سلامِ رضا پر ایک نظر – محمد حسین مشاہد رضوی 

مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام​

امام احمد رضا محدثِ بریلوی کا مرقومہ سلام ’’مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام‘‘ عوام و خواص میں بے پناہ مقبول ہے۔ اس سلام میں آپ نے نبوت و رسالت کے اوصاف، حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے مراتبِ عالیہ اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے سراپائے مبارک کو شاعرانہ حُسن و خوبی، عاشقانہ وارفتگی اور عالمانہ وجاہت و شوکت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ ہر شعر میں ایک خوب صورت اور اچھوتی تراکیب اور دل کش استعارہ سازی سے کام لیا ہے۔ ’’مصطفی جانِ رحمت ‘‘یہی ایک ترکیب اپنے آپ میں ایسی جدت و ندرت رکھتی ہے کہ ایسی ترکیب کسی دوسرے شاعر کے یہاں باوجود تلاش و تفحص نہیں ملتی۔ اس ترکیب کو پڑھنے کے بعد بے ساختہ دل سے سبحان اللہ ! کی داد نکلتی ہے۔ المختصر یہ کہ سلامِ رضا آقائے کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک جامع منظوم سیرت نامہ ہے۔

 

اعلیٰ حضرت نوراللہ مرقدہٗ کا یہ شہرۂ آفاق سلام بحرِ متدارک مثمن سالم/ مسکن (فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن / فاعلان) میں کل ۱۷۱ ؍ اشعار پر مشتمل اردو زبان کا سب سے طویل سلام ہے۔ جس کے ایک ایک شعر میں زبان و بیان، سوز و گداز، معارف و حقائق، سلاست و روانی، قرآن و حدیث اور سیرتِ طیبہ کے جو رموز و اسرار موج زن ہیں وہ امام احمد رضا کی انفرادی شاعرانہ حیثیت کو نمایاں کرتے ہوئے عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ کی والہانہ وارفتگی کا اظہاریہ بھی ہیں۔ اس سلام کی دیگر خصوصیات میں ایک نمایاں خصوصیت اس کی حسین و جمیل ترتیب ہے۔ شرح سلامِ رضا صفحہ ۵۷سے اس کی حُسنِ ترتیب کا خاکہ خاطر نشین فرمائیں :

 

’’(۱) پہلے تیس اشعار میں حضور علیہ السلام کے خصائص، کمالات اور معجزات کے ساتھ ساتھ اس بات کو واضح کیا ہے کہ آپ کی ذات اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے اور آپ کا وجودِ مسعود بے مثل اور ہر شَے کے وجود کی علّت و سبب ہے۔

 

(۲) اکتیسویں شعر سے اکیاسی شعر تک آپ کے سراپا کا بیان ہے جس میں ہر ہر عضو، اس کی اہم خصوصیت اور اس کے حسن و جمال اور برکات کا تذکرہ ہے۔

 

(۳) بیاسی تا نوے میں آپ کی ولادت ِ باسعادت، بچپن، رضاعت، رضاعی والدہ، رضاعی بھائی بہنوں کے ساتھ تعلقات کا بیان کیا ہے۔

 

(۴) اکیانوے تا ننانوے کا حصہ خلوت و ذکر و فکر، بعثتِ مبارکہ، شانِ سطوت اور غلبۂ دین پر مشتمل ہے۔

 

(۵) سو تا ایک سو چار میں آپ کی غزوات میں شرکت اور جرأ ت و بہادری کا ذکر ہے۔

 

(۶) ایک سو پانچ سے ایک سو سترہ تک کا حصہ خاندانِ نبوی اور گلشنِ زہرا کی خوش بو سے مہک رہا ہے۔

 

(۷)ایک سو اٹھارہ تا ایک سو چھبیس آپ کی ازواجِ مطہرات کے درجات و کمالات پر مبنی ہے۔

 

(۸) ایک سو ستائیس تا ایک سو تینتالیس صحابہ، خلفائے راشدین اور عشرۂ مبشرہ کی خدمت میں سلام ہے۔

 

(۹)ایک سوچوالیس تا ایک سو انچاس میں تابعین، تبع تابعین اور تمام آلِ رسول پر سلام ہے۔

 

(۱۰) ایک سو پچاس اور ایک سو اکیاون، ان دو اشعار میں اربعہ ائمہ امامِ اعظم ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کا مبارک تذکرہ ہے۔

 

(۱۱)ایک سو باون تا ایک سو پچپن، سیدنا غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضری ہے۔

 

(۱۲) ایک سو چھپن تا ایک سو اکسٹھ اپنے مشائخِ سلسلہ کا تذکرہ ہے۔

 

(۱۳) ایک سو باسٹھ تا ایک سو پینسٹھ کے حصہ میں تمام امتِ مسلمہ خصوصاً اہل سنت، اپنے والدین، دوست و احباب اور اساتذہ کے لیے دعا ہے۔

 

(۱۴) اس سلام کا اختتام اس دعا پر ہو رہا ہے کہ اے خالق و مالک ! یہ صلاۃ و سلام کا عمل مجھے روزِ قیامت اس طرح نصیب ہو کہ جب رحمت للعالمین آقا محشر میں تشریف لائیں تو مجھے یوں عرض کرنے کی اجازت ہو :

 

مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام ‘‘