مسلم تاریخ کے روشن دور کا ایک سنہرا باب (۱)-الیاس نعمانی

 

(بیویوں، بیٹیوں اور گھر کی دیگرخواتین کے لیے نہایت اعلیٰ دینی تعلیم کی فکر)

 

چند روز قبل محترم مولانا ڈاکٹر رضی الاسلام صاحب ندوی کی ایک تحریر بعنوان: ‘‘خادماتِ صحیح بخاری’’ نظر نواز ہوئی، اس تحریر میں انھوں نے ایک عربی کتاب ‘‘صفحات مشرقۃ من عنایۃ المرأۃ بصحیح الإمام البخاري’’ (از ڈاکٹر محمد بن عزوز) کا تذکرہ کیا، کتاب کے مباحث کا خلاصہ چند نکات کی صورت میں پیش کیا اور پھر کتاب میں مذکور ان گیارہ خواتین کا مختصر تذکرہ تحریر فرمایا جنھوں نے زندگی کا بڑا حصہ صحیح بخاری کا درس دیتے ہوئے گزارا، اور ان سے بے شمار مردوں وخواتین نے درس لیا۔

مولانا کی اس تحریر کو پڑھنے کے بعد براہ راست مذکورہ کتاب حاصل کرنے اور اس سے استفادہ کی خواہش ہوئی، اللہ کا احسان کہ کتاب آنلائن دستیاب ہوگئی، اب جو اس سے استفادہ کیا تو اس کے شروع کے دو مباحث (فصلوں) نے مسلم تاریخ کے روشن دورکا ایک نہایت زریں ورق سامنے رکھ دیا، یہ زریں ورق گو کہ نہایت تابناک ہے لیکن افسوس کہ دوسروں کا تو تذکرہ کیا ہمارے جیسے ان بہت سے لوگوں کو بھی اس کی خبر نہیں جو بہر حال کسی نہ کسی درجہ میں دینی علوم سے وابستہ ہیں، مصنف نے کتاب کے اس حصے میں تاریخ اسلامی کے ممتاز علما اور ائمہ کے بارے میں کسی قدر تفصیل کے ساتھ یہ بتایا ہے کہ وہ کیسے اپنی بیویوں، بیٹیوں، بھتیجیوں، بھانجیوں اور پوتیوں وغیرہ (یعنی اپنے گھر کی خواتین) کی نہایت اعلیٰ اور گہری دینی تعلیم کی فکر فرماتے تھے، انھیں عظیم علما وائمہ کے درس کے حلقوں میں شریک کرتے، اور اس بات کی کوشش کرتے کہ وہ بھی گھر کے مردوں کی طرح دین کا گہرا علم حاصل کریں، ہمارے اس زمانے میں جب دینی اعتبار سے ممتاز سمجھے جانے والے گھرانوں میں بھی خواتین اور بچیوں کے لیے بنیادی دینی تعلیم کو نہایت کافی سمجھا جاتا ہے اور اس بات کی بالعموم کوشش نہیں ہوتی کہ گھر کی خواتین مردوں کی مانند گہرا شرعی علم حاصل کریں تو ہمارے روشن دور کے ائمہ کا یہ اسوہ ہمارے لیے نہایت اہم ہے جو ہمیں بہت کچھ سوچنے اور اپنے طرز عمل میں تبدیلی لانے کی دعوت دیتا ہے۔

کتاب کے اس حصے میں بہت سے ایسے علما وائمہ بالخصوص محدثین کا تذکرہ کیا گیا ہے جو اپنے گھر کی خواتین اور بچیوں کی تعلیم کی بہت فکر فرماتے اور ان کو زمانہ کے عظیم ائمہ کے حلقۂ درس میں شریک کرتے، نتیجہ یہ ہوتا کہ وہ خواتین بھی اپنے زمانہ کی ممتاز محدثات وعالمات ہوتیں۔ ذیل میں کتاب میں درج چند مثالیں اختصار کے ساتھ ذکر کی جاتی ہیں:

۱۔ امام سعید بن مسیب عظیم تابعی محدث وفقیہ تھے، ان کی صاحب زادی اپنے والد کے علوم کی بہترین وارث وامین تھیں، امام موصوف نے ان کا نکاح اپنے ایک شاگرد سے کیا تھا، رخصتی کی اگلی صبح جب ان کے شوہر گھر سے باہر جانے کی تیاری کرنے لگے تو انھوں نے دریافت کیا: کہاں کا ارادہ ہے؟ وہ بولے آپ کے والد کے حلقۂ درس میں۔۔۔۔ یہ سن کر انھوں نے فرمایا: بیٹھیے میں آپ کو اپنے والد کے علم سے فیضیاب کروں۔

۲۔ امام مالک کی صاحبزادی ان کی معروف کتابِ حدیث موطا کی گویا حافظ تھیں، والدماجد کا حلقۂ درس لگا ہوتا، تو وہ بھی دروازہ کے پیچھے سے اس میں شریک ہوتیں، بسا اوقات عبارت پڑھنے والا طالبِ علم کچھ غلطی کرتا تو وہ دروازہ پر دستک دیتیں، جسے سن کر امام مالک فرماتے: دیکھو تم کچھ غلطی کررہے ہو، طالبِ علم دوبارہ پیچھے سے پڑھتا تو دیکھتا کہ واقعی اس سے کچھ چھوٹ گیا تھایا اس نے کچھ غلط پڑھ دیا تھا۔

۳۔ حافظ ابن عساکرؒ نے اپنی خالہ زاد بہن آمنہ بنت محمد بن الحسن کے تذکرہ میں لکھا ہے کہ انھوں نے علم حدیث اپنے نانا قاضی ابوالفضل یحییٰ بن علی قرشی اوراپنے زمانے کے ایک بڑے محدث ابو محمد عبد الکریم بن حمزہ سے لیا، ان کے والد ماجد کو ان کی تعلیم کی ایسی فکر تھی کہ ان کے لیے سنن ابی داود کا ایک نسخہ اپنے ہاتھ سے نقل کرکے تیار کیا۔

۴۔ سلیمان بن عبد الکریم انصاری دمشق کے معروف محدث تھے، انھوں نے اپنی صاحب زادی فاطمہ کی تعلیم وتربیت کا بہت اہتمام کیا، بچپن سے ہی ان کے اندر علمی ذوق پیدا کیا، اور پھر ان کو اپنے زمانہ وعلاقہ کے ممتاز محدثین کے حلقہ ہائے درس میں شریک کیا۔

۵۔آٹھویں صدی ہجری کے معروف محدث حافظ علائی نے اپنی صاحبزادیوں کو اپنے وقت کے ایک ممتاز محدث حافظ حجار کے حلقۂ درس میں شامل کیا، وہ اس پائے کی محدثہ وفقیہہ بنیں کہ خود ان کا حلقۂ درس نہایت مقبول تھا، اورانھوں نے اپنے بعض شاگردوں کو اجازتِ فتوی دی۔حافظ علائی کی دوسری صاحبزادی امۃ الرحیم بھی حافظ حجارکی شاگرد ہوئیں اور بعد میں وہ بھی احادیث روایت کرتیں۔

۶۔سعد الخیر بن محمد بن سہل انصاری بلنسی کا شماراپنے زمانہ کے بڑے محدثین میں ہوتا ہے، ان کی صاحبزادی فاطمہ ام عبد الکریم اپنے والد ماجد کی توجہ وعنایت سے متعدد محدثین کے حلقہ ہائے درس میں شریک ہوئیں، اور پھر اس پائے کی محدثہ ہوئیں کہ مصر ودمشق میں انھوں نے حدیث کا درس دیا، اور نہایت ممتاز مقام پایا۔

۷۔ابو القاسم انصاری اندلس کے معروف محدث فن تجوید کے عظیم امام تھے، ان کی صاحبزادی فاطمہ ام الفتح نے اپنے والد سے تجوید وقراءت اور حدیث کی تعلیم حاصل کی، صحیح مسلم، سیرت ابن ہشام اور مبرد کی الکامل جیسی متعدد کتابوں کا اپنے والد کے ساتھ ‘مقابلہ’ کیا ۔

۸۔ ابن خبازؒآٹھویں صدی میں دمشق کے معروف محدث تھے، انھوں نے اپنی صاحبزادی کی تعلیم پر بڑی توجہ دی، دمشق کے ممتاز محدثین کے حلقہ ہائے درس میں شامل کیا، اگر کوئی محدث باہر سے تشریف لاتے اور ان کے درس کا حلقہ لگتا تو اپنی ان صاحب زادی کو بھی وہاں شریک حلقہ کرتے۔

یہ کتاب میں مذکور وہ چند نمونے ہیں جن سے ہم یہ اندازہ کرسکتے ہیں کہ ہماری عظیم اور تابناک علمی روایت میں بیٹیوں کی تعلیم وتربیت کا کیسا اہتمام تھا، ان کے علاوہ کتاب میں ایسی مثالیں بھی ذکر کی گئی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ہماری تاریخ کے روشن دور میں اہل علم اپنی بیویوں اور دوسری رشتہ دار خواتین کے لیے تعلیم کی کیسی فکر رکھتے تھے، ان شاء اللہ اگلی قسط میں اختصار کے ساتھ ان مثالوں کا بھی تذکرہ کیا جائے گا۔

(جاری)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*