مذاکرات کاپانچواں دوربھی ناکام،کسان تنظیمیں زرعی قوانین کی واپسی پر مصر

نئی دہلی:گذشتہ 10 دن سے دھرنے پر بیٹھے کسانوں کے ساتھ ہفتہ کے روز مرکزی حکومت کی پانچویں دورمیں بھی بات چیت میں کوئی حل نہیں نکلا۔ اب 9 دسمبر کو حکومت اور کسان تنظیموں کے مابین دوبارہ مذاکرات ہوں گے۔ ایک بار پھر 9 دسمبر کو دوپہر 12 بجے کسان یونین کے عہدیدار اور حکومت کے نمائندے ایک ساتھ بیٹھیں گے۔ حکومت نے 9 دسمبر کو کسانوں کے سامنے ایک بار پھر میٹنگ کی تجویز پیش کی ہے جسے کسان رہنماؤں نے قبول کرلیا۔ آج دہلی کے وگیان بھون میں مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر کے ساتھ 40کسان تنظیموں کے نمائندوں ، ریل ، تجارت اور خوراک کے وزیرپیوش گوئل اور وزیرمملکت برائے تجارت سوم پرکاش نے خطاب کیا۔ آج کے پانچویں دور کے مذاکرات سے ہر ایک اس مسئلے کے حل کے لیے پرامیدتھا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ کسانوں کی تنظیموں اور حکومت کے مابین کسی بھی قسم کی مفاہمت نہیں ہوسکی ہے۔اجلاس میں وزارت زراعت نے جمعرات کو چوتھے دور کی بات چیت کے دوران حکومت کو پیش کردہ 39 نکات پیش کیے۔ جمعرات کوچوتھے دور کی بات چیت کے دوران کسانوں نے یہ نکات اٹھائے تھے۔ حکومت نے کہا تھاکہ حکومت کسانوں کی شکایات پر غور کرسکتی ہے ،وہ قوانین میں ترمیم کرسکتی ہے۔ لیکن کسانوں نے اس سے انکار کردیا۔کسان یونین کے ذرائع نے بتایاہے کہ ابھی کوئی نئی بات نہیں ہوئی ہے ، وزرا پرانی باتیں کر رہے ہیں۔آل انڈیا کسان سبھا کے بالکرن سنگھ براڑنے کہاہے کہ ہم حکومت کی طرف سے تجویز کردہ ترمیم کو قبول نہیں کریں گے۔ ہم ان تینوں قوانین کی واپسی پراصرارکریں گی اور ہم آٹھ مطالبات کوپوراکرنے کامطالبہ کریں گے اور پھر ہم اس تحریک کو واپس لیں گے۔ یہ تینوں قوانین کھیتی باڑی کو سرمایہ داروں کے حوالے کرنے کی تیاری ہے۔آج ایک بار پھر کسان قائدین نے حکومت کاکھانا نہیں کھایا۔ انہوں نے گرودوارے سے صرف لنگر کا کھانا کھایا۔