مظفر نگر فسادات نے کسانوں کومنقسم کیا تھا،نئی تحریک سے متحدہونے کی شروعات

نئی دہلی:دہلی بارڈر پر زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والے کسانوں نے نہ صرف ملک میں سیاسی اور شہری حقوق کاشعوراجاگرکیا ہے،بلکہ یہ کسان تحریک معاشرتی شعور کو بیدار کرنے کی انوکھی مثال پیش کررہی ہے۔ غازی پور بارڈرپرمغربی یوپی کے لوگ بھی مرکزی حکومت کے خلاف متحدنظر آرہے ہیں ، جو سات آٹھ سال پہلے فسادات کی وجہ سے نہ صرف ایک دوسرے کے خلاف منفی جذبات کے شکار تھے بلکہ ایک دوسرے کے دشمن بھی بن چکے تھے۔2013 میں مظفر نگر فسادات کی وجہ سے متعدد پنچایتیں تقسیم ہوگئیں۔ مسلمان ہندوستانی کسان یونین سے الگ ہوگئے تھے ، لیکن اب سب راکیش ٹکیت کی حمایت میں پنچایتوں میں ایک ساتھ جمع ہو رہے ہیں۔ اس میں قمر الدین اور پرگت سنگھ ایک بار پھر ایک ساتھ نظر آئیں گے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ اب مختلف سیاسی جماعتوں میں بٹے ہوئے لوگ پنچایت کی وجہ سے متحدہو رہے ہیں۔