ناکردہ گناہوں کی سزا ـ معصوم مرادآبادی

گجرات کی ایک عدالت نے حال ہی میں ان 122 مسلمانوں کو باعزت بری کردیا ہے، جنھیں اب سے بیس سال پہلے وطن دشمنی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔غیرقانونی سرگرمیوں کی روک تھام سے متعلق قانون(یو اے پی اے)کے تحت گرفتار کئے گئے ان لوگوں کو دس مہینے جیل میں بھی گزارنے پڑے تھے۔ حالانکہ اس کے بعد انھیں ہائی کورٹ سے ضمانت مل گئی تھی، لیکن بیس سال کا یہ عرصہ ان لوگوں نے سخت ذہنی اذیت، کرب اور پریشانی میں گزارا۔ طویل اذیت سے رہائی پانے والوں میں سہارنپور کے 85 سالہ باشندے مولانا عطاء الرحمن وجدی بھی شامل ہیں ۔ انھوں نے عدالتی فیصلے کے بعد نامہ نگاروں سے کہا کہ”میں نے یہ عرصہ ملک دشمنی کے داغ کے ساتھ گزارا ہے، لیکن اب میں بری ہوگیا ہوں اور چین سے مرسکوں گا۔“ مولانا عطا الرحمن وجدی ان تمام ملزمان میں اس لیے سب سے الگ نظر آرہے تھے کہ وہ وہیل چیئر پر بیٹھ کر عدالت میں حاضر ہوئے تھے۔مولانا وجدی ملی تحریکات سے وابستہ ایک مخلص اور خداترس انسان ہیں۔ انھوں نے پوری زندگی ظلم اور ناانصافی کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے گزاری ہے۔
اس ملک میں ایسے نہ جانے کتنے لوگ ہیں جو بے گناہی کی سزا بھگت رہے ہیں۔ یہ 122افراد خوش نصیب تھے کہ انھیں بیس سال بعد سہی وطن دشمنی کے الزام سے نجات مل گئی اور وہ باعزت بری ہوکر اپنے اپنے گھروں کوچلے گئے ہیں، لیکن ہزاروں لوگ آج بھی اپنی تمام تر بے گناہی کے باوجود جیلوں میں سڑ رہے ہیں۔ان میں تازہ کھیپ ان لوگوں کی ہے جنھیں گزشتہ ایک سال کے دوران شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے خلاف پرامن احتجاج کرنے کی پاداش میں پابند سلاسل کیا گیا ہے۔ان میں سے درجنوں لوگوں کو غیرقانونی سرگرمیوں سے متعلق قانون (یو اے پی اے)کے تحت گرفتار کرکے جیلوں میں ڈالا گیا ہے اور انھیں ضمانت نہیں مل رہی ہے۔یہ لوگ کتنے عرصے مزید جیل میں رہیں گے اور کب تک انھیں ملک دشمنی کے الزامات کا سامنا کرنا پڑے گا، کسی کو نہیں معلوم۔
28دسمبر 2001 کی آدھی رات کا قصہ ہے۔ سورت پولیس نے مخبر کی اطلاع پاکر نواساری بازار کے ایک ہال پر چھاپہ مارا اور وہاں ایک پروگرام کے لیے جمع ہوئے تمام لوگوں کو گرفتار کرلیا۔پولیس نے دعویٰ کیا کہ اس نے وہاں سے ممنوعہ تنظیم ’سیمی‘ کی ممبرسازی کے فارموں کے علاوہ اسامہ بن لادن کی تعریف وتوصیف والے پوسٹر اور مواد برآمد کیاہے۔پولیس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جس وقت چھاپہ مارا گیا تو وہاں موجود لوگوں نے ثبوت مٹانے کے لیے اپنے اپنے موبائل سم نگل لیے۔حالانکہ یہ وہ دور تھا جب شاذ ونادر ہی کسی کے پاس موبائل فون ہوتا تھا۔ جس وقت یہ کارروائی انجام دی گئی اس وقت ’سیمی‘ پر پابندی کو محض دوماہ کا عرصہ ہی گزرا تھا۔وہاں موجود لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ ’تعلیمی حقوق اور دستوری رہنمائی‘ کے موضوع پرآل انڈیا مائنارٹیز ایجوکیشن بورڈ کے دوروزہ سیمینار میں شرکت کے لیے جمع ہوئے تھے۔ لیکن پولیس نے انھیں ’سیمی‘ سے اس لیے جوڑ دیا کیونکہ اس سیمینار کاہال جس ماجد منصوری کے نام پر بک کرایا گیا تھا، وہ ’سیمی‘ کے رکن ساجد منصوری کا بھائی تھا۔ پولیس کا الزام تھا کہ یہ سیمینار دراصل ’سیمی‘ کی سرگرمیاں چلانے کے لیے ایک آڑکے طورپر منعقد کیا گیا تھا۔
چیف میٹرپولیٹن مجسٹریٹ امت کمار دوے نے تمام ملزمان کو بری کرنے کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ استغاثہ ٹھوس ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا ہے، اس لیے ملزمان کو یو اے پی اے کے تحت قصوروار نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ عدالت نے مزید کہا کہ ان کے خلاف پیش کیے گئے شواہد نہ تو قابل یقین تھے اور نہ ہی اطمینان بخش۔ مجسٹریٹ نے کہا کہ پولیس ملزمان کا ’سیمی‘ سے تعلق ثابت کرنے میں ناکام رہی اور نہ ہی یہ ثابت کرسکی کہ یہ لوگ ’سیمی‘ کی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے وہاں جمع ہوئے تھے۔ عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ یہ لوگ وہاں ایک تعلیمی پروگرام کے لیے ہی جمع ہوئے تھے۔ نہ تو ان میں سے کسی کے پاس کوئی ہتھیار تھا اور نہ ہی پولیس چھاپے کے دوران کسی نے وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی۔ پولیس کو ان کے پاس سے ’سیمی‘ سے متعلق کوئی دستاویز بھی نہیں ملی اور نہ ہی ان کا ’سیمی‘ سے کوئی تعلق ثابت کیا جاسکا۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ جن لوگوں کو پولیس نے جھوٹے کیس میں پھنسایا تھا وہ سبھی تعلیم یافتہ تھے اور ملک کے مختلف حصوں سے تعلیم کے موضوع پر تبادلہ خیال کرنے جمع ہوئے تھے۔ اس میں وائس چانسلر، پروفیسر، انجینئر،ڈاکٹر، صحافی اور علماء شامل تھے۔ ان کے خلاف ملک دشمنی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہونے کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان میں جو لوگ ملازمت پیشہ تھے انھیں اپنی اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھونا پڑا اور وہ سماج میں سر اٹھاکر جینے کے قابل نہیں رہ پائے۔ ان پر لگائی گئی دفعات وہ تھیں جو وطن دشمنوں اور دہشت گردوں پرلگائی جاتی ہیں۔ان تمام لوگوں نے پچھلے بیس سال کا عرصہ جس ذہنی اذیت اور کرب میں گزارا ہے،اسے لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔ ہر دوماہ بعد انھیں عدالت میں حاضری لگا نا پڑتی تھی۔ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ جن پولیس والوں نے انھیں جھوٹے مقدمات میں پھنسایا تھا، انھیں ہی ان کے کیس میں انوسٹی گیشن کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، جو کہ انصاف کے اصولوں کے سراسر خلاف ہے۔ اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ان تمام لوگوں نے اپنی زندگی کے جو قیمتی بیس سال زبردست ذہنی اذیتوں کے ساتھ گزارے ہیں، ان کی بھرپائی کون کرے گا۔ جب مقدمات قایم ہوئے تو ان میں سے کئی لوگ جوان تھے اور ان کی پوری عمر خود کو بے گناہ ثابت کرنے کی جدوجہد میں گزر گئی۔جن لوگوں نے انھیں تمام تر بے گناہی کے باوجود جھوٹے مقدمات میں پھنساکر ان کی زندگیاں برباد کی ہیں، انھیں کیا سزا ملے گی؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ ان کی زندگی کے اس بیش قیمت عرصہ کی برباد ی کا کیامعاوضہ ملے گا؟ کیا ہمارے نظام میں جواب دہی کا کوئی سسٹم موجود ہے؟
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ اس طرح بے گناہوں کو سنگین دفعات میں ماخوذ کرکے ان کی زندگیاں جہنم بنائی گئی ہیں۔ اس سے پہلے بھی طویل عدالتی لڑائی کے بعدکئی لوگ اسی طرح باعزت بری ہوئے ہیں۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ ملک میں پہلی بار اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو ایک ساتھ ماخوذ کیا گیا۔ یعنی ایک سیمینار کے تما م ہی شرکاء کو ایک سراسر جھوٹے کیس میں پھنساکر ملک دشمنی کا ملزم گردانا گیا۔ظاہر ہے ان کی زندگی کے وہ سنہرے دن تو کبھی واپس نہیں آئیں گے جو انھوں نے ناقابل بیان ذہنی اذیتوں کے ساتھ گزارے ہیں اور نہ ہی ان پولیس والوں کو کوئی سزا ملے گی جنھوں نے ان تمام لوگوں کی زندگیاں برباد کیں، مگر ہاں ہمارے نظام کو اس بات پر غور ضرور کرنا چاہئے کہ اس نے پولیس کو جو اختیارات دئیے ہیں، وہ ان کا سراسر غلط استعمال آخر کب تک کرتی رہے گی اور کب تک سماج کے مظلوم طبقوں اور اقلیتوں کا جینا حرام کیا جاتا رہے گا۔آخر انصاف کی دیوی کب تک اپنی آنکھوں پر کالی پٹی باندھ کر یہ سب ظلم وستم سہتی رہے گی۔
اس دوران سپریم کورٹ میں ایک عرضی داخل کرکے جھوٹے مقدمات میں پھنسے لوگوں کو معاوضہ دلانے کے لیے گائڈ لائن بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے وکیل اشونی اپادھیائے کی طرف سے داخل کی گئی اس عرضی میں صوبوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں کے ساتھ ساتھ وزارت داخلہ،وزارت برائے قانون وانصاف اور لاء کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے۔عرضی میں کہا گیا ہے کہ ’غلط استغاثہ کے سبب لوگوں کو ہونے والا نقصان بہت بڑا ہے۔اس معاملہ میں مرکز کی بے عملی کے سبب دستور کی دفعہ21 میں حاصل شہریوں کی زندگی،آزادی اور احترام کے حق کی خلاف ورزی ہورہی ہے۔ واضح رہے اس سے قبل دہلی ہائی کورٹ نے30 نومبر 2017کو غلط استغاثہ کے متاثر ین کو راحت اور باز آبادکاری کے معاملے میں لاء کمیشن کو وسیع پیمانے پر غوروخوض کرنے کا حکم دیا تھا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ گزشتہ ہفتہ سپریم کورٹ میں دائر کی گئی اس عرضی پر عدالت عظمیٰ کیا موقف اختیار کرتی ہے۔حالانکہ یہ عرضی بری کیے گئے مذکورہ122لوگوں سے متعلق نہیں ہے مگر اس معاملے میں عدالت کی رولنگ اہم نظیر ثابت ہوسکتی ہے اور اس سے پولیس کی من مانی پر روک لگ سکتی ہے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)