مسلم سیاسی قیادت انا للہ وانا الیہ راجعون-شکیل رشید

آج ایک ویڈیو دیکھی اور دل مسوس کر رہ گیا ۔مہاراشٹر کی سرحد پر قربانی کے ان بکروں سے، جنہیں ریاست کے اندر کے علاقوں بشمول شہر ممبئی تک لانا تھا، بھرے ہوئے ٹرک کھڑے ہوئے ہیں، انتظامیہ کورونا اور لاک ڈاؤن کے بہانے انہیں ریاست کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دے رہی ہے، اور بکرے بارش کے پانی سے بھیگ کر اور گرمی و سردی برداشت نہ کر پانے کے سبب بیمار پڑ رہے اور مر رہے ہیں ۔ بکرے لانے والے افراد بڑی مایوسی سے مردہ اور نیم مردہ بکروں کو ٹرکوں کے اندر سے کھینچ کھینچ کر باہر نکال کر زمین پر ڈال رہے ہیں ۔ جن بکروں کی سانسیں ذرہ بھر بھی چلتی نظر آتی ہیں ان پر پانی کے چھینٹے برسائے جا رہے ہیں ۔ مرے ہوئے بکروں کا ڈھیر لگا پڑا ہے ۔ یہ کیا بکرا فروشوں کے ساتھ اور قربانی کے واسطے بکرے خریدنے کے لیے منتظر افراد کے ساتھ ظلم نہیں ہے؟ یہ ظلم ہی ہے، اور یہ ظلم نہ نریندر مودی کر رہے ہیں اور نہ دیویندر فڑنویس، یہ ظلم مہاراشٹر کی اس مہا وکاس اگھاڑی کی سرکار میں ہو رہا ہے جس کے وزیراعلیٰ شیوسینا پرمکھ ادھو ٹھاکرے ہیں اور جسے دوسیکولر کہلانے والی سیاسی جماعتیں سہارا دیے ہوئے ہیں، ایک کانگریس جو خود کو ملک کی سب سے بڑی سیکولر پارٹی کہتی ہے، اور دوسری این سی پی جو کانگریس ہی سے کٹ کر وجود میں آئی ہے، جس کے سربراہ شرد پوار ہیں، جو کبھی ملک کا وزیراعظم بننے کا سپنا دیکھتے تھے، اور آج بھی اس سپنے سے پیچھا نہیں چھڑا سکے ہیں۔ سابقہ فڑنویس حکومت میں قربانی کے فریضہ کی ادائیگی، شدید بیرونی دباؤ اور عدالتی ہدایات کے باوجود، مشکلات میں نہیں گھری تھی ۔اور آج کے دنوں میں بھی کورونا کے باوجود یوپی کی شدید متعصب یوگی سرکار نے بھی قربانی پر روک نہیں لگائی ہے ہاں سختی بڑھا دی ہے۔ وہاں بڑے جانوروں کی قربانی بھی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اور کورونا سے متعلق تمام احتیاط کو مدنظر رکھ کر کرنے کی اجازت ہے۔ تو پھر مہاراشٹر میں کیا مشکل ہے!! یہاں کی سرکار یہ دعویٰ تو کر سکتی ہے کہ بڑے جانوروں کی قربانی پر پابندی ضرور ہے لیکن بکروں کی قربانی پر روک نہیں لگائی گئی ہے پر وہ اس سوال کا جواب نہیں دے سکتی کہ منڈیاں نہ لگانے کے حکم اور سرحد پر بکروں سے بھرے ٹرک روک کر وہ کون سی قربانی کی اجازت دے رہی ہے؟ کیا علامتی قربانی کی کہ مسلمان بکرے کی تصویر پر چھری پھیر دیں؟ جب لوگوں کے پاس بکرے ہوں گے ہی نہیں تو وہ قربانی کس کی کریں گے؟ کیا یہ ایک طرح سے ان مسلمانوں کو ، جو صاحب نصاب ہیں اور جن کے لیے قربانی کا کرنا فرض ہے، سنت ابراہیمی سے محروم کرنا نہیں ہے؟ اگر یہ سرکار مسلمانوں کو قربانی کے فریضہ سے روک نہیں رہی ہے تو بکروں سے بھرے ٹرک ریاست کے اندر آنے دے، اور اسی سختی کے ساتھ جو کورونا پر قابو پانے کے لیے نافذ ہیں لوگوں کو بکرے خریدنے اور قربانی کرنے دے۔ حیرت کی بات ہے کہ کئی کئی میٹنگیں ہوئیں، ایک بار اشارہ بھی ملا کہ بقرعید کے مدنظر گائیڈ لائن میں تبدیلیاں کی جائیں گی، مسلم فرقے نے راحت کی سانس لی تھی کہ اب شاید قربانی کے لیے مطلوبہ سہولیات حاصل ہو جائیں گی، لیکن پھر این سی پی قائد، ریاستی وزیر نواب ملک کا بیان آگیا کہ گائیڈ لائن میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں ہو گی، اور سب کی امیدوں پر اوس پڑ گئی۔ مسلم سیاسی قیادت کا اس معاملے میں بڑا افسوس ناک کردار رہا ہے ۔ادھو ٹھاکرے تو ہندوتوا پر عمل پیرا ہیں، وہ ایودھیا رام مندر بھومی پوجن کی تقریب میں، کورونا کے باوجود جانے کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں، ان سے کیا امید رکھی جائے ۔ انہوں نے چونکہ گنپتی کے تہوار پر بھی بہت ساری سختیاں نافذ کردی ہیں اس لیے وہ بقرعید پر کوئی سہولت دینے کو تیار نہیں ہو سکتے، بی جے پی انہیں گھیر لے گی ۔لیکن کانگریس اور این سی پی اپنی ذمہ داری پر قربانی کے لیے آسانیوں کی فراہمی کو ممکن بنوا سکتے تھے۔لیکن کانگریس اور این سی پی بھی، نرم سہی، پر ہندوتوا کی راہ پر گامزن ہیں لہذا ان کی قیادت ٹس سے مس نہیں ہو رہی ہے ۔ ان کے چہرے خوب اجاگر ہو چکے ہیں ۔اور رہی مسلم سیاسی قیادت تواس پر اب آنسو بہانے کے سوا کچھ نہیں کیا جا سکتا ۔یہ اب زندہ نہیں رہی ہے ۔یہ مسلمانوں کو ان کے حقوق دلانے کے لیے ایک قدم اٹھانے کو تیار نہیں ہے ۔ یہ مردہ مسلم سیاسی قیادت احتجاج تک نہیں کر سکتی کہ ادھو اگر کورونا لاک ڈاؤن کی دھجیاں اڑا کر ایودھیا جا رہے ہیں تو مسلمانوں کو قربانی کی جائز سہولیات دی جائیں، مسلمان ساری احتیاط برتیں گے ۔ لیکن یہ مسلم سیاسی لیڈر اپنے سیاسی آقاؤں کے سامنے پہلے سر خم کرتے تھے، پھر کمر سے جھکنے لگے تھے اور اب گٹھنوں پر گر گیے ہیں، ان کے لیے ان کی قوم اور مذہب سے زیادہ اہم سیاست اور سیاسی وفاداریاں ہو گئی ہیں ۔ شائد لوگ اس بات سے واقف نہ ہوں گے کہ علامتی قربانی کا مشورہ ایک مسلم سیاست داں ہی نے دیا تھا، اور ایک صاحب تو یہ چاہتے تھے کہ وہ جو بکرے سڑکوں پر لاتے ہیں، گھمانے چرانے کے لیے، ان پر بیس ہزار روپے کا جرمانہ عائد کر دیا جائے ۔آئیں انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ لیں۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)