مسلم پرسنل لا پھرنشانے پر،اب تعددِازدواج کوسپریم کورٹ میں چیلنج

نئی دہلی:سپریم کورٹ میں پٹیشن دائرکرکے مسلمانوں میں ایک سے زیادہ شادی کو چیلنج کیاگیاہے۔ درخواست میں اس عمل کو آئین کیخلاف اورخواتین کے ساتھ امتیازی سلوک قرار دیاگیاہے۔ایساسمجھاجاتاہے کہ منصوبہ بندطریقے سے درخواست داخل کروائی جاتی ہے پھراس پرہنگامہ مچاکرمسلم پرسنل لایعنی اسلامی عائلی قوانین پرحملہ کیاجاتاہے جیساکہ طلاق ثلاثہ کے معاملے میں ہوا۔بعدمیں درخواست گزارخاتون نے باضابطہ بی جے پی جوائن کرلیا۔طلاق ثلاثہ پرکیس سپریم کورٹ میں داخل ہے لیکن اب تک اس پرفیصلہ نہیں ہوسکا ہے۔کیوں کہ مرکزکاقانون خودسپریم کورٹ کے فیصلے کے منافی ہے ۔سپریم کورٹ نے طلاق ثلاثہ کوکالعدم بتایاہے لیکن مرکزنے اس پرسزارکھی ہے۔مسلم پرسنل لاء بورڈکی جانب سے دائردرخواست میں یہی سوال کیاگیاہے کہ جب کوئی چیزکالعدم ہوگئی یعنی وجودمیں ہے ہی نہیں ،یعنی بغیروقوع جرم کے سزاکیسے ہوسکتی ہے؟اسی طرح سول ایکٹ کوفوجداری ایکٹ کیسے بنایاجاسکتاہے ؟ تعددازدواج کے بہانے مسلم پرسنل لانشانے پرہے جس کی آزادی دستورمیں دی گئی ہے۔نشانہ مسلمان ضرورہیں لیکن برادران وطن میں ایسی مثالیں موجودہیں جہاں ایک سے زائدشادی ہوئی۔رام ولاس پاسوان،ملائم سنگھ یادواس کی مثالیں موجودہیں۔ لکھنؤ کی مبینہ رضاکار تنظیم کے ذریعہ دائر درخواست میں کہاگیاہے کہ اسلامی قانون میں اب بھی بیک وقت ایک سے زیادہ بیوی رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ لیکن یہ آئین کے بنیادی اصول اور صنف پر مبنی عدم امتیازکے خلاف ہے کیونکہ ایک سے زیادہ شادی قومی مفادمیں نہیں ہے۔درخواست داخل کرنے والے وکیل وشنو شنکر جین نے مسلم پرسنل لا (شریعت)ایپلیکیشن ایکٹ 1937 کے سیکشن 2 کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا ہے۔ اس میں مسلمانوں کے لیے ایک سے زیادہ شادی کی اجازت دی گئی ہے۔ جبکہ تعزیرات ہند کی دفعہ 494 کے تحت ایسی شادی کو جرم سمجھا جاتا ہے۔ہندو ، پارسی یاعیسائی کی دوسری شادی جب کہ بیوی زندہ ہے ، یہ تعزیرات ہند کی دفعہ 494 کے تحت جرم ہے۔گرچہ رام ولاس پاسوان کے خلاف ایسی کوئی کارورائی نہیں ہوئی۔ اس طرح کی شادی کسی بھی مسلمان کے لیے قابل تعزیر نہیں ہے۔ درخواست گزاروں نے کہاہے کہ لہٰذا دفعہ 494 مذہب کی بنیادپرامتیازی سلوک اور آئین کے سیکشن 14 اور 15 (1) کی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ ایک سے زیادہ شادی خواتین کی زندگی کو قابل رحم اوربے عزت کرتی ہے۔درخواست میں مزیدکہاگیاہے کہ در حقیقت یہ عمل خواتین کا استحصال کرتا ہے اور یہ انسانی وقار،شائستگی اورمساوات کے منافی ہے۔درخواست گزاروں نے کہاہے کہ فوجداری قانون ذات،نسل یا مذہب پر مبنی نہیں ہوسکتا۔ سپریم کورٹ کی طرف اشارہ کیاگیاکہ اس عمل کی اجازت صرف ایک مذہبی برادری کو ہی نہیں دی جاسکتی جب کہ دوسرے مذاہب کے لوگوں کو ایسا کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ درخواست کے ذریعے مسلم پرسنل لاء (شریعت) ایپلیکیشن ایکٹ ، 1937 کی دفعہ 2 کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔