مسلم قیادت کا بحران اور اویسی ـ معصوم مرادآبادی

 

کہا جاتا ہے کہ مسائل کی کوکھ سے صالح قیادت جنم لیتی ہے، لیکن ہمارا معاملہ یہ ہے کہ مسلم قیادت کی کوکھ سے مسائل جنم لے رہے ہیں۔اس کا ایک ثبوت حال ہی میں ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں دیکھنے کو ملا ہے، جہاں ایک مسلم لیڈر نے ایسا بیان دیا ہے ، جس کا دفاع کرنا خود اس کی پارٹی کے لیے مشکل ہورہا ہے۔مسلمانوں کے سب سے زیادہ ووٹوں پراپنا’ پیدائشی حق‘ سمجھنے والی یہ سیاسی پارٹی اس وقت مسلم لیڈرشپ کے شدید بحران سے دوچار ہے ۔ اس کمی کو دور کرنے کے لیے اس پارٹی نے حال ہی میں اپنے ایک ’مسلم لیڈر‘ کوممبئی سے امپورٹ کیا ہے۔ مگر انھوں نے یہ کہہ کر اپنی اور اپنی پارٹی کی پوزیشن خراب کرلی ہے کہ’’ جن مسلمانوں کو’ اپنی سیاست اور اپنی قیادت‘ عزیز ہے ، وہ پاکستان چلے جائیں کیونکہ یہاں تو سیکولر سیاست چلے گی اور مسلمانوں کا لیڈر ہندو ہی ہوگا۔‘‘ اس بیان کے خلاف سوشل میڈیا پر خاصا تیکھا ردعمل دیکھنے کو ملا ہے ۔

مسلمان کس کو اپنا لیڈر مانیں یا نہ مانی ،یہ سوال اس وقت ہماری بحث کا موضوع نہیں ہے۔ماضی میں بھی مسلمانوں نے ہندو لیڈروں پر بھروسہ کیا ہے اور وہ انھیں اپنا قائد تسلیم کرتے رہے ہیں۔ مثال کے طورپر اسی اترپردیش میں ہیم وتی نندن بہوگنا اور ملائم سنگھ یادو مسلمانوں کے مضبوط لیڈر رہ چکے ہیں۔ ملائم سنگھ کا تو مسلمانوں سے ایساجذباتی تعلق تھا کہ انھیں سیاسی حلقوں میں ’ مولاناملائم‘ کہا جانے لگا تھا۔اسی طرح بہار میں راشٹریہ جنتادل کے لیڈر لالو پرساد یادو پر وہاں کے مسلمانوں نے جتنا بھروسہ کیا، اتنا کسی اور پر نہیں کیا۔مغربی بنگال میں آج کل وزیراعلیٰ ممتا بنرجی مسلمانوں کی لیڈر ہیں۔اس اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو ہندوؤں کی قیادت تسلیم کرکے خود کو سیکولر ثابت کرنے میں مسلمانوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ان’ مسلم لیڈران‘ نے جن پر مسلمانوں نے آنکھ بند کرکے بھروسہ کیا ، ان کی پسماندگی دور کرنے اور ان کی فلاح وبہبود کے لیے کیا کام کئے؟ آج کیوں ان تینوں ہی صوبوں میں مسلمان حاشیہ پر ہیں اور ان کی ترقی اور فلاح وبہبود کے سارے راستے بند ہیں۔ان سیکولر لیڈروں پر تکیہ کرنے کا سب سے منفی نتیجہ یہ نکلا کہ یہاں مسلم قیادت ہی پروان نہیں چڑھ سکی۔کیا آپ اس وقت یوپی، بہار یا مغربی بنگال میں ایسے کسی مسلمان کا نام بتاسکتے ہیں ،جسے اپنی اپنی ریاست میں مسلمان بلاشرکت غیرے اپنا قائد تسلیم کرتے ہوں اور اس کی ہر بات پر لبیک کہتے ہوں۔ شاید آپ کا جواب نفی میں ہوگا۔

اب آئیے تصویر کے دوسرے رخ پر نظر ڈالتے ہیں۔ان دنوں مجلس اتحاد المسلمین کے صدر بیرسٹر اسد الدین اویسی یوپی میں بہت سرگرم نظر آرہے ہیں۔انھوں نے اعلان کیا ہے کہ یوپی اسمبلی کی تقریباً 100 نشستوں پر وہ اپنے امیدوار کھڑے کریں گے۔ یہ وہ نشستیں ہیں جہاں مسلم ووٹ فیصلہ کن پوزیشن میں ہے۔بیرسٹر اویسی ان حلقوں میں عوامی اجلاس اور میٹنگیں بھی کررہے ہیں اور مسلمانوں کو یہ باور کرارہے ہیں کہ ان کی بھلائی سیاسی طورپر بااختیار بننے میں پوشیدہ ہے۔ وہ جب تک نام نہاد سیکولر پارٹیوں پر تکیہ کرتے رہیں گے ، ان کا یونہی سیاسی استحصال ہوتا رہے گا۔اویسی کی پارٹی کا بنیادی تعلق جنوبی ہند کے شہر حیدرآباد سے ہے۔ جہاں نظام شاہی کے زوال کے بعد ان کی پارٹی نے دستوری بنیادوں پر اپنی سیا سی پوزیشن بنائی۔پہلے اس جماعت کا حلقہ اثر حیدرآباد تک ہی محدود تھا ، لیکن پچھلے پارلیمانی الیکشن میں اورنگ آباد (مہاراشٹر ) سے ایک لوک سبھا نشست اور بہار اسمبلی کے پچھلے چناؤ میں پانچ سیٹیں جیتنے کے بعد ان کے حوصلے بلند ہیں اور اب وہ مجلس کو پورے ملک میں فروغ دینے کی کوششیں کررہے ہیں۔ انھوں نے مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات میں بھی قسمت آزمائی تھی، لیکن یہاں انھیں کوئی کامیابی نہیں ملی۔بہار کی طرح اترپردیش میں بھی ان کے سیاسی مخالفین یہ الزام لگا رہے ہیں کہ وہ بی جے پی کو انتخابی فائدہ پہنچانے اور مسلم ووٹوں کو منتشر کرنے کے لیے میدان میں اتر رہے ہیں۔ بعض لوگ یہاں تک کہتے ہیں کہ ان کا بی جے پی سے خفیہ معاہدہ ہے ،مگر کوئی بھی ابھی تک اس الزام کو ثابت نہیں کرپایا ہے۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس وقت پورے ملک میں بیرسٹر اویسی کو مسلمانوں میں جو مقبولیت حاصل ہے ، وہ کسی اور مسلم لیڈر کو نہیں ہے۔حالانکہ بہت سے مسلمان ان سے اختلاف بھی رکھتے ہیں اور ان کی سیاست کو مسلمانوں کے لیے مضر قرار دیتے ہیں۔مگر جب وہ یہ کہتے ہیں کہ جن سیکولر پارٹیوں پر مسلمانوں نے آزادی کے بعد مسلسل بھروسہ کیا ،انھوں نے مسلمانوں کو اس حالت میں کیسے پہنچادیاتو انھیں اس سوال کا تسلی بخش جواب نہیں ملتا۔اویسی کی مقبولیت کی بڑی وجہ ان کی وہ پارلیمانی تقریریں اوربیانات ہیں، جو وہ مسلم مسائل پردیتے رہے ہیں۔اویسی نے مسلمانوں کے درمیان جو مقبولیت حاصل کی ہے، وہ مسلم مسائل پر ان کی بے باک رائے اورسوجھ بوجھ کی وجہ سے ہی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شمالی ہند کے جو مسلم نمائندے پارلیمنٹ میں موجود ہیں ، انھیں اویسی جیسی مقبولیت کیوں حاصل نہیں ہے، جبکہ مسائل کاجتنا انبارشمالی ہند میں ہے اتنا جنوب میں نہیں ہے ۔مسلم ووٹوں کے سہارے پارلیمنٹ میں پہنچنے والے دیگر مسلمان اتنی طاقت اور ہمت سے مسلم مسائل کو کیوں نہیں اٹھاتے؟

اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس وقت یوپی، بہار اور بنگال سے جو مسلمان اسمبلیوں اور پارلیمنٹ میں چن کر آئے ہیں ، وہ درحقیقت اپنی پارٹیوں کے پابند ہیں۔وہ پارٹی قیادت کی مرضی کے بغیروہاں ایک لفظ بھی نہیں بول سکتے۔اگر یہ کہا جائے کہ ان کی حیثیت ” بندھوا مزدور” جیسی ہے تو بے جا نہیں ہوگا۔ اس میں آسام کی اے یو ڈی ایف کے لیڈر بدرالدین اجمل ضرور مستثنیٰ ہیں ، جو کسی اور کھوٹے سے بندھے ہوئے نہیں ہیں۔اس کے علاوہ شمالی ہند میں کانگریس ، سماجوادی پارٹی،ترنمول کانگریس، بی ایس پی اور راشٹریہ جنتا دل کے مسلم قائدین درحقیقت آزادانہ طورپر بولنے اور فیصلہ لینے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت پارلیمنٹ میں شمالی ہند کے کسی مسلم لیڈر کی کوئی گر جدار آواز موجود نہیں ہے ۔اگر آپ یوپی کی ہی بات کریں تو پارلیمنٹ میں بہوجن سماج پارٹی اور سماجوادی پارٹی کے ارکان کی تعداد نصف درجن سے کم نہیں ہے، لیکن ان میں سے کسی نے بھی مسلمانوں کے حقیقی مسائل پر کوئی گفتگو نہیں کی بلکہ اکثر یہ لوگ ایسے موضوعات پر رائے زنی کرتے ہیں جن کا ہندوستانی مسلمانوں سے کوئی سروکار ہی نہیں ہوتا ۔ مثال کے طورپر پچھلے دنوں سماجوادی پارٹی کے ایک رکن پارلیمان نے طالبان پر بیان دے کر اپنے لیے گھر بیٹھے مصیبت مول لی اور ان پر ’ دیش دروہ‘ کا مقدمہ قایم ہوا۔

ایسا نہیں ہے کہ شمالی ہند کے مسلمانوں کے اندر قائدانہ صلاحیتوں کی کمی ہے۔بے شمار لوگ ایسے ہیں جو اس خلاء کو بھر سکتے ہیں ، مگر سیکولر پارٹیاں ان ہی مسلمانوں کو ٹکٹ دیتی ہیں جو ان کی ہاں میں ہاں ملائیں یا ان کی غلامی قبول کریں۔مسلمانوں میں سیاسی شعور اور بیداری پیدا کرنے کا سب سے کامیاب تجربہ 70 کی دہائی میں قائدملت ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی نے کیا تھا۔ انھوں نے مسلم مجلس کے پرچم تلے ایسے مسلمانوں کی ایک کھیپ تیار کی تھی جس نے کافی عرصہ تک مسلمانوں کوراہ دکھائی۔ لیکن ان کے انتقال کے بعد یہ تحریک دم توڑ گئی۔ ڈاکٹر فریدی نے جن لوگوں کی ذہن سازی کی تھی ، انھوں نے آخری دم تک مسلمانوں کے اندر خوداعتمادی اور خدا اعتمادی کی شمع روشن کئے رکھی۔ ان میں سے کچھ لوگوں کے نام اس وقت ذہن میں ابھررہے ہیں۔ ان میں الحاج ذوالفقاراللہ ،فضل الباری، قمرکاظمی، ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی، مسعود خاں،صحافی محفوظ الرحمن، عالم بدیع اعظمی اور الیاس اعظمی کے نام قابل ذکر ہیں۔ ان میں آخرالذکر دوشخصیات ہی بقید حیات ہیں ، باقی سب اللہ کو پیارے ہوچکے ہیں۔کاش شمالی ہند میں مسلمانوں کو سیاسی طورپر بااختیار بنانے کی ایسی ہی کوئی تحریک دوبارہ شروع ہو،تاکہ وہ اپنا کھویا ہوا وقار بحال کرسکیں۔