مسلم پرسنل لا بورڈشرعی بیداری کے لیے شروع کرے گا ویب سیریز،قانونی مجلہ بھی شائع کیا جائے گا

نئی دہلی:آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی مجلس عاملہ کا ایک اہم اجلا س ۲۱؍ فروری ۲۰۲۱ءکو صبح دس بجے سے منعقد ہوا ،اجلاس کی صدارت حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی صاحب نے فرمائی۔اجلاس کا آغاز مولانا فضل الرحیم مجدد ی صاحب سکریٹری بورڈ کی تلاوت کلام پاک سے ہوا ۔ اجلاس میں ملک بھر کے پینتالیس ارکان و مدعووین کرام نے شرکت کی، بورڈ کے جنرل سکریٹری حضرت مولانا سیدمحمد ولی رحمانی صاحب نے اجلاس کے مقاصد پر روشنی ڈالی اور زیر بحث ایجنڈوں کے مطابق ارکان سے رائے اور مشورے دینے کی گذارش کی، حضرت نے اس موقع پر ممتاز ملی شخصیات کی رحلت پر تجویز تعزیت پیش کی اور صدر محترم نے سبھوں کے لیے دعاء مغفرت فرمائی ، بعد ازاں سپریم کورٹ اور ملک کی مختلف عدالتوں میں میں دائر زیر سماعت مقدمات کی پیش رفت کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے لیگل کمیٹی کے کنوینر سینیئر ایڈووکیٹ جناب یوسف حاتم مچھالا صاحب نے پیش کیں، انہوں نے بتایاکہ اس وقت بمبئی ہائی کورٹ میں دو مقدمات اور کلکتہ میں ایک مقدمہ زیر کارروائی ہے، سپریم کورٹ میں جو مقدمہ چل رہاہے ، اس میں بھی بورڈ کی طرف سے پوری قوت کے ساتھ پیروی کی جا رہی ہے۔ عاملہ کی اس میٹنگ میں دار القضاء کے رول اینڈ ریگولیشن کو آخری شکل دینے کے لیے علماء ، قضاۃ اور وکلاء پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جو ایک ماہ کے اندر اپنی رپورٹ جنرل سکریٹری بورڈ کی خدمت میں پیش کرے گی ۔ یہ بات بھی آئی کہ وقف ایکٹ کو بورڈ نے بڑی محنت سے بنوا کر منظور کرایا، اس میں وقف کی جائداد کو فروخت کرنے سے باز رہنے کے دفعات شامل کیے گئے ہیں ، لیکن ان دفعات میں تبدیلی کی کوششیں کئی جہتوں سے ہو رہی ہیں، جو اوقاف کے تحفظ کے سلسلہ میں خطرناک ہو سکتی ہیں، اس لیے طے کیا گیا کہ اوقاف کی اراضی کے تحفظ کے لیے ملک کی مختلف ریاستوں میں تحریک چلائی جائے ۔اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ بورڈ کی جانب سے سینئر وکلاء اور جونیئر وکلا ء کی ایک ٹیم کے ذریعہ شریعہ اویرنیس ویب سیریز شرو ع کی جائے ، ڈاکٹر اسماء زہرا ء کو اس کا خاکہ بنانے کی ذمہ داری دی گئی ہے ، اجلاس میں سینئر ایڈووکیٹ جناب یوسف حاتم مچھالا ، جناب ظفر یاب جیلانی اور ایم آر شمشاد صاحب نے بھی اس تجویز کی تائیدکی اوراس سلسلہ میں وقت دینے کا بھی وعدہ کیا۔عاملہ کے اس اجلاس میں ارکان نے بورڈ کی جانب سے ایک قانونی دستاویزی مجلہ اردو اور انگریزی دو زبانوں میں شائع کرنے کا بھی فیصلہ کیا ۔ اس سلسلہ میں جناب ایم آر شمشاد صاحب ایڈووکیٹ کو ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ اس مجلہ کے تعلق سے نقشہ کار تیار کر کے جنرل سکریٹری بورڈ کی خدمت میں پیش کریں ۔ اجلاس میں بورڈ کے ویب سائٹ کو اپ ٹو ڈیٹ کرنے اور اس کو زیادہ سے زیادہ قابل استفادہ اور مواد سے پُربنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کی افادیت کو بڑھانے اور اس سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو جوڑنے کے لیے مختلف سماجی پہلوؤں پر اعداد شمار جمع کرنے کی تجویز بھی منظور ہوئی ، اس سلسلہ میں یک سالہ پروجیکٹ تیار کرنے کی سفارش کو بھی قبول کیا گیا ہے ۔ اور ملک کی مختلف یونیورسٹیوں اور غیر سرکاری ایجنسیوں کے ذریعہ بھی ڈاٹا حاصل کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اس کے علاوہ بھی کئی اہم ملی مسائل ، اورمسلم پرسنل لا سے متعلق ضروی ایجنڈوں پر گفتگو ہوئی اور قابل عمل تجاویز اور سفارشات منظور ہوئیں۔ اس اجلاس میں صدر بورڈ اورجنرل سکریٹری کے علاوہ مولانا فخر الدین اشرف نائب صدر بورڈ، مولانا جلا الدین عمری نائب صدر بورڈ، جناب کاکاسعید احمد عمری نائب صدر بورڈ، جناب پروفیسر ریاض عمر صاحب خازن بورڈ، جناب مولانا محفوظ عمرین رحمانی سکریٹری بورڈ، جناب ظفر یاب جیلانی سکریٹری بورڈ،مولانا فضل الرحیم مجددی سکریٹری بورڈ، جناب جسٹس سید محمد شاہ قادری، حضرت مولانا سید ارشد مدنی ، مولانا عتیق احمد بستوی ، مولانا محمد شبلی القاسمی قائم مقام ناظم امارت شرعیہ، جناب کمال فاروقی صاحب، جناب ریاض عمر صاحب، جناب مولانا ڈاکٹر یاسین علی عثمانی، جناب نصر ت علی، جناب سید سعادت حسینی ، مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی ، مولانا رضوان احمد نعیمی، ایم آر شمشاد صاحب ، مولانا عبد اللہ مغیثی، ڈاکٹر منظور عالم ، جناب یوسف حاتم مچھالا، مولانا سید اطہر علی، مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی، مولانا عبد العلیم قاسمی ، مولاناابوطالب رحمانی،جناب قاسم رسول الیاس، مولانا خالد رشید فرنگی محلی ،جناب ڈاکٹر ظہیر قاضی، جناب وارث حسین ، مولانا عبد الشکور قاسمی، پروفیسر ڈاکٹر سعود عالم قاسمی،مولانا انیس الرحمن قاسمی، مولانا محمود دریابادی، جناب محمد طاہر حکیم ایڈووکیٹ ، محترمہ ڈاکٹر اسماء زہرا، محترمہ مونسہ بشریٰ عابدی ، محترمہ ممدوحہ ماجد ، جناب محمدفہدرحمانی ،جناب انجینئر فیاض عالم، جناب ڈاکٹر وقارالدین لطیفی، جناب حافظ احتشام عالم رحمانی وغیرہ نے شرکت کی اورقیمتی رائیں دیں ، آخر میں یہ اجلاس صدر بورڈ کی دعا پر اختتام پذیر ہوا ۔