مصطفیٰ کمال ہاشمی صاحب کی یاد میں -ڈاکٹر ممتاز احمد خاں

فون : 9852083803
میرے دوست مصطفی کمال ہاشمی کو وفات پائے ۲۱؍سال ہوگئے مگر ان کی یاد ان برسوں میں ہمیشہ تازہ رہی ۔ میں نے ان کی وفات کے بعد ایک تاثراتی مضمون لکھا تھا مگر وہ مضمون میری ڈائری ہی میں رہا ۔ اس کےچھپنے کی طرف میں تو جہ نہ کرسکا ۔ ادھر اس ڈائری کی تلاش کرنے لگا تو وہ مکان کی سب سے بالائی منزل پر ایک کمرے میں کتابوں میں پرانی ڈائریوں کے انبار میں ملی ۔ آج میں اس مضمون کو صاف کرنے بیٹھا ہو ں ، جی چاہتا ہے کہ اس تاثراتی تحریر کے ساتھ مصطفی کمال ہاشمی صاحب کے مختصر حالاتِ زندگی بھی لکھ دوں:
’ مصطفی کمال ہاشمی کے والد کا نام ابراہیم ہاشمی ہے ۔ وہ یحیٰ پور منیرشریف کے رہنے والے تھے مصطفی کمال ہاشمی ۱۰؍نومبر ۱۹۳۸ پیدا ہوئے ۔ ان کی شادی ڈاکٹر محمد صدرالحق ساکن موضع بہہ پورہ کی دخترنزہت آرا سے ہوئی ۔ کمال ہاشمی صاحب نے پٹنہ یونیور سیٹی میں اعلی تعلیم پائی اور انگریزی میں ایم اے کا امتحان پاس کیا ۔ بعد میں انہو ں نے اسی یونیورسیٹی سے فارسی میں ایم اے کیا ۔پروفیسر کلیم الدین احمد صاحب کی نگرانی میں وزارت ِتعلیم حکومت ِہند نئی دہلی کی جانب سے انگلش اردو ، ڈکشنری پروجیکٹ میں بحیثیت پروجکٹ آفیسر برسوں کام کیا ۔ بعدہ خدا بخش اور نٹیل پبلک لائبریری پٹنہ میں بحیثیت اسسٹنٹ لائبریریین ان کا تقرر ہوا ۔ لائبریر ی نے ان کی بہتر کارکردگی کے عوض انہیں دو اضافی انکرمنٹ سے بھی نوازا ۔ ۱۹۹۸میں ان کو پہلا ہارٹ اٹیک ہوا ۔ پھر وہ آرام و علاج کے بعد نارمل ہوگئے تھے ۔ ابھی وہ ملازمت میں ہی تھے کہ دہلی بغرضـ علاج جاتے ہوئے ٹرین میں ان کو دوسرا ہارٹ اٹیک ہوا اور وہ لکھنؤکے مقام پر ۱۸فروری ۱۹۹۹ رات گیارہ بج کر بیس منٹ پر خالق حقیقی سے جاملے ۔ انا للہ ….۲۰فروری کو ان کا جسد خاکی منیرشریف کے قبرستا ن میں سپرد ِخاک کیا گیا ۔ ان کی اہلیہ محترمہ اس مضمون کے لکھے جانے کی تاریخ تک زندہ سلامت ہیں ۔ وہ فی الوقت درگاہ شاہ ارزانی کے پاس اپنی چھوٹی بیٹی شریں ہاشمی کے ساتھ رہتی ہیں ۔ ان کی بڑی بیٹی نوشین کمال اپنے شوہر کے ساتھ بحرین میں رہتی ہیں اور ان کا بیٹا عدنان مصطفی سعودی عربیہ میں ملازمت کرتا ہے ۔ اللہ تعالی کمال ہاشمی صاحب کے بچوں کی حفاظت فرمائے ۔
مصطفی کمال ہاشمی صاحب میرے بہترین دوست اور رفیق تھے ۔ وہ مجھ سے تقریبا گیارہ برس بڑے تھے ان سے ایک دو ملاقاتیں مکرمی ناصر رضاخاں جلالی صاحب کے ساتھ ہوئی تھیں۔ وہ۲جولائی ۱۹۷۵و مجھے سے ملنے شاد لوجنگ درزی ٹولہ کی گلی پٹنہ تشریف لائے اور مجھے پروفیسر کلیم الدین احمد کا یہ پیغام دیا کہ انہو ں نے مجھے ملاقات کےلیے بلایا ہے ۔ میں انگریزی میں ایم اے پاس کرنے کےبعد میں اپنے دوست حافظ محمد فیروز الدین کے ساتھ شاد لاجنگ میں ٹھہرا ہوا تھا ۔ میں دوسرے ہی دن سائیکل سے پروفیسر کلیم الدین احمد صاحب سے ملاقات کے لیے گیا ۔ وہ اپنے مکان پر ہی انگریزی اردو ڈکشنری پروجیکٹ کے دفتر میں تشریف فرما تھے ۔ انہو ں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ ڈکشنری پروجیکٹ میں کام کریں گے ؟میں نے عرض کیا ’میں ضرور کام کروں گا ۔ اس لئے کہ میں فی الوقت کسی ملازمت سے وابستہ نہیں ہواہوں‘ ۔ انہو ں نے فرمایا کہ میں 5جولائی کو آکر دفتر جوائن کروں ۔ اس طرح اسسٹنٹ ریسرچ آفیسر کی حیثیت سے لغت سازی کے اس آفس میں میرا تقرر ہوا ۔ میں وہاں صرف ایک شخص کو پہچانتا تھا یعنی ناصر رضا خان جلالی صاحب کو کہ وہ میرے رشتہ دار تھے اور میرے موضع کے قریب ہی ان کا گاؤں تھا ۔ بقیہ حضرات میں جناب عبدالحمید ، جناب محمدکاظم اور جناب مصطفی کمال ہاشمی لغت سازی میں آفیسر تھے ۔ ان کے علاوہ ٹائپسٹ کی حیثیت سے محمد معرو ف عالم صاحب (دانا پور )اور محمد نسیم احمدصاحب بھ پورہ تھے) ۔ محمد کاظم صاحب شعبئہ اردوبی این کالج پٹنہ کے ریٹائرڈ پروفیسر تھے اور جناب عبدالحمید ہائی کورٹ پٹنہ کے سبکدوش مترجم تھے ۔ پروفیسر کلیم الدین احمد (چیف ایڈیٹر )جس میز پر کام کرتے تھے و ہ بڑی میز تھی اور کمرےکے درمیان رکھی ہوئی تھی ۔ اس میزپر کلیم الدین احمدصاحب کے روبرو مصطفی کمال ہاشمی صاحب بیٹھے تھے وہ ریسرچ آفیسر اور پروجیکٹ آفیسر تھے ۔ بقیہ ہم لوگ اسی کمرے میں دو الگ الگ میزوں پر کام کرتے تھے ۔ کھلے ہوئے اسٹیل ریکس پر انگریزی کی بہت سی ڈکشنریاں رکھی ہوئی تھیں ۔ ہم حسب ضرورت ان ڈکشنریوں سے رجوع کرتے تھے۔ نیویارک کی چھپی ہوئیs Dictionary Websterمیریم ایڈیشن تین جلدوں میں تھی۔ ہمارے کام کی بنیاد اسی ڈکشنری میں مندرج الفاظ تھے ۔ اس کشادہ کمرے میں کام کے دوران ایسی خاموشی ہوتی تھی لوہے کی ایک پن بھی گرجاتی توآواز سنی جاتی بہت یکسوئی اور انہماک کا عالم ہوتا تھا ۔
مصفطی کمال صاحب کی شخصیت خوبصورت اور پرکشش تھی ۔ وہ گورے ، طویل القامت اور صحت مند انسان تھے ۔ ٹھہر ٹھہر کر دھیمی اور میٹھی آواز میں بولتے تھے ۔ نہایت مہذب ، شریف اور اخلاق مند تھے ۔ ساتھ کام کرتے کرتے ان سے مجھے بہت محبت ہوگئی ۔ وہ مجھے خاں صاحب کے نام سے مخاطب کرتے ۔ دو پہر میں ہم لوگ وضوکرنے کے بعد باہر کی کمرے میں ایک ساتھ ظہر کی نماز باجماعت ادا کرتے تھے ۔ مولانا ناصررضا خاں جلالی شمسی عالم دین تھے ، وہی نماز کی امامت فرماتے تھے ۔پھر ہم ایک ساتھ بیٹھ کر لنچ کھاتے ، ہاشمی صاحب اپنے لنچ باکس پہ مجھے روزانہ کچھ نہ کچھ ضرور کھلاتے ۔
مارچ ۱۹۷۹میں ڈکشنری پروجیکٹ مکمل ہوگیا اور آخری جلدیں ٹائپ ہو کر وزارت تعلیم اور حکومتِ ہند دہلی کو ارسال کردی گئیں ۔ اسی زمانے میں ڈاکٹر ناصر جلالی صاحب کا تقرر متھلا یونیورسیٹی سروس کےلیےہوگیا ۔ وہ شعبہ اردو ڈی ایس کالج کٹیہا ر میں لکچرر مقرر ہوگئے ۔ مصطفی کمال ہاشمی صاحب کا تقرر خد ا بخش لائبریری پٹنہ میں ہوگیا۔اسی سال کے دسمبر مہینے میں بہار یونیورسیٹی کے سروس میں لکچرر کے لیےمجھے منتخب کرلیا گیا اور میں نے آر این کالج حاجی پور میں جوائن کرلیا ۔ شروع میں حاجی پور سے پٹنہ کا سفر دشوار تھا ، بعد میں مہاتما گاندھی سیتو کی تعمیر مکمل ہوگئی تو سفر بہت آسان ہوگیا ۔ میں اپنے مطالعے اور ریسرچ کے لیے فرصت کے دنوں میں پٹنہ جانے لگا اور خدا بخش لائبریری سے کتابیں ایشو کراکے لانے لگا ۔۵برسوں تک مسلسل تگ ودو ، مسائل اور مطالعے کے زمانے میں بھی میں اپنے دوستوں کو نہیں بھولا ۔ مصطفی کمال ہاشمی صاحب میرے بزرگ اور محترم دوست تھے ،انہیں کس طرح بھولتا !ہاشمی صاحب کے مکان پر بھی ملاقات کے لیے حاضر ہوتا تھا وہ اپنے سب بچوں سے ملاقات کراتے تھے ۔ انہو ں نے اپنے سالے منہاج الحق صاحب سے بھی میری ملاقات کرائی ۔ ایک بار وہ شدید بیمار ہوئے تو مجھے خد ا بخش لائبریری میں ان کی علالت کی خبر برادر مکرم جناب سلیم الدین احمد نے دی ۔ میں اسی روز ان کو دیکھنے ان کے مکان پر حاضر ہوا ۔ وہ بہت خوش ہوئے اور بہت تپاک اور محبت سے باتیں کرتے رہے مجھے ان کو صحت مند دیکھ کر بہت اطمینان ہوا تھا ۔
مصطفی کمال ہاشمی صاحب بہت تعلیم یافتہ اور خوشحال خاندان کے چشم و چراغ تھے ۔ان کے والد انگریزوں کےزمانئہ حکومت میں اور بعد میں بھی بی ایس سی کے عہدے پرفائز تھے ۔ ان کے خسر ڈاکٹر محمد صدر الحق مشہور معالج اور علاقے کے معزز شخص تھے ۔ہاشمی صاحب خود اعلی تعلیم یافتہ انسان تھے ۔ تہذیب ، شرافت اور اسلامی طوراطوار سے مزین تھے ۔ اردو ، فارسی اور انگریزی پر انہیں قدرت حاصل تھی ۔ ان کی وفات کے بعد اردو کے مشہور ادیب و افسانہ نگار احمد یوسف صاحب نے بتایا کہ ایک بار احمد یوسف صاحب نے انگریزی کے ۱۶افسانے ان کو دیے کہ وہ ان کا اردو ترجمہ کردیں ۔ ان کی روایت ہے کہ ہاشمی صاحب نے ان کہانیوں کا بہت عمدہ ترجمہ کیا تھا ۔ مجھے اس بات کا یقین ہے کہ ہاشمی صاحب کی لکھی ہوئی تحریریں خدا بخش لائبریری میں ضرور محفوظ ہوں گی وہ بہت خوش خط بھی تھے ۔
پٹنہ سے حاجی پور دور نہیں ہے میں نے کئی مرتبہ ہاشمی صاحب کو دعوت دی کہ وہ حاجی پور غریب خانے پر تشریف لائیں ۔ وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ ضرور آؤں گا مگر وہ بوجوہ نہیں آسکے ۔ اپنی بڑی بیٹی کی شادی کے موقع پر انہو ں نے شادی کا دعوت نامہ بذریعہ ڈاک روانہ کیا تھا مگر وہ مجھے موصول نہیں ہوسکا تھا ۔ اس بات کا افسوس انہیں بھی تھا اور مجھے بھی بہت تھا ۔ ہاشمی صاحب کےساتھ کام کرنے والے سب لوگ ان کی شرافت ’ خوبیوں اور صلاحیتوں کے معترف و مداح تھے ۔ حافظ انیس صدری صاحب ، سلیم الدین احمد صاحب ، محمود عالم صاحب اور خدا بخش لائبریری کے جملہ اسٹاف ان کی رحلت پر بہت مغموم ہوئے۔ فادر پال جیکسن کی صدارت میں لائبریری کے اندر جو تعزیتی نشست ہوئی اس میں ان کے سانحئہ ارتحال پر اظہارافسو س کرتے ہوئے ان کے دوست اور ساتھی سب آبدیدہ ہوگئے تھے ۔ اس تعزیتی نشست کی رپورٹ پٹنہ کے اخباروں میں شائع ہوئی ۔
ہاشمی صاحب کی وفات کی خبرمجھے نہیں مل سکی ۔ کیوں کہ اس زمانے میں ٹیلیفو ن اور موبائل کا استعمال عام نہیں ہوا تھا ۔ کئی روزبعد میرے دوست انوار الحسن وسطوی صاحب نے ملاقات پر مجھے ان کی رحلت اور تدفین کی خبر دی ۔انہو ں نے اخبار میں چھپی ہوئی رپورٹ اور خبر بھی دکھائی ۔ اس رات مجھ پر کرب و اضطراب کی جو حالت تھی میں بیان نہیں کرسکتا ۔ میں نے نہ کچھ کھایا اور نہ پیا ۔ لحاف اوڑھ کر چپ چاپ لیٹ گیا ۔ کروٹیں بدلتا رہا اور آہیں بھر تا رہا ۔ اہلیہ اور بچوں کو جب یہ المناک خبر بتائی تو وہ سب بھی افسردہ اور مغموم ہوگئے ۔ دوسری صبح اٹھ کر تعزیت کے لیے پٹنہ اہلیہ کو ساتھ لے کر پہنچا ہاشمی صاحب کے سالے منہاج الحق صاحب اور ہاشمی صاحب کی اہلیہ محترمہ سے ملاقات کر کے تعزیت کی مگر مجھے قرار نہیں آرہا تھا ۔ سینے کو جیسے کوئی مل رہا تھا ۔ مرحوم کا چہرہ دیکھ لیتا ، ان کے جنازے میں شریک ہوجاتا ، دفن کے وقت ان کی قبر میں مٹی ڈال دیتا تو شاید مجھے کچھ صبر ہوجاتا ۔

ؔدلے کہ عاشق و صابربودمگر سنگ است
ز عشق تابہ صبوری ہزار فرسنگ است (شیخ سعدی)
صبح سویرےاپنی بیگم کے ساتھ محلہ پتھر کی مسجد چودھری ٹولہ ٹکاری روڈ کی اس گلی میں داخل ہوا جس میں ہاشمی صاحب کا مکان تھا تو مجھ پر عجب کیفیت تاری تھی ۔ میرے قدم اٹھ رہے تھے مگر میراد ماغ اور اندرونی وجود غم و اندو ہ کے احساس سے شرابور اور بوجھل تھا ذہن میں ہاشمی صاحب کا خوبصورت چہرہ اور سراپا گردش کررہا تھا ۔ ان کی خوبیاں ان کے محبت بھرے الفاظ اورہمارے 20سالہ تعلقات نقوش ابھر رہے تھے ۔ اور میں پرانی یادوں کے حصار میں نحیف و نزار شخص کی طرح ان کے سیاہ دروازے کو دیکھتا ہوا آگے کی طرف جارہا تھا ۔ آدمی کا حافظہ اور ذہن بھی کیا عجیب شے ہے !انگریزی شاعر لارڈ ٹینی سن کے لکھے ہوئے مرثیے ’ ام میموریم ‘کے مندرجہ ذیل مصرعے میرے حافظے میں بے ساختہ گونجنے لگے :
Dark house,by which once more I stand
Here in the long unlovely street,
Doors,where my heart was used to beat
So quickly,wating for a hand,
A hand that can be clasp’d more-
Behold me,for I cannot sleep
And like a guilty thing I creep
At the earliest morning to the door –
ترجمہ :’’وہ اندھیرا مکان جس کے پاس میں ایک بار پھر کھڑا ہوا ہوں ؍یہاں اس لمبی بے رنگ گلی میں ؍اس دروازے کے قریب جہاں میرادل ڈھرکا کرتا تھا ؍تیزی سے دھرکتا تھا ایک ہاتھ کے انتظار میں ؍وہ ہاتھ جس سے اب مصافحہ ممکن نہیں ہے ؍دیکھو !مجھے کہ میں سونہیں سکتا ؍ایک گنہگار شخص کی طرح رینگ رہا ہوں ؍صبح سویر اس دراوزے کی طرف‘‘
عاشق کے نصیب میں سکون و قرار کہاں! میری تڑپ باقی رہی ۔ میں اپنے ریسر چ اسکالر ڈاکٹر ایس ایم امتیاز عالم قتلو پور کے اسکوٹر پر بیٹھ کر دوروز کے بعد منیر شریف کے قبرستان پہنچا جس میں مصطفی کمال ہاشمی صاحب مدفون ہوئے تھے ۔ ان کی قبر کے کنارے سے مٹھیوں میں مٹی بھر کر تین بار ان کی قبر پر ڈالی ۔ کھڑے ہو کر دعائیں کرتا رہا پھر واپس آیا اور آج ایک بار پھر یہ دعاکرتا ہوں کہ اللہ تعالی مصطفی کمال ہاشمی صاحب کو جنت میں اعلی مقام عطافرمائے اور ان کے بچوں کو سر سبزو شاداب رکھے آمین یا رب العالمین ۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*