سرخ میرا نام : ایک شاہکار ناول ـ قاسم بن ظہیر

ترکی کے عالمی شہرت یافتہ ادیب اورہان پامک کا شمار دنیا کے ممتاز ادیبوں میں ہوتا ہےـ اورہان ترکی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی عظیم راہنما اور لیڈر کے ہیں ـ بعض تاریخی کتابوں میں یہ نام اور خان کے تلفظ سے بھی مرقوم ہےـ (اردو میں یہ نام ہائے ہوّز(اورہان) اور حائے حطی (اورحان) دونوں سے لکھا جاتا ہےـ
اورہان کی ادبی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کو 2006 میں نوبل انعام بھی تفویض کیا جاچکا ہےـ
ان کا ناول "My Name is Red”
دنیا کے مشہور اور شاہکار ناولوں میں سے ایک ہےـ
ناول کے واقعات سولہویں صدی کے استنبول میں عثمانی سلطان مراد سوم (پیدائش:4 جولائی 1546.وفات: 16 جنوری 1595) (دور حکومت : 1574 سے 1595 تک) کے عہد میں رونما ہوتے ہیں ـ سلطان مراد سوم علم و فن کے قدردان تھےـ یہ ناول فکشن، تاریخ اور تہذیب و ثقافت کا دل کش امتزاج ہےـ
ناول کا موضوع بنیادی طور پر قدیم اسلامی اورعثمانی فن مصوری ہےـ جس کو منی ایچرآرٹ کہا جاتا ہےـ منی ایچرآرٹ کو ہم مختصر یا چھوٹی مصوری کہہ سکتے ہیں ـ منی ایچرآرٹ کے قدیم فن پارہ میں عموماً کسی پورے واقعے یا واقعے کے کچھ حصے کو مصور کیا جاتا تھا جیسے بادشاہ کادربار، شیریں فرہاد کا ملنا، کسی تاریخی محاذ پر جاتے ہوئے بادشاہ کے قافلے کا منظر وغیرہ ـ اس فن کی خاص بات یہ بھی ہے کہ تصویر میں دکھائے گئے منظر کے ساتھ اس بات کا بھی خیال رکھا جاتا ہے کہ رنگوں کے ذریعے موسم، سردی، گرمی کو بھی اجاگر کرنے ساتھ تصویر میں شامل تمام افراد و اشیا کی شکلیں اس طور پیش کی جائیں کہ ان کی شناخت آسان ہوـ
ناول کے آغاز میں ایک منی ایچر فن کار کا قتل ہوجاتا ہےـ مصنف نے قاتل کا سراغ لگاتے ہوئے منی ایچر فنکاروں کی زندگی کی جھلکیاں، ان کے مصوری سیکھنے سے لے کر استاد بننے تک کے مراحل کی تصویر کشی، ان کے نظریات و خیالات کی غمازی، ان کی ظاہر داری اور منافقت کی عکاسی، ان کی خودداری، مصوری کی تاریخ، تاریخی واقعات اوران سے مستفاد منی ایچر فن کاروں کی مرقع سازی، اس فن کے اسا تذہ کی روایتوں کی پاسداری، قدیم اسلامی فن مصوری کے اصول و روایت، اس فن کے لوازمات وغیرہ کا ذکراس ہوش مندی و ہنر مندی سے کیا ہے کہ قدیم اسلامی وعثمانی فن مصوری کے تمام اسرارو رموز، تاریخی و تہذیبی حوالوں کے ساتھ قاری کے سامنے آجاتے ہیں ـ
اس ناول میں مذکور ہے کہ مني ایچر فنکارفارسی کے قدیم ادبی شعری شاہکار فردوسی کے "شاہنامہ” اور نظامی گنجوی کے "خمسہ” کے واقعات اور داستانوں کو مصور کرنے کے ساتھ جنگوں، سلاطین کے دربار، ان کے شکار، سفر دسترخوان وغیرہ کی تصویر کشی کرتے تھےـ ظاہر ہے کہ یہ بہت دقت طلب اور باریک کام تھا،اسی وجہ سے منی ایچر فن کارآخر عمر میں اندھے ہوجاتے تھے اوراندھا ہونے کو خدا کی جانب سے قبولیت کی علامت سمجھتے تھےـ جواندھے نہیں ہوتے تھے ان میں سے بعض لوہے کی سلائی آنکھوں میں دے کرخود کواندھا کرلیتے تھےـ بعض ایسے بھی ہوتے تھے جو اندھا ہونے کی اداکاری کرتے تھے کہ نابینا پن ظاہر کرنے سے معاشرے میں ان کی عزت و وقار میں اضافہ ہوتا تھاـ منی ایچر فن کارطلوع آفتاب کے وقت مغرب کی سمت اپنی آنکھوں کو کسی چیز پر ٹکائے بغیر تاحد نگاہ آزاد چھوڑ دیتے تھےـ یہ ان کے نزدیک نگاہوں کی روشنی تیز کرنے اور تادیر قائم رکھنے کی کسرت تھی ـ
(راقم نے بھی کسی اصولِ صحت کے مضمون میں پڑھا تھا لیکن اس میں لکھا تھا کہ آغازِ طلوعِ شمس کے وقت جب شعاعیں نرم رہتی ہیں اس وقت سورج پر نگاہ ٹکانی چاہئے کہ اس سے نگاہ تیز ہوتی ہےـ کوئی میڈیکل سائنس کے عالم یہ تحریر پڑھ رہے ہوں تو اس بابت رہنمائی فرمائیں کہ اس بات میں کتنی حقیقت ہے)
اس ناول میں ایسی انوکھی اوردل فریب تکنیک کا استعمال کیا گیا ہے جو اس سے پہلے میں نے کسی ناول میں نہیں پڑھی ـ ناول کی کہانی صیغۂ واحد متکلم میں بیان کی گئی ہےـ ناول کا ہر کرداراپنے بارے میں خود بیان کرتا ہے حتیٰ کہ سکہ اور کتا بھی ـ
اس ناول کے جملوں کی ساخت عجب طرز کی ہےـ ترکی زبان میں اس اسلوب کو یقیناً البيلا اور مطالعہ کو دلچسپ بنانے والا طرز تسلیم کیا گیا ہوگاـ لکھنے کا یہ انداز دل کوبہت بھاتا ہےـ
ناول میں رونما ہونے والے واقعات مربوط بھی ہیں اور منطقی بھی ـ ربط اور منطق کی بات اس لئے لکھنی ضروری سمجھی کہ غیرمربوط ناول اور افسانے بھی لکھے جارہے ہیں جو عموماً ناخوشگوار اثر چھوڑتے ہیں ـ ناول دلچسپ ہے، قاری کو شروع سے ہی اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہےـ
ناول کی کہانی ژولیدگی سے پاک ہے اور اس طرح بُنی گئی ہے اور ناول کے تاروپود شفافیت سے اس طرح معمور ہیں کہ ناول پڑھتے ہوئے قاری بوجھل پن کا شکار نہیں ہوتا اور قاری کو ناول کے تانے بانے واضح نظرآتے ہیں جو خوشگوار اور دیرپا اثر چھوڑتے ہیں ـ ناول کا مطالعہ یکسوئی کا متاقضی ہے، ناول کا کینوس بہت وسیع ہے، جس میں مصنف نے پوری ایک تہذیب و ثقافت، تاریخ، اسلامی و مغربی تہذیب کے اندرون میں پلنے والے تصادم کو سمو دیا ہے اور درپردہ نرم لہجے میں اسلامی و مغربی تہذیب کی کشاکش کو بھی بیان کردیا ہےـ
ناول کا ہرکردار خود کو یاد رکھوانے کے ہنر سے متصف ہےـ کہانی کہنے کا انوکھا انداز، ناول کی متحیر کردینے والی سحرآمیز فضا قاری کو باندھے رکھتی ہے اورھان نے تاریخ نگاری ، تہذیب و ثقافت کی عکاسی، تخیل آفرینی اور حقیقت وفسانے کو مدغم کرکے ایسی فضا تخلیق کی ہے کہ قاری ناول مکمل کرنے کے بعد بھی اس کے طلسم سے نکل نہیں پاتاـ کتاب کا مواد ذہن میں چپک کر رہ جاتا ہےـ
اس ناول کو مشرقی اور مغربی تہذیب کےتصادم کے حوالے سے بھی جانا جاتاہے، ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایسا بھی ہےـ مشرقی یا اسلامی اور مغربی تہذیب کی کشمکش پر ہی ناول کی کہانی بنی گئی ہےـ اس معاملے میں اورہان کمالِ احتیاط سے غیر جانب دار رہے انھوں نے اس سلسلے میں اپنا مطمح نظر واضح نہیں کیاـ ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اورہان نے کچھ کہے بغیر بھی بہت کچھ کہہ دیا ہے اورکمالِ احتیاط سے اپنا دامن بھی صاف بچا لیا ہےـ اورہان مشرقی اور مغربی تہذیب کےتصادم کی بات تو کرتے ہیں لیکن ان کی خوبی یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کی تضحیک کئے بغیر نرم لہجے میں ان کا موقف پیش کردیتے ہیں ـ
اس ناول کا اردو ترجمہ ہما انور نے بعنوان "سرخ میرا نام” بہت محنت اور دقت نظر سے تخلیقی و محاوراتی زبان میں کیا ہےـ بعض کیفیات ایسی ہوتی ہیں جن کو لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہوتا ہےـ ایسی کیفیات کو ضبطِ تحریر میں لانا وہ بھی ترجمہ کے ذریعے سخت مشکل کام ہے لیکن ہما انور نے یہ کام بھی بحسن و خوبی انجام دیا ہےـ جس کو مطالعے کے بعد ہی محسوس کیا جاسکتا ہےـ اس ترجمے کو پڑھ کرہما انور کی ہردو زبان پر گرفت، ترجمہ نگاری اور عبارت سازی کا اعتراف کرنا پڑتا ہےـ
یہ دیکھ کر افسوس ہوا کہ سرورق پر دیباچہ لکھنے والے کا تو نام ہے لیکن مترجم کا نام شائع کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی گئی ہےـ یہ بھی فنکار کی حق تلفی ہے ـ میں اس پر اپنا شدید احتجاج درج کراتا ہوں ـ
یہ ناول سب سے پہلے 2000 میں منظرعام پر آیا تھا اور اس کا اردو قالب جمہور پبلیکیشنز لاہور نے کمالِ خوبصورتی و نفاست سے 2017 میں شائع کیا ہے ـ