مسلم مخالف پروپیگنڈہ کےلیے  اسرائیل کا اربوں ڈالر کا بجٹ-ندیم عبدالقدیر

(فیچر ایڈیٹر روزنامہ اردو ٹائمز، ممبئی)

کیا آپ کو پتہ ہے کہ دنیا میں مسلمانوں کو دہشت گرد ثابت کرنے کیلئے کھربوں ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔ عالمی سطح پر مسلمانوں کی شبیہ کو دہشت گرد کے طو ر بنا کرپیش کرنےکیلئےدنیا کے کچھ ممالک کروڑوں اور اربوں ڈالر کا بجٹ مختص کرتےہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا کے میڈیا میں مسلم مخالف مواد اتنا زیادہ پایاجاتا ہے۔اس کام کیلئے صرف اخبارات، نیوز چینل ،نیوز ویب سائٹ وغیرہ کا ہی سہارا نہیں لیا جاتا ہے بلکہ ایسے افراد کو ہر مہینے موٹی رقم ادا کی جاتی ہے جو عالمی سطح پر مسلم مخالف بیانات دینے ، ٹویٹ کرنے اور تبصرے کرنے میں ماہر ہوتےہیں۔ مسلمانوں کو بدنام کرنے کے مقصد سےریسرچ کے نام پرایسے ادارے بنائے جاتےہیں جواپنی نام نہاد تحقیقاتی رپورٹوں کے ذریعے مسلمانوں کو ایک دہشت گرد کمیونٹی بتانے کا کام کرتےہیں۔ اس کے علاوہ ایسے این جی او اور تنظیمیں بھی بنائی جاتی ہیں جن کا مقصد مختلف معاملات ، موضوعات کے ذریعے مسلم مخالف پروپیگنڈہ کرنا ہوتا ہے ۔یہ سارے کام اتنی چالاکی سے کئے جاتےہیں کہ بادی النظر میں سمجھ میں ہی نہیں آتا کہ کوئی فرد جو مسلم مخالف تبصرے کررہاہے، مسلمانوں کے خلاف زہر اگل رہاہے یا پھر نیوز چینل ، اخبار ات اور سوشل میڈیا پرعالمی دہشت گردی کے بارےمیں جوخبریں ، رپورٹیں، تجزیے ، مضامین اور آرٹیکل شائع یا نشر ہورہے ہیں وہ سب کے سب ایک بہت بڑے مسلم مخالف منصوبے کا حصہ ہیں جس کے لئے کروڑوں ڈالر خرچ ہوئے ہیں۔
مسلم مخالف پروپیگنڈے کے بارے میں ایک رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ مسلمانوں کی دہشت گرد ثابت کرنے کے اس کام میں سب سے آگے اسرائیل ہے۔ معروف امریکی صحافی ’سی جے ویرلیمن‘ نے اپنی اس رپورٹ لکھا ہے کہ صہیونی ریاست مسلم مخالف پروپیگنڈہ پربلین ڈالر خرچ کررہی ہے۔ ’ویرلیمن‘ نے بتایا کہ یہ کام اسرائیل سب سے زیادہ امریکہ میں کررہاہے۔ وہ پیسے سے لوگوں کو خرید کر انہیں مسلم مخالف پروپیگنڈہ کیلئے استعمال کررہاہےیا پھر ان لوگوں، اداروں او رتنظیموں کو بدنام کررہاہےجو حقیقتاً مسلمانوں کیلئے کام کرتے ہیں۔ اسرائیل یہ کام ۷۰ء کی دہائی کے اواخر سے شروع کیا تھالیکن ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کے بعد اس میں زبردست شدت آگئی ہے ۔ان سب کے پیچھے صہیونی مقتدرہ کا مقصد فلسطین کی جدوجہد ِ آزادی کو بدنام کرنا اور اسے دہشت گرد ثابت کرنا ہےتاکہ اسرائیل ارضِ فلسطین پر آسانی سے قابض ہوسکےاور اسرائیل کے قبضہ کو صحیح ٹھہرایا جاسکے ۔ اس پورےپروپیگنڈے کے ذریعے پوری دنیا میں عموماً اور امریکہ میں خصوصاً عوام میں مسلم مخالف رجحان کو فروغ دینا ہے جس کا سیدھا فائدہ اسرائیل کی ہمدردی میں نکلتاہے۔ ’سی جے ویرلیمن نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ اسرائیل اپنے ایجنڈے میں اتنا آگے ہے کہ اس نے ایسی تنظیموں میں بھی دراندازی کرلی ہےجو واقعتاً مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی رکھتی ہیں۔ اس کی ایک مثال ’کاؤنسل آف امریکن اسلامی ریلیشن‘ نامی تنظیم ہے۔ یہ تنظیم مسلمانوں کی شبیہ بہتر بنانے کا کام کرتی ہے ۔ دو مہینے قبل تنظیم کو پتہ چلا کہ اس کا ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ’رومین اقبال‘ اسرائیل سے رابطہ میں ہے اور اس سے فنڈ لیتاہے۔تنظیم نے رومین اقبال کو برطرف کردیا۔ اس کےچند دنوں کے بعد کاؤنسل نے اسرائیل کادوسرا جاسوس پکڑاجسے صہیونی مقتدرہ کی طرف سے ہر مہینے ۳؍ہزار امریکی ڈالر (دو لاکھ روپے)ملتے تھے۔ صرف معمولی افسر کو اتنی رقم دی جاتی ہے تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بڑی شخصیتوں کو ، مسلم مخالف اداروں ، تنظیموں اور میڈیا کو کتنی رقم دی جاتی ہوگی۔ ایک امریکی میگزین نے دستاویزات پیش کرکے بتایاہے کہ امریکہ کی کئی مسلم مخالف تنظیموں کو اسرائیل کی طرف سے بھاری بھرکم رقم ادا کی جاتی ہے۔
صہیونی ریاست فلسطین میں فلسطینیوں کو ان کے ہی گھروں سے نکال رہی ہے لیکن دنیا کا کوئی بھی میڈیا یہ دکھانے کو تیار نہیں ہے۔ یہ سب صہیونی مقتدرہ کی کارستانی کا نتیجہ ہے ۔اسلام مخالف اس پروپیگنڈے میں صرف اسرائیل ہی نہیں ہے بلکہ دنیا کے دیگر ممالک بھی ہیں جنہیں کسی نہ کسی طرح مسلمانوں کی دہشت گردکی شبیہ فائدہ پہنچاتی ہےاور جو اپنے جرائم اس جھوٹے پروپیگنڈے کی آڑ میں چھپالیتےہیں۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)