے خطبۂ نکاح پڑھنے کے بعد مختصر تذکیر کی ـ میں نے بتایا کہ ایجاب و قبول کرتے ہی زوجین پر ایک دوسرے کے تعلق سے کچھ حقوق عائد ہوجاتے ہیں جن کی ادائیگی کا حکم دیا گیا ہےـ

بیوی کا ایک حق مہر کا ہے _ قرآن و حدیث میں اس کی ادائیگی پر بہت زور دیا گیا ہےـ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وَاٰ تُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحۡلَةً‌ ؕ(النساء: 4) ” اور عورتوں کے مہر خوش دلی کے ساتھ (فرض جانتے ہوئے) ادا کرو ۔” اسے نکاح کے بعد فوراً یا جلد از جلد ادا کردینا چاہیےـ جب تک ادا نہ ہو ، وہ شوہر کے ذمے بیوی کا قرض رہتا ہےـ میں نے عرض کیا کہ ہمارے سماج میں ‘مہرِ فاطمی’ کا بہت چرچا ہے ، حالاں کہ اس کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے _ اللہ کے رسول ﷺ کی تمام ازواج مطہرات (سوائے حضرت زینب بنت جحش) کا مہر 480 درہم تھاـ اتنا ہی مہر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا بھی طے ہوا تھا اور اس کی ادائیگی نکاح کے فوراً بعد ہوئی تھی ـ روایات میں ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے جب اپنی بیٹی کا نکاح اپنے چچا زاد بھائی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کرنے کا ارادہ کیا تو ان سے دریافت کیا : تمھارے پاس کچھ ہے؟ انھوں نے عرض کیا : کچھ نہیں ـ آپ نے دریافت کیا : تمھاری زرہ کیا ہوئی؟ عرض کیا : وہ تو ہےـ فرمایا : اسے فروخت کرلاؤـ اس سے جو رقم ملی اس سے مہر ادا کیا گیاـ بہر حال اگر کوئی نکاح مہرِ فاطمی پر ہوتا ہے تو شوہر کے ذمے ڈیڑھ کلو چاندی کی مالیت کے بقدر رقم لازم ہوگی ـ

میں نے عرض کیا : اسی طرح ہمارے سماج میں جہیزِ فاطمی کا ذکر کیا جاتا ہےـ روایات میں ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے اپنی بیٹی کو رخصت کرتے وقت ایک چارپائی ، ایک بچھونا ، ایک چمڑے کا تکیہ جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی ، ایک چکی اور ایک مشکیزہ جس کے ذریعہ کنوئیں سے پانی بھرا جاتا ہے ، فراہم کیا تھاـ اس چیز کو جہیز دینے کے لیے دلیل بنایا جاتا ہے ، حالاں کہ یہ چیزیں رسول ﷺ نے اسی رقم سے فراہم کی تھی جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی زرہ فروخت کرنے سے حاصل ہوئی تھی ـ

روایات میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں ایک اور واقعہ ملتا ہےـ وہ گھر کے تمام کام کرتی تھیں ، چکّی چلاتی تھیں ، کنویں سے پانی بھر کر لاتی تھیں ـ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا : کچھ غلام لونڈیاں آئے ہیں ، جاؤ ، اپنے ابّا سے ایک لونڈی مانگ لاؤ ، تاکہ تمھارا کام کچھ ہلکا ہوجائےـ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا گئیں ، لیکن اللہ کے رسول ﷺ گھر پر موجود نہ تھے ، چنانچہ واپس آگئیں ـ آپ گھر تشریف لائے تو ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اطلاع کی ـ آپ رات میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر گئے _ اس وقت وہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ دونوں بستر پر جاچکے تھے _ آپ کو دیکھ کر انھوں نے اٹھنے کی کوشش کی ، لیکن آپ نے فرمایا : لیٹے رہوـ پھر آپ نے دریافت کیا : بیٹی ! میرے پاس کیوں آئی تھیں؟ حضرت فاطمہ تو خاموش رہیں ، حضرت علی نے جانے کی وجہ بتائی ، تب آپ نے فرمایا : ” کیا میں تمھیں اس سے اچھی چیز نہ بتاؤں : ” جب تم روزانہ سونے چلو تو 33 بار سبحان اللہ ، 33 بار الحمد للہ اور 34 بار اللہ اکبر کہہ لیا کروـ”(بخاری : 3113 ، مسلم : 2727)

اس واقعہ سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ والدین کو ہمہ وقت اپنی اولاد کی تربیت کی فکر کرنی چاہیےـ

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*