مسلم فوبیا اور ہندوستانی مسلمان – وارث مظہری

حالیہ عرصے میں ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فضا جس تیزی سے متاثر ہوئی ہے اور مسلمانوں کے خلاف نفرت وعداوت کے ماحول میں جوشدت آئی ہے،اس نے بلاتفریق مذہب، ملک کے امن پسند اور انسانیت دوستی میں یقین رکھنے والوں کو اضطراب وکش مکش میں مبتلاکردیا ہے۔قابل غور بات یہ ہے کہ کرونا کی وبا اور اس سے پیدا شدہ صورت حال توبہرحال، ان شاء اللہ، وقتی ہے، ختم ہوجائے گی۔ لیکن مسلم فوبیا کی فضا جس طرح پروان چڑھ رہی ہے، جس کے مختلف عوامل ہیں؛وہ دور دور تک ختم ہوتی نظرنہیں آتی۔ کیوں کہ اب وہ صرف سیاسی اور ابلاغی(میڈیا) حلقوں تک محدود نہیں رہی۔اس نے سماجی اداروں اور عوام الناس کو بڑی سطح پراپنی گرفت میں لے لیا ہے، یہ وہ حقیقت ہے کہ جس کے اثبات کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔ مختلف مغربی ممالک میں اس کی صورت حال ز یر بحث رہی ہے لیکن اب ہندوستان میں اس کا جن جس طرح بوتل سے نکل کر سامنے آیا ہے،اگراسے دوبارہ اپنی جگہ بندکرنے کی بھر پورجد جہد نہیں کی گئی تو اس کے ہاتھوں صدیوں میں تشکیل واستحکام پانے والا اسلامی اجتماعی وجود پارہ پارہ ہوکر رہ جائے گا۔

ایسے میں خصوصیت کے ساتھ مسلم علما اوردانشوروں کے لیے ضروری ہوگیا ہے کہ وہ پوری سنجیدگی کے ساتھ اس موضوع کو اپنی توجہ کا مرکز بنائیں اوراجتماعی غور خوض کے ساتھ ایک مضبوط لائحہ عمل کی تشکیل و تنفیذ کو یقینی بنائیں۔صرف تشویش کا اظہاراور نوحہ خوانی قوم کے حوصلوں کومزید پست اور اس کی قوت عمل کوبرباد کردیتی ہے۔اس لیے آہ وماتم کے بجائے اصل ضرورت اس کا مداوا ڈھونڈنے کی ہے۔ میرے خیال میں اجتماعی منصوبہ بندی کے لیے وقت کا سب سے اہم تقاضا ملی ترجیحات کا تعین ہے۔ کیوں کہ مسائل بے پناہ ہیں اورجہاں تک حالات کی نزاکت وسنگینی کا معاملہ ہے وہ کسی بھی اعلی وادنی پر مخفی نہیں۔ ہندوستان کے موجودہ بدلتے ہوئے منظرنامے میں،جب کہ ہندوستان کی سیاسی و سماجی تاریخ ایک نئ کروٹ لے رہی ہے، ہماری اجتماعی اور ملی ترجیحات کیا ہیں یا کیا ہونی چاہئیں، جن کی بنیادپر اپنے موجودہ عمل کا صحیح رخ طے کرنے کے ساتھ مستقبل کی خاکہ سازی کی جائے؟ اس تعلق سے ہم نے اس مختصر تحریر میں چند نکات کی طرف توجہ دلانے کی کوشش کی ہے۔

اسلاموفوبیا کو ملک میں پروان چڑھا نے میں سب سے اہم کردار میڈیا نے نبھایاہے۔ مسلم منافرت کو بنیاد بناکر سیاست کرنے والے حلقوں نے بھی میڈیا کو ہی اپنے مقصد کے حصول کے لیے آلے کے طور پر استعمال کیا ہے۔اس لیے اجتماعی سطح پریہ پہلو سب سے زیادہ ہماری توجہ کا متقاضی ہے۔ بد قسمتی سے اجتہادفکر ونظر کے فقدان کے باعث ہندوستان میں اس کی طاقت اور اہمیت کو مذہبی حلقوں کی طرف سے سمجھنے کی سنجیدہ کو شش نہیں کی گئی۔چناں چہ علما کی اکثریت کی راے اب تک یہی چلی آرہی ہے اور ملک کے دار الافتا یہی فتوی دے رہے ہیں کہ میڈیا میں تصویر کا استعمال جائز نہیں۔(یہ الگ بات ہے کہ وہ عملی سطح پر اسے نہ صرف جائز بلکہ مستحسن تصور کرتے ہیں۔فکر وعمل کے تضاد کی یہ صورت نہایت واضح ہے)حالاں کہ کسی بھی ملک کی اقلیت کا سب سے زیادہ مضبوط ہتھیار یہی ہوتا ہے کہ جس سے اس کو اپنی آواز بلند کرنے کا موقع حاصل ہوسکے اور اسے بڑے پیمانے پر سنا جاسکے۔ اس لیے سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ نظری بھول بھلیوں سے باہر آکر مسلم میڈیا ہاوس کے تصور کو عمل میں لانے کی کوشش کی جائے۔ اہم بات یہ ہے کہ ملک کا دولت مند طبقہ،جس کی اکثریت شریعت سے نابلد ہوتی ہے، ایسے شعبوں میں ڈونیٹ کرنے سے ڈرتی ہے جس میں علما کی نظر میں شرعی طور پر قباحت موجود ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جمیعۃ علمائے ہند سمیت مختلف شخصیات(مثلا سید حامد مرحوم) اور ادارے دہلی سے ایک انگریزی روزنامے کی اشاعت کے لیے متحرک اور کوشاں رہے رہے لیکن یہ خواب پورا نہیں ہوسکا۔کیوں کہ بقول سید حامدصاحب مرحوم ملک کا متمول طبقہ صرف مسجد اورمدرسے کو صحیح دینی مصرف تصور کرتاہے۔ وقت اور حالات کا شدید تقاضا ہے کہ مسلمانوں کی طرف سے فوری طور پر انگریزی اور ہندی میں قومی سطح کے ٹی وی چینلز کا قیام عمل میں آئے۔ اسی کے ساتھ ان دونوں زبانوں میں قومی سطح کے اخبارات کی اشاعت کے منصوبے کو بھی عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی جائے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ الیکٹرانک میڈیا کا تو کیاذکر کہ اس میں مسلم نمائندگی معشوق کی موہوم کمر کی مانند ہے، ملک کی راجدھانی سے نکلے والے کثیر الاشاعت اردو روزناموں کے مالکان بھی غیر مسلم ہیں۔

ایک نہایت اہم قدم جسے بروقت عمل میں لائے جانے کی ضرورت ہے وہ ہندؤں کی نمائندہ مذہبی شخصیات، جن میں مختلف مٹھوں، مندروں، آشرموں اور سماجی اداروں سے تعلق رکھنے والی شخصیات شامل ہیں، ملاقاتیں ہیں۔سیاست اور سیاسی مسائل سے قطعا احتراز کرتے ہوئے یہ ملاقاتیں مختلف سماجی مسائل کے حوالے سے کی جاسکتی ہیں۔کوئی باضابطہ عنوان نہ ہو تب بھی ان عوامی شخصیات سے ملاقات میں عموما کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی۔ مسلم فوبیا کے ضمن میں مدرسہ فوبیا بھی اب عوامی حلقوں میں پھیل رہا ہے۔ مدارس کے ذمہ داروں کو عوامی سطح پر اس بات کا شدت کے ساتھ اعلان واظہار کرنا چاہیے کہ غیر مسلم بھائیوں کے مدارس کے در ودیوار کھلے ہوئے ہیں۔ مدارس میں ان کا استقبال ہے۔ اس سلسلے میں تحفظ پہلے بھی نہیں رہا ہے لیکن عوام تک یہ آواز زیادہ شدت کے ساتھ نہیں پہنچ سکی ہے۔ اسی کے ساتھ اہل مدارس اور مسلم تنظیمات کوایسے پروگرام عمل میں لانے چاہئیں جن میں غیر مسلموں کی شرکت کو یقینی بنایاجاسکے۔ عجیب بات ہے کہ دارالعلوم دیوبند میں ایک عرصے تک ہندو طلبہ بھی پڑھتے تھے اور اس کی مالی مدد کرنے والوں میں ہندو افراد بھی شامل تھے۔(محبوب رضوی: تاریخ دار العلوم دیوبند ص، ج،۱،ص،۴۹۱)کیا مدارس کی اس تاریخ کودہرایا جا سکتا ہے؟

حلف الفضول کی اسپرٹ کو کام میں لاتے ہوئے خصوصا مذہبی طبقے کی طرف سے مشترکہ مسائل کو موضوع بنانے والے ایسے پروگرام تشکیل دیے جانے چاہییں جن میں غیر مسلم عوام و خواص کی زیادہ سے زیادہ شرکت عمل میں آسکے۔ غیر مسلم سنجیدہ اور غیر سنجیدہ دونوں حلقوں میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ مسلمانوں کے قائم کردہ مسلم رخی ہوتے ہیں۔ مسلمانوں کی طرف سے اس احساس کو ختم کرنا ضروری ہے۔

1947کے اپنے مشہور خطبہ مدراس میں مولانا ابوالاعلی مودودی نے ایک نہایت اہم نکتے کی طرف توجہ دلائی تھی۔ انہوں نے فرمایا تھا کہ مسلمانوں کے لیے سب سے مقدم کام یہ ہے کہ ہندؤں اور مسلمانوں کے درمیان جو قومی کش مکش پیدا ہوگئی ہے، اس کو ہمیشہ کے لیے مسلمانوں کی طرف سے ختم کردیا جائے۔(ص،۱۳)کیوں کہ ہندوقومیت پرستی کی پہلی بنیاد انگریزی اقتدار سے نجات(جو حاصل ہونے کو ہے) اور دوسری بنیاد یہی ہے۔(خطبہ مدراس ص،۱۲۔۲۲)۔یہ بات کہنے کو آسان لیکن عمل میں لانا دشوارتر ہے لیکن مسلم اہل دانش کوسیاسی ذہنیت سے ہٹ کراس پہلو کو غوروفکر کاموضوع بنانا چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ اس کشمکش کے خاتمے کی کیا کیا صورتیں کس طرح ممکن ہیں؟

تبلیغی جماعت جس طرح عوامی توجہ کا مرکز بنی ہے اگرچہ وہ منفی سیاق میں ہے، تاہم اس کو مثبت نتائج کے حصول کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔مکی زندگی میں رسول اللہ کو یہی صورت حال درپیش تھی۔آپ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں نے اسلام مخالف پروپیگنڈے سے مخالفین کے اندر پیدا ہونے والے تجسس کو کام میں لاتے ہوئے اس ماحول کو اسلام کی انسانیت پسندانہ تعلیمات کوعا م کرنے کے لیے استعمال کیا۔اپنے نام کے لحاظ سے تبلیغی جماعت کا اصل ہدف غیر مسلم ہیں۔ اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے اسے خاص طور پر مذہبی شناخت رکھنے والی غیر مسلم (خصوصا ہندو) شخصیات سے خیر سگالی ملاقات کا پروگرام بنانا چاہیے۔اس سے اس کے اور مسلمانوں کے تعلق سے پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کے ازالے میں مدد ملے گی۔افراد سے انفرادی سطح کی ملاقات، اس کی حیثیت عرفی کی بناپر لوگوں میں غلط فہمی کا باعث ہوگی۔ لیکن معروف شخصیات سے اجتماعی ملاقاتوں میں کوئی اندیشہ نہیں ہے۔ تبلیغی جماعت کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کے اندر نظم وضبط کے ساتھ اطاعت امیر کا جذبہ اپنی انتہائی شکل میں پایاجاتا ہے۔اگرتبلیغی جماعت ہندومسلم ملاقات وتعلقات کو اپنے پروگرام کا حصہ بنالے تواس کے دور رس اثرات مرتب ہونا یقینی ہیں۔ اس سے اسے مسلم برادران وطن کے درمیان اپنی شبیہ کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)