حکومت مسلم وکلا کو جج بنانا نہیں چاہتی؟!-ایم ودود ساجد

آج کل عدالتی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑی ہوئی ہے۔لیکن عمومی طورپر اردو والے اس بحث میں شامل ہونے سے محروم ہیں۔وہ بحث میں شامل نہ بھی ہوں تب بھی انہیں حقائق سے تو باخبر رہنا ہی چاہئے۔یہ موضوع ہرچند کہ بہت خشک ہے لیکن اختتام ایک بہت دلچسپ عنصر پر ہونے کی امید ہے۔ملاحظہ فرمائیے:

پچھلے دنوں سپریم کورٹ کے وکیلوں کی تنظیم SCBA نے چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمانا سے مل کر انہیں ایک تجویز پیش کی کہ چونکہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹوں میں ججوں کی بڑے پیمانے پر کمی ہے اور ہزاروں اہم مقدمات التوا میں ہیں لہذا سپریم کورٹ کے وکیلوں کو بھی ہائی کورٹس کے ججوں کے طورپر مقرر کیا جائے۔

تنظیم کے صدر وکاس سنگھ نے ایک بیان میں یہ بھی کہہ دیا کہ سپریم کورٹ کے وکیل (ہائی کورٹ کے وکیلوں سے) زیادہ قابل ہوتے ہیں۔وکاس سنگھ نے یہ بھی بتایا کہ چیف جسٹس نے اس تجویز کو قبول کرلیا ہے۔اس پر ہائی کورٹس کے وکیلوں کی انجمنیں سخت ناراض ہوگئیں اور انہوں نے کہا کہ یہ ہماری توہین ہے۔انہوں نے چیف جسٹس سے اس تجویز (منصوبہ) کو مسترد کرنے کا مطالبہ بھی کرڈالا۔ واضح رہے کہ روایتی طور پر ہائی کورٹ کا جج ہائی کورٹ کے ہی وکیل کو بنایا جاتا ہے۔

بہت دنوں سے ملک کی زیادہ تر ہائی کورٹس منظور شدہ تعداد سے 50 فیصد کم ججوں سے ہی کام چلا رہی ہیں۔ پچھلے دنوں جب یہ معاملہ (سابق) چیف جسٹس ایس اے بوبڈے کی بنچ کے سامنے آیا تو انہوں نے ناگواری کا اظہار کیا تھا۔ مرکزی حکومت سے اس سلسلہ میں جواب بھی طلب کیا گیا تھا۔عدالت نے حکومت سے کہا تھا کہ وہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے کالجیم کی سفارشوں کو چار مہینے کے اندر اندر نپٹاکر ججوں کا تقرر کرے۔انہوں نے معاملہ کی سماعت کرتے ہوئے کہا تھا کہ بہت سی ہائی کورٹس بڑے گہرے بحران کا شکار ہیں۔

حکومت نے سپریم کورٹ میں جو جواب داخل کیاتھا اس کے مطابق ہائی کورٹس میں ججوں کی منظور شدہ تعداد 1080 میں سے 416 ججوں کی جگہ خالی ہے۔حکومت نے یہ بھی بتایا کہ اسے مختلف ہائی کورٹس سے صرف 196 اسامیوں کے لیے ناموں کی سفار ش ملی ہے جبکہ 220 اسامیوں کیلئے کوئی سفارش نہیں کی گئی ہے۔ (یکم جون کو خالی اسامیوں کی تعداد 430 ہوگئی تھی۔۔ )

اب یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہائی کورٹ کا کالجیم ہائی کورٹ کے ججوں کیلئے ناموں کی سفارش بھیجتا ہے۔اس سفارش کو جب سپریم کورٹ کا تین رکنی کالجیم منظور کرلیتا ہے تو حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ان تقرریوں کو فوری طورپر منظوری دیدے۔لیکن 2014 کے بعد سے یہ عمل بڑی سست روی کا شکار ہے۔

ایک طرف جہاں ہائی کورٹس سے تمام اسامیوں کیلئے سفارشات نہیں آرہی ہیں وہیں دوسری طرف جو سفارشیں آگئی ہیں حکومت انہیں جلد نہیں نپٹارہی ہے۔ 430 ججوں کی کمی کوئی کم نہیں ہوتی۔اس وقت سپریم کورٹ میں بھی منظور شدہ تعداد سے سات جج کم ہیں۔سپریم کورٹ میں کل 34 جج ہوتے ہیں جبکہ اس وقت 27 ججوں سے ہی کام چلایا جارہا ہے۔

مجھے یاد آیا کہ گزشتہ 17مئی 2021 کو الہ آباد ہائی کورٹ کے سبکدوش چیف جسٹس‘ پردیپ ماتھر نے انگریزی روزنامہ انڈین ایکسپریس کو ایک تفصیلی انٹرویو دیا تھا۔پردیپ ماتھر میرے پسندیدہ جج رہے ہیں۔الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے طورپر انہوں نے یوپی کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کے کچھ شرمناک اور خوفناک اقدامات پر اس کے ناک میں نکیل ڈال دی تھی۔جسٹس پردیپ ماتھر نے شخصی آزادی کے حق میں متعدد فیصلے دئے تھے جن میں ڈاکٹر کفیل خان کا معاملہ بھی شامل تھا۔ڈاکٹر کفیل خان کو رہا کئے جانے کے خلاف جب یوگی حکومت نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی تو اس وقت کے چیف جسٹس ایس اے بوبڈے نے یوگی حکومت کی اپیل کو خارج کرتے ہوئے کہا تھا کہ الہ آباد ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ بہت ہی عمدہ ہے۔

میں نے جسٹس پردیپ ماتھر کا ذکر اس لئے کیا کہ مذکورہ انٹرویو میں جب ان سے عدالتوں میں خواتین ججوں کی کمی پر سوال کیا گیا تو انہوں نے خواتین ججوں کی کمی پر افسوس کا اظہار کرنے کے بعد جو کچھ کہا شاید وہ ان سے پہلے کسی نے نہیں کہا تھا۔۔میرا خیال ہے کہ جو کچھ انہوں نے کہا تھا اس کی خبر خود ان کو بھی نہیں ہوگی جن کے بارے میں انہوں نے کہا تھا۔۔ میں لفظ بہ لفظ ترجمہ کی کوشش کرتا ہوں ۔

انہوں نے کہا:

"……آپ کو ایس سی‘ ایس ٹی اور دوسری اقلیتوں کے ججوں کی متناسب یا مناسب نمائندگی نہیں ملے گی۔ایس سی اور ایس ٹی اور خواتین کی کم نمائندگی کا سبب تو یہ ہے کہ ان طبقات کے زیادہ وکیل نہیں ہیں۔جہاں تک اقلیتوں کی کم نمائندگی کا سوال ہے تو مجھے یہ کہنے میں کوئی تکلف نہیں کہ کسی اقلیتی فرقہ کے نوجوان وکیل کو (اس لئے) جج نہیں بنایا جاتا کہ ایک مختلف ذہنیت کام کرتی ہے۔ یہ ججوں کے ذہنوں میں نہیں ہوتا بلکہ یہ حکومت کی سطح پر ہوتا ہے۔”

جب انڈین ایکسپریس کے صحافی اپوروا وشواناتھ نے جسٹس پردیپ ماتھر سے پوچھا کہ کیا آپ کا اشارہ مسلم وکیلوں کو جج نہ بنائے جانے کی طرف ہے؟ تو انہوں نے کہا تھا کہ:
” ہاں‘ فائلیں حکومت کے پاس پڑی ہوئی ہیں۔“

یہاں یہ حقیقت بھی ذہن میں رکھنی چاہئے کہ جسٹس پردیپ ماتھر کے زمانے میں الہ آباد ہائیکورٹ میں متعدد مسلم جج مقرر کئے گئے۔ یہ اطلاع ان لوگوں کیلئے ہے جو یہ بے تکے سوال کرتے ہیں کہ ریٹائر ہونے کے بعد ہی کیوں جج ایسے خیالات کا اظہار کرتے ہیں ۔

مجھے یاد آیا کہ گزشتہ 27 اپریل 2021 کو پنجاب اینڈ ہریانہ ہائی کورٹ میں ایڈوکیٹ رنجن لکھن پال نے ایک پی آئی ایل دائر کرکے مطالبہ کیا تھا کہ ہائی کورٹ میں قابل مسلم وکیلوں کو بھی جج مقرر کیا جائے۔

جسٹس پردیپ ماتھر کے مذکورہ انکشاف سے اتنا تو واضح ہوگیا کہ مختلف ہائی کورٹس کے کالجیم نے زیادہ نہ سہی تو کچھ مسلم وکیلوں کے ناموں کی سفارش تو بھیج ہی رکھی ہے لیکن حکومت ان سفارشات کو دبائے بیٹھی ہے۔

اس ملک کے ‘پردیپ ماتھر’ اور ‘رنجن لکھن پال’ تو اس ضمن میں جو کچھ کہہ سکتے ہیں اور کرسکتے ہیں وہ کہہ رہے ہیں اور کر رہے ہیں‘ سوال یہ ہے کہ خود مسلمان وکیل کیا کر رہے ہیں۔کرنا تو دور وہ تو کچھ کہہ بھی نہیں رہے ہیں۔شاید اس لئے نہیں کہہ رہے ہوں گے کہ اگر وہ نمائندگی کے سوال کو لے کر اٹھیں گے تو اور زیادہ الگ تھلگ پڑجائیں گے۔ایسے میں یہ کام مسلمانوں کی نمائندہ جماعتیں کرسکتی ہیں۔ وزیر اعظم اور وزیر قانون سے اس سلسلہ میں ملاقات کرکے انہیں میمورنڈم پیش کیا جاسکتا ہے۔ تاہم یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ کیا مسلم وکیلوں کی قابل لحاظ تعداد موجود ہے؟اس کا کچھ اندازہ سپریم کورٹ کے سینئر ایڈووکیٹ اور دہلی بار کونسل کے منتخب رکن حمال اختر کے اس انکشاف سے لگایا جاسکتا ہے کہ دہلی میں بارکونسل میں رجسٹرڈ وکیلوں کی تعداد ایک لاکھ 35 ہزار ہے۔ان میں مسلم وکیلوں کی تعداد دس ہزار بھی نہیں ہے۔