مطالعہ کا ڈھنگ (2)- محمد عامر خاکوانی

 

دینی، علمی جریدے” النخیل“ کے مطالعہ اور اسلوب مطالعہ کے حوالے سے کئی سو صفحات پر محیط خاص نمبر کا تذکرہ چل رہا ہے، پچھلی نشست میں چند اہل علم کے نئے قارئین اور لکھنے والوں کو دیے گئے مشوروں کا ذکر کیا۔ آج اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہیں۔

ڈاکٹرمحمد رضی الاسلام ندوی ہندوستان کے معروف دانشور اور دینی سکالر ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:” نئے لکھنے والوں اور نوجوانوں کو میرا مشورہ ہے کہ آوارہ مطالعہ سے بچیں۔ یہ رویہ درست نہیں ہے کہ جو کتاب بھی ہاتھ لگ جائے ، اسے پڑھ جائیں بلکہ منتخب مطالعہ کی عادت ڈالیں۔ دوسری بات یہ کہ صرف ہلکی پھلکی ، قصے کہانیوں اور ناولوں کے مطالعہ پر اکتفا نہ کریں بلکہ سنجیدہ علمی اور دینی کتابوں کو بھی اپنے مطالعہ میں شامل رکھیں۔ دونوں طرح کی کتابوں کا مطالعہ ضروری ہے اور دونوں کی اپنی اپنی افادیت ہے ۔ تیسری بات یہ کہ عمومی مطالعہ کے ساتھ اختصاصی مطالعہ کو بھی اپنے پروگرام میں شامل کریں، اختصاصی مطالعہ کا مطلب یہ ہے کہ کسی ایک شخصیت کی تمام کتابیں پڑھ جائیں یا کسی ایک موضوع کی تمام اہم کتابوں کا مطالعہ کریں۔ چوتھی بات یہ کہ مطالعہ کے سلسلہ میں صرف اپنے ذوق پر انحصار نہ کریں بلکہ کسی صاحب علم شخصیت کی رہنمائی میں مطالعہ کیا کریں اور وقتاً فوقتاً اس سے مشورہ کرتے رہا کریں بلکہ ایک سے زیادہ شخصیات سے رہنمائی حاصل کرنا بہتر ہوگا۔ “

جامعہ ملیہ ، دہلی کے پروفیسر اسلامک سٹڈیز ڈاکٹر مفتی مشتاق تجاوری کا کہنا ہے،”نئے لکھنے والوں کو چاہیے کہ مطالعہ اس طرح کریں جیسے درخت ہوتا ہے۔ جس طرح درخت میں ایک تنا ، کچھ شاخیں اور پتیاں ہوتی ہیں ، اسی طرح مطالعہ کرنے والے کو ایک موضوع پر گہرائی کے ساتھ پڑھنا چاہیے اور اس کے علاوہ ضمنی موضوعات پر نسبتاً کم اور متنوع چیزیں پڑھنی چاہئیں۔ میرا اندازہ ہے کہ ایک موضوع پر پندرہ یا بیس کتابیں پڑھ لیں تو اس میں خاصی مہارت حاصل ہوجاتی ہے ۔ جس موضوع سے زیادہ دلچسپی ہو، اس کی زیادہ کتابیں پڑھیں اور اہم ترین کتابوں کو بار بار پڑھیں، کم از کم دس بار ۔ ا س طرح اس فن میں بصیرت حاصل ہوجائے گی اور اس کے اسرار کھلنے لگیں گے۔ تنا مضبوط کرنے کے ساتھ اس موضوع کے اردگرد مجموعی طور پر پوری علمی دنیا سے واقفیت کا سلسلہ رہے کیونکہ شاخوں اور پتوں کے بغیردرخت بے ڈھب ہوجاتا ہے ۔ یہ بھی کوشش کریں کہ مستند اور معروف مصنفین کی کتابیں پڑھیں اور متوازن فکر کے لوگوں کو پڑھیں کیونکہ پڑھنا آسان ہے لیکن پڑھے ہوئے کو ”بے پڑھا “ بنانا بہت مشکل۔ حسب توفیق سفرنامہ، افسانہ یا کم از کم ڈائری ضرور لکھنی چاہیے ، اس طرح مافی الضمیر کو ادا کرنے کی مشق ہوجائے گی۔“

مولانا محمد سلمان بجنوری نے اپنی تحریر میں ایک اہم نکتہ کو واضح کیا، لکھتے ہیں:”بہت سے طلبہ یا نئے پڑھنے والے یہ شکایت کرتے ہیں کہ مطالعہ کرتے ہیں تو یاد نہیں رہتا ، ایسی صورت میں مطالعہ کرنے سے کیا فائدہ ؟ بات یہ ہے کہ آپ جتنا مطالعہ کرتے جائیں گے، یاد رکھنے کی صلاحیت بڑھتی جائے گی۔ مولانا وحید الزماں کیرانوی کہا کرتے تھے کہ ذہن کی مثال سوکھی زمین کی طرح ہے۔ زمین میں اگر پہلی بار پانی ڈالا جائے تو پورا خشک ہوجاتا ہے، اوپر نام ونشاں بھی نہیں رہتا، لیکن اسی جگہ پردوبارہ پانی ڈالیں تو اس کے خشک ہونے میں دیر لگتی ہے، پھر سہ بارہ اسی جگہ ڈال دیں تو اور دیر لگتی ہے ۔ ایک وقت ایسا آتا ہے کہ اگر اسی زمین پر پانی ڈالا جاتا رہے تو وہ جذب نہیں ہوتا اور اوپر ہی رک جاتا ہے۔ یہی معاملہ حافظے کا ہے کہ شروع میں حافظہ اس کو پیتا ہے اور زیادہ یاد نہیں رہتا لیکن پھر آہستہ آہستہ زیادہ پڑھنے سے یاد رکھنے کی عادت ہوجاتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ پڑھنے کا مقصد صرف یاد رکھنا ہی نہیں ہے بلکہ ذہنی معیار کو اونچا کرنا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ ایک اور بات یاد رکھیں کہ ادب برائے ادب یا ادب برائے زندگی کے نظریات کے بجائے ترمیم کر کے ادب برائے بندگی اختیار کریں، آدمی کا مطالعہ وہی ہونا چاہیے جو اس کے لئے بندگی میں معاون ہواور گویا دینی اور فکری اعتبار سے درست راستے پر رکھ سکے ۔ “

ایڈیشنل آئی جی پولیس ، پنجاب غلام رسول زاہد قرآن وتفسیر میں پی ایچ ڈی اور خاصے صاحب مطالعہ ہیں۔ انہوں نے اپنے مطالعہ کو شیئر کرتے ہوئے لکھا:”مطالعہ کے ارتقا اور زمانی تدریج میں سے اہم مثال قرآن عظیم کی ہے۔ یہ مبارک کتاب زندگی کے ہر مرحلے میں رہنمائی اور حلاوت کا ساماں پیدا کرتی ہے۔ جہاں تک علوم اسلامیہ کا تعلق ہے تو اس میں السیوطی اور قرطبی کے بعد شاہ ولی اللہ کے مطالعہ نے ذہنی تربیت پر گہرا اثر ڈالا۔ شاہ صاحب کی حجتہ اللہ البالغہ، الفوز الکبیر اور الانصاف معرکے کی کتابیں ہیں۔ حضرت مجدد الف ثانی کے مکتوبات ہر دو رمیں زیر مطالعہ رہے ۔ مولانا شبیر احمد عثمانی کے حواشی قرآن اور سید مودودی کی کتابیں جذبہ محرکہ کا کام دیتی رہیں۔ تفاسیر میں معارف القرآن، تدبرالقرآن، ضیا القرآن اور تبیان القرآن اہم لگیں۔ متقدمین میں تفسیر طبری، تفسیر ابن کثیر، تفسیر احکام القرآن از قرطبی اور تفسیر کبیر از امام رازی قرآن فہمی کے ہر دور میں مشعل راہ ہیں۔ ابن خلدون کا مقدمہ تاریخ خاصہ کی چیز ہے۔ ڈاکٹر حمیداللہ کی تصنیفات خاص کر خطبات بہاولپور اور علامہ اسد کی کتابیں روڈ ٹومکہ اور اسلام ایٹ کراس روڈ نے خصوصیت سے متاثر کیا۔

” سیرت پر سلمان منصور پوری کی رحمتہ العالمین ، شبلی کی سیرت النبی، نعیم صدیقی کی محسن انسانیت جبکہ سیرت صحابہ کرام پر حیاتہ الصحابہ، ہیکل کی عمرؓ ، شبلی کی الفاروق، طحہ حسین کی چاروں خلفا پر کتابیں، کریگ کی بلال اور عباس محمود العقاد کی تحریر کر دہ سوانح قابل قدرمواد فراہم کرتی ہیں۔ تصوف پر میری پسندیدہ کتابوں میں شیخ سہروردی کی عوارف العارف،شیخ ابن عربی کی فصوص الحکم،سید علی ہجویری کی کشف المحجوب ،خواجہ نظام الاولیا کی فوائد الفواد ، ابریز اور یوسف سلیم چشتی کی تاریخ تصوف شامل ہیں۔ اقبال کی فارسی شاعری خاص کر اسرار خودی اور جاوید نامہ سحر انگیز ہیں۔ دیوان حافظ اور گلستان سعدی نہایت اعلیٰ پائے کی ہیں۔ عمومی کتب میں مختار مسعود کی آواز دوست، سفر نصیب اور لوح ایام کے علاوہ ایس ایم اکرام کی آب کوثر، رود کوثر، موج کوثر مفید ہیں۔ خود نوشت میں مولانا عبدالماجد دریابادی کی آپ بیتی، قدرت اللہ شہاب کی شہاب نامہ، دیوان سنگھ مفتون کی ناقابل فراموش، احسان دانش کی جہان دانش، مشتاق یوسفی کی زرگزشت اور ڈاکٹر جاوید اقبال کی اپنا گریباں چاک قابل ذکر ہیں۔امہات کتب جیسے طبقات ابن سعد، ابن ہشام، تاریخ الخلفا، الملل والنحل اور البدایہ والنھایہ کے ساتھ مقدمہ ابن خلدون لازمی پڑھیں۔ ول ڈیورانٹ کی سٹوری آف سویلائزیشن، سٹوری آف فلاسفی اور خاص طور سے لیسنز آف ہسٹری، مولانا علی ندوی کی تاریخ دعوت وعزیمت اور اسماعیل ریحان کی تاریخ امت مسلمہ کو مطالعہ میں ضرور شامل رکھیں۔ بیکن کا قول ذہن میں رہے کہ کچھ کتابیں صرف چکھی جاتی ہیں، کچھ تکلفاً حلق سے نیچے اتاری جاتی ہیں اور کچھ کتابیں خوب مزے لے کر چبائی جاتی اور ہضم کی جاتی ہیں۔ “

مورخ اور مصنف اسماعیل ریحان کہتے ہیں:”جن طلبہ کو تاریخ سے دلچسپی ہے وہ تاریخ ابن خلدون اور تاریخ ابن کثیر کا مطالعہ ضرور کریں۔ فن تاریخ کی امہات کتب جیسے تاریخ خلیفہ بن خیاط، طبقات ابن سعد، انساب الاشراف اور تاریخ طبری میں ہر قسم کی درست ، ضعیف بلکہ باہم متعارض روایات بھی جمع کر دی گئی ہیں، اس لئے بہت سے لوگوں کو ان کتب سے استفادے کا طریقہ معلوم نہیں۔ یہ کتب محققین کو مدد دینے کے لئے ہیں۔ نئے لوگ وہ کتب پڑھیں جن میں معتبر مواد کا خلاصہ ہو یا صحیح غلط کی وضاحت ہو۔ بہت سے لوگ مستشرقین سے متاثر ہیں حالانکہ انہیں محتاط رہ کر پڑھنا چاہیے ۔ جیسے جرجی زیدان کی کتاب تمدن عرب کے نام سے مشہور ہے، اس میں بعض جگہ صحابہ کے خلاف زہر بھرا ہے، بعض دیگر مستشرقین کی کتاب میں بھی یہی معاملہ ہے ۔

”اسلم جیراج پوری نے تاریخ الامت کے نام سے کتاب لکھی تھی، یہ صاحب انکار حدیث کے فتنہ کا شکار ہوگئے تھے، انہوں نے مستند احادیث کو بھی قبول نہیں کیا، تاریخ الامت میں بھی ہر قسم کی رطب ویابس چیزیں جمع کر دیں۔ ڈاکٹر خضری بک کی محاضرات التاریخ الاسلامی مشہور ہے ، اس کا بغور جائزہ لیا تو معلوام ہے کہ بکثرت کمزور چیزیں شامل ہیں۔ ڈاکٹر طہٰ حسین کی سیدنا عثمان ؓ اور سیدنا علی ؓ پر کتب بھی ایسی بے احتیاطی کا نمونہ ہیں۔ میں قدیم علما میں حافظ شمس الدین ذہبی کی کتب کو سامنے رکھتا ہوں، خاص کر سیراعلام النبلاءاور تاریخ اسلام جو علوم کا مجمع البحار ہیں۔ علامہ ابن الجوزی، امام ابن تیمیہ، علامہ ابن القیم، حافظ ابن حجراور ملا علی قاری کی کتب بھی پیش نظر رہتی ہیں۔ مولانا سید ابوالحسن علی ندوی اور مولانا سید سلیمان ندوی کی کتاب میں شاندار کام ہوا ہے۔ مولانااطہر مبارک پوری نے اہم کام کیا ہے۔ ہمارے اکثر تاریخی ناول نگاروں کو تاریخ کاکچھ زیادہ علم نہیں ہوتا۔ تاریخی ناول نگار نے اچھی طرح تاریخ پڑھی ہو تو اس کی کاوش سے قارئین میں تاریخی ذوق پیدا ہونے سے انکار نہیں مگر تاریخ شناسی صرف تاریخی ناولوں سے نہیں ہوتی۔ اس کے لئے بڑی محنت ، توجہ ، فراغت وقت، مطالعہ اور اصول تاریخ شناسی درکار ہیں۔ “