مسلمانوں کے یو پی ایس سی کوچنگ سینٹرز کی کہانی۔عتیق الرحمن صدیقی

9990842123
2019 میں ہونے والے سول سروس کے پریلیمنری امتحان کا فائنل ریزلٹ کچھ ماہ قبل اگست 2020 میں نکلا۔ یوپی ایس سی کی لسٹ کے مطابق 829 افراد منتخب ہوئے ۔ ان میں کل 44 مسلم فرزندوں نے کامیابی حاصل کی۔ دہلی میں ( ہندوستان کے دوسرے شہروں کے کوچنگ سینٹرز کو چھوڑ کر) ملت کے چند کوچنگ انسٹیٹیوٹس نے اپنے تربیت یافتہ کامیاب طلبہ کی فہرست الگ سے نکالی۔ ان سب کی تعداد کو اگر جوڑا جائے تو یہ 40 ہوتی ہے۔ لیکن اس لسٹ میں 18 کامیاب امیدوار ایسے بھی ہیں جنھیں ان انسٹیٹیوٹس میں سے کسی نے بھی اپنا کینڈیڈیٹ نہیں بتایا۔اس طرح ان فہرستوں کے مطابق مسلم امیدواروں کی تعداد بڑھ کر 58 ہوجاتی ہے۔ یعنی سرکاری طور پر بتائی گئی 44 کی تعداد سے 14 زیادہ۔ سوال یہ ہے کہ یہ 14 مسلم امیدوار کیسے بڑھے اور پھر یہ گئے کہاں؟ جواب یہ ہے کہ متعدد مختلف امیدواروں کو دو اور تین کوچنگ انسٹیٹیوٹس نے اپنا اپنا بتاکر اپنی فہرستوں میں دکھایا ہے۔یہ نکتہ بہت اہم ہے۔اگر کچھ کنفیوزن ہو تو اس پیرا گراف کو دوبارہ پڑھ لیجئے گا۔
اب یوں سمجھئے: 2018 میں 2019 کے پریلیمنری امتحان کی کوچنگ کیلئے انٹرینس ٹسٹ کے ذریعہ انتخاب اور داخلہ اور پھر تقریباً ایک سال کی سخت پریلیمنری اور مینس کی کوچنگ کا سلسلہ ایک ساتھ شروع کیا جاتا ہے۔ پریلیمنری امتحان کی کوچنگ دو پیپرس کیلئے کروائی جاتی ہے، پہلا جنرل اسٹڈیز جو کہ 200 نمبر کا اور دوسرا سی سیٹ (CSAT)، یہ بھی 200 نمبر کا۔ دونوں پیپرس ایم سی کیو یعنی ہر ایک سوال کے چار جوابات کی طرز کے ہوتے ہیں اور ان میں سے ایک درست جواب پر نشان لگانا ہوتا ہے۔ مینس امتحان کے لیے امیدواروں کا انتخاب صرف جی ایس کے 200 نمبر سے ہی ہوتا ہی۔ سی سیٹ میں صرف پاسنگ %33 نمبر ہی چاہئیں۔
مینس کی کوچنگ کل نو پیپرس کیلئے ہوتی ہے، دو پیپرس تو صرف پاس کرنے ہوتے ہیں اور یہ 300-300 نمبروں کے ہوتےہیں اور باقی سات پیپرس جن میں جی ایس کے چار پیپرس،مضمون (Essay) کا ایک اور دو پیپرس آپشنل کے ہوتے ہیں، ان میں کمپٹیشن ہوتا ہے۔ ان ساتوں پیپرس میں ہر پیپر 250 نمبروں کا ہوتا ہے، یعنی ان ساتوں پیپرس کے مجموعی نمبر 1750 ہوتے ہیں۔ انٹرویو کیلئے امیدواروں کا انتخاب انھی 1750 نمبروں کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ لیکن 2018 میں کس نے کہاں داخلہ لیا، اس کا آج کی تاریخ میں کسی کو کچھ پتہ نہیں اور نہ ہی ان کے رول نمبرس کسی کو معلوم ہیں۔ اور یہ فہرست آج بھی ان کوچنگ انسٹیٹیوٹس کی ویب سایٹ پر دستیاب نہیں ہے۔
ٹرانسپیرنسی کا تقاضا تو یہی ہے کہ پریلیمنری کی کوچنگ کیلئے داخل امیدواروں کی میرٹ لسٹ ان کے حاصل شدہ نمبروں کے ساتھ نکالی جائے جس سے ان کی اہلیت داخلے کے وقت معلوم رہے اور پھر بعد میں UPSC کے پریلیمنری کا رول نمبر (جو کہ مینس اور فاینل ریزلٹ میں بدلتا نہیں ہے) بھی دے دیا جائے۔اس سے یہ ہوگا کہ اگر ایک نام کے دو لڑکے بھی ہوں تو شناخت میں کوئی دشواری نہ ہو۔ اپنا فاینل ریزلٹ نکالنے کے بعد یو پی ایس سی کٹ آف لسٹ نکال دیتی ہے، جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ کامیاب ہونے والے آخری کینڈیڈیٹ کے (جنرل، او بی سی، ایس سی، ایس ٹی وغیرہ) میں اور (پریلم، مینس اور فاینل) میں کتنے نمبر ہیں۔ (تفصیل UPSC سے نکلی منسلک لسٹ میں دیکھی جا سکتی ہے) لیکن یہاں اس بے حد ضروری زمرے کو سب سے پوشیدہ رکھا جاتا ہے۔ کوچنگ کا حاصل کیا رہا؟ معلوم نہیں۔ اس امتحان کے تیسرے مرحلے یعنی مینس امتحان میں کامیاب امیدواروں کو انٹرویو (پرسنیلٹی ٹسٹ) کیلئے بلایا جاتا ہے۔ یہ انٹرویو صرف 275 نمبر کا ہوتا ہے۔
مختلف کوچنگ انسٹیٹیوٹس "موک انٹرویو” کیلئے داخلہ لیتے ہیں اور وہاں کے پینلسٹ جو کہ سینیر / رٹائرڈ افسران ہوتے ہیں، تیس سے چالیس منٹ کے وقفے کا انٹرویو لیکر ان کینڈیڈیٹس کی ضروری اصلاح کردیتے ہیں۔ یہ نکتہ بھی ذہن میں رکھئے گا۔
امتحان کا دور ختم ہونے کے بعد کینڈیڈیٹس کے کل نمبرس جو مینس امتحان اور انٹرویو میں اس نے حاصل کیے ہیں، انھیں جوڑ کر UPSC کی فاینل میرٹ لسٹ بنتی ہے۔ اب اگر ایسا کوئی بھی کینڈیڈیٹ جس نے ان کوچنگ سینٹروں کے موک انٹرویو میں شرکت کی ہو فاینل UPSC میں کامیاب ہوتا ہے اسے بھی یہ کوچنگ سینٹرز اپنا کینڈیڈیٹ بتا دیتے ہیں۔حالانکہ اس نے ان سینٹروں میں محض ایک ڈیڑھ گھنٹہ ہی گزارا ہوتا ہے۔
اخبارات میں خوبصورت ضمیمے اور تصویریں شائع کرائی جاتی ہیں اور تعریفیں حاصل کر لی جاتی ہیں۔ امیدواروں کو اس فرضی تشہیر کا علم ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پوٹینشیل (اہل) کینڈیڈیٹ ان سینٹروں سے دور ہوجاتے ہیں۔ صرف وہی امیدوار ان سینٹرس میں داخلہ لیتے ہیں جنہیں دہلی میں رہائشی سہولت درکار ہوتی ہے۔
اب ایک تجویز یہ ہے کہ 2019 میں جن امیدواروں کو داخلہ اور کوچنگ فراہم کی گئی اور جنہوں نےابھی 2020 میں پریلیمنری کا امتحان دیا ہے’ یہ ادارے ان کے نام، رول نمبرس کے ساتھ اپنی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کریں۔ اس عمل کا فائدہ اگلے سال یعنی2021 میں اس وقت ہوگا جب UPSC کا فاینل ریزلٹ آئے گا۔ ان اداروں کے کینڈیڈیٹ کو دوسرے انسٹیٹیوٹ اپنا بتاکر نہیں دکھا پائیں گے۔
اب سال کے آخر میں لاک ڈاون کے سبب اس وقت ان کوچنگ انسٹیٹیوٹس نے 2021 کے پریلیمنری امتحان کی کوچنگ کیلئے انٹرینس ٹیسٹ اور سلیکشن کی شروعات کر دی ہے۔ یہ کام ایک لمبے پراسس سے گزار کر کیا جاتا ہے۔ اس میں اگر ایک اضافہ اور ہو جائے تو ٹرانسپیرنسی واضح ہو جائے۔ وہ یہ کہ سلیکٹیڈ امیدوار جب داخلہ مکمل کرا لیں تو ان کے ناموں کی فہرست تحریری امتحان اور انٹرویو میں حاصل نمبروں کے ساتھ ظاہر کریں۔یعنی داخلہ ختم ہونے کے بعد میرٹ لسٹ اپنی ویب سائٹ پر اپلوڈ کریں تاکہ جب 2022 میں UPSC فاینل سلیکشن کی لسٹ نکالے تو آپ کے ذریعے کوچنگ یافتہ امیدواروں کو کوئی اور نہ لے سکے۔