مذاکرات کے لیے تیار ہیں ،بشرطیکہ امریکہ بھی چاہتا ہو: روس

ماسکو :روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے امریکیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مزید مذاکرات جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں بشرطیکہ وائٹ ہاؤس بھی نتیجہ خیز بات چیت کرنے پر راضی ہو۔ خبر کے مطابق، جنیوا میں دو روز قبل امریکی صدر جوبائیڈن سے پہلی ملاقات کے بعد روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے ایک انٹرویو میں ملاقات کو کافی حد تک دوستانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اہم معاملات پر ایک دوسرے کو سمجھنے میں کامیاب رہے ہیں۔روسی صدر نے مذاکرات جاری رکھنے کے سوال کے جواب میں کہا کہ بات چیت کو جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں تاہم اس کے لیے امریکا کا بھی راضی ہونا ضروری ہے۔ ایک فریق خواہش نہ رکھتا ہو تو دوسرا فریق کیا کرسکتا ہے۔ صدر پوٹن نے امریکی صدر جوبائیڈن کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک پیشہ ور اور منجھے ہوئے سیاست دان ہیں جن کے ساتھ کام کرتے وقت بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ امریکی صدر کی تعریفوں پر جب صدر پوٹن سے پوچھا گیا کہ پھر مذاکرات کے کامیاب نہ ہونے کی وجہ تھی تو انہوں نے کہا کہ امریکی سمجھتے ہیں کہ کوئی بھی چیز خود اْن کی ذات سے زیادہ اہم نہیں ہے۔ اس موقع پر وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری جین ساکی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ خوبصورت اور نوجوان تعلیم یافتہ خاتون ہیں تاہم روسی صدر نے دبے الفاظ میں طنز کرتے ہوئے کہا کہ جب لوگ کچھ چیزوں کو ثانوی سمجھ لیں تو وہ اس پر زیادہ توجہ نہیں دیتے۔ واضح رہے کہ 16 جون کو جنیوا میں امریکی اور روسی صدر کے درمیان 3 گھنٹوں پر محیط بات چیت کے بعد دونوں رہنماؤں نے جوہری ہتھیاروں میں کمی کے معاہدے سے متعلق بات چیت شروع کرنے پر اتفاق کرتے ہوئے ایک مختصر بیان جاری کرنے پر اکتفا کیا تھا۔