مسلم سکھ میں دراڑ ڈالنے کی سازش!- ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز

2022ء میں پانچ ریاستوں اترپردیش، گجرات، پنجاب، گواور اترکھنڈ میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ ہر ریاست کی اپنی اہمیت ہے مگر اُترپردیش جو سب سے بڑی ریاست ہے‘ جہاں 403 ارکان اسمبلی ہیں‘ اس کی زیادہ اہمیت ہے کیوں کہ اس میں بی جے پی کی ہار جیت کا اثر قومی سطح پر پڑتا ہے۔ حالیہ عرصہ کے دوران بی جے پی کو جس طرح یکے بعد دیگرے ہزیمت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے‘ جس طرح سے اُترپردیش حکومت کی کارکردگی مذاق کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ جس طرح سے آدتیہ ناتھ کی رسوائی ہورہی ہے‘ خاص طور پر حالیہ پنچایتی الیکشن کے بعد جس میں سماج وادی پارٹی کو عوام نے بھرپور کامیابی دلائی۔ نہ صرف بی جے پی کی مرکزی قیادت بلکہ آدتیہ ناتھ کے پیروں تلے زمین کھسکتی محسوس ہونے لگی ہے۔ اس زمین پر اپنی گرفت کو قائم رکھنے کے لیے مختلف کھیل کھیلے جارہے ہیں۔ جبری مذہبی تبدیلی سب سے بڑا مسئلہ بنادیا گیا ہے۔ یوں تو ہر دور میں مذہبی تبدیلی کا رونا رویا جاتارہا ہے جو اپنی مرضی سے قانونی دائرہ میں رہتے ہوئے مشرف بہ اسلام ہوتے ہیں‘ ان کا دوبارہ شدھی کرن کیا جاتا ہے۔ گھر واپسی کی مہم چلائی جاتی رہی ہے۔ مگر اب اس میں شدت پیدا ہوگئی ہے۔
ایک طرف سے پھر ہندو بھائیوں میں یہ خوف پیدا کیا جارہا ہے کہ ان کا دھرم مسلمانوں کی وجہ سے سنکٹ میں ہے۔ عمرگوتم اور ان کے ساتھی کی گرفتاری اس سلسلہ کا پہلا قدم تھا۔ اور عمر گوتم اس پریشانی میں صرف اپنی تقریر کی وجہ سے آئے جو انہوں نے علیگڑھ طلبہ کے زیر اہتمام منعقدہ جلسہ میں کی تھی جو حالیہ عرصہ کے دوران وائرل کی گئی‘ جس میں انہوں نے خود ہی کہا تھا کہ ان کے مرکز دعوت نے ایک ہزار برادران وطن کو مشرف بہ اسلام کیا۔ عمر گوتم کی یہ تقریر سننے کے لائق ہے۔ جس میں انہوں یہ واضح طور پر کہا کہ وہ نہ صرف اپنے مسلم پڑوسی کے اخلاق سے متاثر ہوکر مسلمانوں ہوئے ہیں‘بلکہ اسی طرح انہوں نے بھی اخلاق کردار سے ہی برادران وطن میں اسلام کی تبلیغ کی ہے۔ چوں کہ بہانہ چاہئے تھا ان کے خلاف کاروائی ہوئی چوں کہ الیکشن کے لئے ابھی 9مہینے باقی ہیں۔ عوام کو مسلسل ورغلاتے رہنا ہے۔ لہٰذا سری نگر میں ایک سکھ لڑکی منپریت کور کے قبولیت اسلام کے واقعہ کو اُچھالا گیا اور زہریلا میڈیا ہندو انتہا پسندوں کے ایجنڈے کے طور پر کام کرتے ہوئے پورے ماحول کو زہرآلود کررہا ہے۔ باربار نیشنل میڈیا چیانلس پر یہ کہا جارہا ہے کہ کشمیر سے لے کر یوپی تک غیر مسلم لڑکیوں کو جبری طور پر مسلم بنایا جارہا ہے۔ ایک طرح سے مسلمانوں اور سکھوں کے درمیان دراڑ پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کیوں کہ حالیہ عرصہ کے دوران مسلمان اور سکھوں کے درمیان تعلقات بہت ہی اچھے، خوشگوار اور مستحکم ہوئے ہیں۔ ویسے بھی سکھ ایک زندہ دل قوم ہے۔ ان کی فراخ دلی، فیاضی، انسانیت کی خدمت کا جذبہ مثالی ہے۔ شاہین باغ کی احتجاجی مظاہرین کے لئے کھانے پینے کا سامان فراہم کرنے کے لئے تو ایک سکھ بھائی نے اپنا فلیٹ تک فروخت کردیا تھا۔ گردوارہ سے لنگر کا انتظام کیا گیا تھا۔ لاک ڈاؤن کے دوران پیدل سفر کرنے والے مزدوروں کے لئے ان سکھ بھائیوں کی خدمات کو سنہری حروف میں لکھے جانا چاہئے۔ مذہبی اعتبار سے سکھ مسلمانوں کے قریب ہیں۔ سکھ مذہب کے بانی گرونانک بھی وحدانیت کے قائل تھے۔ اور گروگرنتھ صاحب میں ہر مذہب کی اچھی باتیں، اچھے اقوال شامل ہیں۔ اس میں حضرت بابا شیخ فریدالدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کا کلام بھی ملتا ہے۔ پنجاب میں جہاں سکھوں کی غالب اکثریت ہے‘ مسلمانوں کے ساتھ ان کا حسن سلوک غیر معمولی ہے۔ اور یقینا مسلم اور سکھ اتحاد خوشگوار تعلقات کے لئے پنجاب کے شاہی امام مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی کا اہم رول رہا ہے جو مجلس احرار کے سربراہ بھی ہیں۔ ان کی کاوشوں سے مسلم بھائیوں نے پنجاب میں کئی مساجد جو ملک کے بٹوارے کے وقت قبضہ کرلی گئی تھی‘ نہ صرف دوبارہ مسلمانوں کو واپس کردی گئی ہے‘ بلکہ ان کی تعمیر نو میں بھی سکھ بھائیوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
سری نگر میں منپریت کور کے واقعہ کو اس لئے اُچھالا گیا کہ ملک کے مختلف مقامات میں سکھ مسلمانوں سے نفرت کرنے لگیں اور دونوں کے درمیان دشمنی پیدا ہو۔ اس سلسلہ میں شاہی امام پنجاب نے لدھیانہ کی جامع مسجد میں اپنی تقریر میں باقاعدہ یہ اعلان کیا کہ سری نگر کی سکھ بیٹیاں سب کی بیٹیاں ہیں۔ اگر کسی کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی ہوئی ہے تو اسے سخت سے سخت سزا دی جانی چاہیے۔ ویسے یہ دو فرقوں کے درمیان نفرت اور دشمنی پیدا کرنے کی سازش ہے جس کا منہ توڑ جواب دیا جانا چاہیے۔ اسی دوران 30/جون کو جامع مسجد لدھیانہ کے دفتر میں نائب شاہی امام مولانا محمد عثمان رحمانی لدھیانوی نے لدھیانہ سکھ مشنری کالج کے پرنسپل گربچن سنگھ، حنان، سردار ملبیر سنگھ گیان پرچار کلب لدھیانہ، سردار سریندر سنگھ مکڑ ڈائرکٹر یونائٹیڈ سکھ، سردار فرمشرن سنگھ ڈائرکٹر گیان مشنری کالج لدھیانہ، سردار امرت پال سنگھ پردھان پنجاب سکھ فیڈریشن کے ساتھ میٹنگ کی جس میں اتفاق رائے یہ قرارداد پاس کی گئی کہ اس سارے معاملے کا حل اور حقیقت واضح کرنے کے لئے سری اکال تخت صاحب سے سنگھ صاحب گیانی پریت سنگھ جی سے ایک کمیٹی تشکیل کرنے کی درخواست کی جائے جس میں دونوں مذاہب کے دانشور شامل ہوں‘ اور یہ بھی قرارداد منظور کی گئی کہ سکھ اور مسلمانوں میں نفرت پھیلانے والوں کو منہ توڑ جواب دیا جائے۔ نفرت کے سوداگروں کے خلاف یقینا یہ ا یک بہترین کوشش ہے۔ اسی دوران جس لڑکی کو اُچھالا جارہا ہے‘ منپریت سنگھ کور خود اس کا ایک ویڈیو وائرل ہوا ہے جس میں اس نے واضح طور پر یہ کہا ہے کہ اس کا قبول اسلام کا واقعہ پرانا ہے۔ اس نے اپنی مرضی سے کسی جبر و کراہ کے بغیرہندوستانی دستور اور قانون کی روشنی میں اسلام قبول کیا۔ جس کی مکمل دستاویزات اس کے پاس موجود ہیں۔ اس کے باوجود اشرار نے یہ شر پھیلایا ہے۔
سوشیل میڈیا پر ایک نوجوان خاتون زہر اُگل رہی ہے۔ اور باقاعدہ وہ دعویٰ کررہی ہے کہ کس مذہب کی لڑکی کو مسلمانوں بنانے پر دینی مدارس سے اسے کتنی رقم دی جاتی ہے۔ یہ خاتون اپنی بات چیت کے انداز سے زخمی لگ رہی ہے۔ اسے شاید اس بات کا اندازہ نہیں کہ مدارس میں لاکھوں کی رقم تو دور بچوں کو کھلانے پلانے تک کے لیے چندوں پر اکتفا کرنا پڑتا ہے۔
مٹھی فنڈ تحریک یعنی گھر گھر سے مٹھی بھر اناج وصول کرتے ہوئے یہ مدارس قائم کیے گئے۔ اور ان مدارس نے فرقہ پرست نہیں بنائے بلکہ مکمل انسان بنائے۔ انہوں نے نفرت کا پرچار نہیں کیا بلکہ انسانیت کے پیغام کو عام کیا۔ یہ مدارس ہمیشہ سے فرقہ پرستوں کی نظروں میں کانٹے کی طرح کھٹکتے رہے ہیں۔ چاہے حکومت کسی بھی جماعت کی ہو۔ انہوں نے درِپردہ اِن مدارس کو نقصان پہنچایا یہ سچ ہے کہ یہ مدارس اسلام کے مضبوط قلعے ہیں۔ اشرار کو یہ قلعے کب گوارہ ہیں۔ انہوں نے انہیں دہشت گردی کے اڈے ثابت کرنے کی کوششیں کیں۔ چند ایک تخریب پسندوں کا تعلق بعض مدارس سے رہا ہوگا۔ مگر ہر قسم کے طلبہ دینی مدارس میں بھی ہوتے ہیں۔ گروکل میں ہوتے ہیں اور کرسچن مشنری اسکول میں بھی۔
اِن تعلیمی اداروں سے کوئی ہونہار طالب علم نکلتا ہے تو اس کی مثال دی جاتی ہے۔افسوس اس بات کا ہے کہ دینی مدارس نے ہزاروں بہترین طلبہ اور دانشور پیدا کئے۔ حتیٰ کہ اے پی جے عبدالکلام تک مدرسہ کے ہی دین ہیں۔ مگر جب بھی دینی مدارس کا ذکر آئے گاتو اسے تخریب کاری کے اڈے کے طور پر پیش کیا جائے گا۔ یہ اسلام کی حقانیت سے خوف زدہ معاشرے کا حال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی اسلام کی حقانیت کو ثابت کرتا ہے تو اس کے خلاف الز امات عائد کرکے اس کے لئے زمین تنگ کردی جاتی ہے۔ اترپردیش میں آدتیہ ناتھ اپنے کیریر کے آخری سیاسی لڑائی لڑرہے ہیں کیوں کہ 2022ء کے الیکشن کے بعد ممکن ہے کہ انہیں واقعی سنیاس لینا پڑے گا۔ ان کے دور اقتدار میں جس طرح سے مسلمانوں کو مختلف بہانوں سے ستایا جارہا ہے اس سے اکثریتی طبقہ تو خوش ہوگاحالانکہ یہ حقیقت ہے کہ آج اکثریتی طبقے سے تعلق رکھنے والے صحافی اور دانشور‘ مسلمانوں کے حق میں آواز اٹھانے لگے ہیں۔ جمعےۃ العلماء اور چند تنظیموں کے سواء دیگر مسلم قائدین اور ادارے سوشیل میڈیا پر اپنی رائے ظاہر کرکے یا احتجاجی ردعمل کا اظہار کرکے یہ سمجھ رہے ہیں کہ انہوں نے اپنا حق ادا کردیا۔ جہاں تک قوم کے نوجوانوں کا تعلق ہے‘ ان کو اس دور میں احتیاط برتنی ہوگی اور پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہوگا۔ جانے کیوں ہمارے نوجوان گندگی کے دلدل میں اُترنا چاہتے ہیں۔ آپ کی اپنی قوم نے ہزاروں لڑکیاں شادی کے انتظار میں بوڑھی ہورہی ہیں۔ غیروں کے ساتھ گمراہی کے راستے پر چل رہی ہیں۔ اپنی قوم کی لڑکیوں کا ہاتھ تھامو! اگر واقعی مردانگی ہے تو۔ دلدل میں قدم رکھوگے تو تم تو تباہ ہوگے ہی‘ آنے والی نسلوں کو یہ یاد بھی نہیں رہے گاکہ ان کے آباء و اجداد میں کوئی مسلمان بھی تھا۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)