20 C
نئی دہلی
Image default
تجزیہ

مسلم تنظيميں صاف اعلان کیوں نہیں کرتی ؟

توصیف القاسمی

یکم اپریل2020 سے ہونے والے NPRپر مسلم تنظيموں کا موقف واضح اور صاف نہیں ہے جبکہ عوام خود سے ہی باٸیکاٹ کا ذہن بناچکی ہے۔دہلی ویوپی کی مسلم قیادت بالخصوص دونوں جمعیتیں،جماعت اسلامی اور جمعیت اہل حدیث وغيرہ بالکل خاموش ہیں،وقت بہت کم بچا ہے، لیکن ہماری قیادت کوئی بھی متحدہ متفقہ فیصلہ نہیں لے پارہی ہے۔ میری سمجھ سے بالا تر ہے کہ سوسال سے منظم اور متحرک مد مقابل سے ہماری یہ سست اور بے شعور قیادت کس طرح مقابلہ کرےگی۔
کیرالہ، آندھرا پردیش اور مہاراشٹ کی بعض مسلم تنظيميں باٸیکاٹ کی مہم چلارہی ہیں جن میں سرفہرست حضرت مولاناسجادنعمانی ہیں جبکہ دہلی یوپی اور بہار کی مسلم مذہبی وغیر مذہبی قیادت نے چپی سادھی ہوٸی ہے۔یہ کیا کھچڑی پک رہی ہے اگر ہم اہل ایمان ”اتحاد کلمہ“کی بنیاد پر دشمن کے مقابلے میں بھی متحد نہیں ہوسکتےاور متفقہ موقف اختیار نہیں کرسکتے، پھر توشاید خدا ہی ہم کو روز محشر میں متحد کریگا۔
ہماری پرزوراپیل ہے اور دست بستہ گزارش بھی،کہ دونوں جمعیت علماہند جماعت اسلامی جمعیت اھل حدیث وغيرہ تمام مسلم تنظیمیں متحدہ پلیٹ فارم سےشعور وسمجھ،دور اندیشی اور فاٸدے مند مباحثہ کےبعد ”متحدہ موقف“ واضح کریں تاکہ اسی کے مطابق عوامی کمیٹیاں سول سوسائٹی اوردیگرمقامی تانے بانے مصروف مہم ہوجائیں۔
کیا ہماری موجودہ قیادت اس طرح کا قدم اٹھائےگی؟ نہیں ، اور ہرگز نہیں! کیوں کہ ہماری قیادت ایک نفسیاتی بیماری”ہمہ دانی“کا شکار ہے،جس ”فردوقیادت“ کو یہ بیماری لاحق ہوجاتی ہے وہ ہرگز کسی سے مشورہ لینےیا کسی کی ماننے کیلٸے تیار نہیں ہوتا ۔خواہ اس کی وجہ سے کتنا ہی بڑا نقصان اٹھانا پڑجائےـ

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں ہے)

متعلقہ خبریں

Leave a Comment