مستقبل کے مسائل کا مقابلہ کرنے کے لیے سرکردہ علما و دانشوران کی اہم میٹنگ، ’جرگہ برائے مضبوط انڈیا‘کے زیرعنوان خصوصی کمیٹی کا قیام

نئی دہلی:نئی دہلی کے انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں ملک کے سرکردہ مسلم رہنما ،علماء اور دانشوران نے 3مارچ 2021 کو ایک خصوصی میٹنگ میں شرکت کی جسے جرگہ برائے مضبوط انڈیا کا عنوان دیا گیا۔ اس میٹنگ میں علماء ودانشوران نے ملک و ملت کے موجودہ حالات اور مستقبل میں پیش آنے والے مسائل کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں تفصیلی گفتگوکی۔ مسلمانوں کی سیاسی،سماجی اور معاشی پستی و بدحالی کو دور کرنے کے تئیں غور و خوض ہوا اور ایک لائحہ عمل طے کرنے کی کوشش سامنے آئی۔سرکردہ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ موجودہ صورت حال ملک کیلئے اور بالخصوص مسلمانوں کیلئے بہت سنگین ہیں۔ آنے والے حالات اس سے بھی زیادہ مشکل ہوں گے۔ اس لیے اب ضروری ہوگیا ہے کہ ہم سب ایک ساتھ کوئی منصوبہ بنائیں اور اسے عملی جامہ پہنائیں۔ یہ میٹنگ بند کمرے میں ہوئی ، شرکاء اور مدعوین کے علاوہ کسی کو اس کی اطلاع نہیں تھی اور میڈیا سے بھی مکمل دوری اختیار کی گئی۔میٹنگ میں شریک قائدین اور دانشوران نے طویل غور وخوض اور بات چیت کی بعدکسی حل تک پہونچنے کی کوشش کی اور اتفاق رائے سے یہ تجاویز پاس کیںکہ یہ جرگہ مسلمانوں کے درمیان سیاسی ، سماجی اور ملی ہم آہنگی پیداکرنے کی کوشش کرے گا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ ان کے بنیادی حقوق اور شناخت محفوظ رہیں۔جرگہ کمزورطبقات، اقلیتوں، اوبی سی ، شیڈول کاسٹ اور شیڈول ٹرائب کی مدد کرنے کی کوشش کرے گا۔ اس کے علاوہ تمام کمزور طبقات یعنی اقلیتوں ، مسلمانوں ، دلتوں ،کسانوں ، مزدوروں ،چھوٹے تاجروں اور دیگر غیر منظم گروپ کی سیاسی آواز کو مشترکہ طور پر مضبوط کرنے کی کوشش ہوگی۔ جرگہ شہریت ترمیمی قانون ، این آر سی ، این پی آر ، کسانوں سے متعلق قانون اور دیگر سبھی غیر آئینی قانون کی مخالفت کرے گا۔ملی اطلاعات کے مطابق میٹنگ میں موجود علماء و دانشوران کے طویل غور و خوض کے بعد مذکورہ تجاویز پاس ہوئیں اور اسے عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس کی سربراہی سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی کریں گے جبکہ کنوینر کے فرائض انجام دیں گے سپریم کے کورٹ کے سینئر وکیل محمود پراچہ۔ کمیٹی کے ممبران میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد ولی رحمانی،ڈاکٹر ظفر الاسلام خان سابق چیئرمین دہلی اقلیتی ، مولاناخلیل الرحمان سجادنعمانی ،مولانا کلب جواد، مفتی مکرم شاہی امام فتح پوری مسجد دہلی سمیت متعدد اہم شخصیات کے نام شامل ہیں۔میٹنگ کی صدارت آل انڈیا مسلم پرسنل لائبورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد ولی رحمانی نے کی۔ان کے علاوہ مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی رکن عاملہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ، سید سرور چشتی سجادہ نشیں خادم درگاہ اجمیر شریف،مفتی شعیب اللہ مفتی مہتمم مدرسہ مسیح العلوم بنگلورو، مولانا عبید اللہ خان اعظمی سابق راجیہ سبھا ایم پی، مولانا فضل الرحمن مجددی مہتمم جامعہ ہدایت العلوم جے پور، مولانا ابو طالب رحمانی جنرل سکریٹری تفہیم شریعت کولکاتا، مفتی مکرم احمد شاہی امام فتح پوری مسجد دہلی، ڈاکٹر ایس وائی قریشی سابق چیف الیکشن کمشنر۔ مولانا کلب جواد، ڈاکٹر ظفر الاسلام خان سابق چیئرمین دہلی اقلیتی کمیشن، سراج الدین قریشی صدر انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر نئی دہلی۔ مفتی منظور ضیائی مشیر حاجی علی درگاہ ممبئی۔مولانا عبد الحمید نعمانی جنرل سیکرٹری آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت۔ میر علی رضا صدر انجمن اسلامیہ بنگلور۔ڈاکٹر جنید حارث پروفیسر جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی۔ ڈاکٹر تنسیمہ احمدی وکیل سپریم کورٹ آف انڈیا۔فرید شیخ صدر امن کمیٹی ممبئی۔ بہادر عباس نقوی صدر انجمن حیدری دہلی۔ ڈاکٹر مفتی اعجاز ارشدقاسمی جنرل سکریٹری پیس فاؤنڈیشن دہلی۔ شمس تبریز قاسمی چیف ایڈیٹر ملت ٹائمز نے میٹنگ میں حصہ لیا۔ علاوہ ازیں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ ڈاکٹر وجاہب حبیب اللہ سابق چیف انفارمیشن کمیشن حکومت ہند۔ مولانا محمود دریاآبادی ممبئی۔ مولانا عمرین محفوظ رحمانی مالیگاؤں۔ ڈاکٹر ظفر محمود چیرمین زکوۃ فاؤنڈیشن۔ مولانا اطہر علی چیرمین ایک مینار مسجد۔ ڈاکٹر ظہیر قاضی صدر انجمن اسلامیہ ممبئی نے میٹنگ میں شرکت کی۔ علاوہ ازیں جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی کے نمائندہ کی حیثیت سے جناب معتصم ملک اور مرکزی جمعیت اہل حدیث کے نمائندہ کی حیثیت ڈاکٹر شیش تیمی وہاں موجود رہے۔جرگہ برائے مضبوط انڈیا کے عنوان کے تحت ہونے والی میٹنگ دو سیشن پر مشتمل تھی پہلے سیشن میں ملی اور سماجی مسائل پر غور و خوض کیا گیا جبکہ دوسرے سیشن میں مسلمانوں کی سیاسی پارٹیوں پر خصوصی بات چیت ہوئی اور اس میں متعدد سیاسی پارٹیوں کے رہنما نے شرکت کی اور اپنے مشن اور مقاصد کا تذکرہ کیا۔ ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے صدر ڈاکٹر قاسم رسول الیاس۔ سوشل ڈیمو کریٹک پارٹی آف انڈیا کے جنرل سکریٹری محمد شفیع۔ راشٹریہ علماء کونسل کے دہلی صوبہ کے صدر محمد نور اللہ۔ پیس پارٹی کے صدر ڈاکٹر محمد ایوب۔ انڈین یونین مسلم لیگ کے سکریٹری خرم انیس عمر سمیت کئی اہم رہنما نے شرکت کی۔ اس موقع پر مولانا خلیل الرحمن سجا دنعمانی نے اپنی کلیدی گفتگو میں سیاسی پارٹیوں کو ضروری قرار دیا اور مولانا ابو المحاسن سجادکی سیاسی سرگرمیوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کے موجود ہ حالات میں یہ بہت ضروری ہے کہ کانگریس اور دیگر سیکولر پارٹیوں کا حصہ بننے کے بجائے ہم خود اپنی سیاسی پارٹیوں کو آگے بڑھائیں۔ اسے مضبوط کریں۔ ملک کے موجودہ حالات اور مستقبل میں مسلمانوں کی سیاسی ، سماجی اور معاشی ترقی کیلئے سیاسی طاقت کا حصول اورایسی پارٹیوں کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔میٹنگ کا آعاز صبح گیارہ بجے ہوا اور تقریباً شام پانچ ساڑھے بجے تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ مسلمانوں کے مسائل اور موجودہ حالات پر لائحہ عمل طرنے کے لیے اس اہم میٹنگ کا انعقاد سپریم کورٹ کے سینئروکیل محمود پراچہ، مفتی اعجاز ارشد قاسمی اور بہاد عباس نقوی کی مشترکہ کوششوں سے عمل میں آیا۔واضح رہے کہ طویل عرصہ بعدمسلم قائدین اور دانشوران کی جانب سے اس طرح کی کوئی پہل سامنے آئی ہے جس میں مختلف مسلک ، طبقہ ، تنظیم اور گروپ سے تعلق رکھنے والے اہم رہنما ، علماء ، دانشوران ایک ساتھ نظر آئے اور مسلمانوں کے سیاسی ، سماجی اور مسلی مسائل پر بات چیت کرکے کسی نتیجہ تک پہونچنے کی کوشش کی اور مسلمانوں کے سیاسی مسائل پر مسلک سے اوپر اٹھ کر سبھی ایک ساتھ بیٹھے۔ میٹنگ میں موجود شخصیات کے ناموں سے اندازہ ہورہا ہے کہ اعلیٰ ترین مسلم قیادت نے اس میں شرکت کی تاہم کچھ اہم مسلم تنظیموں کی نمائندگی اس میں نظر نہیں آئی۔ میٹنگ کے شرکاء پر مشتمل ملت ٹائمز کو جو فہرست دستیاب ہوئی ہے اس میں جمیعت علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی کا نام موجود ہے حالاں کہ وہ موجود نہیں رہے۔ ذرائع کے مطابق ایڈوکیٹ محمود پراچہ اور مفتی اعجاز ارشد قاسمی نے کئی مرتبہ مولانا ارشد مدنی سے ملاقات کی تھی اور انہوں نے شرکت کی یقین دہانی بھی کرائی تھی تاہم اچانک کسی مصروفیت کی وجہ سے شریک نہیں ہو سکے۔ جبکہ دوسرے گرو پ سے مولانا محمود مدنی اوردیگرذمہ داروں کا فہرست میں کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد منظور عالم کا نام فہرست میں تھا اور ذرائع سے ملی خبر کے مطابق وہ شرکت کے خواہش مند بھی تھے تاہم اپنی علالت کے سبب شریک نہیں ہوسکے۔