مسلم مجاہدین آزادی کی قربانیوں کو یاد دلانے کا ایک سنہری موقع-ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز

ایڈیٹر گواہ اردو ویکلی، حیدرآباد
ہندوستان کے حالات بڑی تیزی کے ساتھ بدلتے جارہے ہیں‘ ایک ہندو راشٹریہ کی طرف اس کے قدم بڑھ رہے ہیں۔ گذشتہ سات برس کے دوران مختلف قوانین کے ذریعہ ایسے حالات پیدا کردیے گئے کہ غیر ہندو اقوام اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھنے کے لئے مجبور ہوگئی ہیں۔ حکومت کی پالیسی اور اس کے اقدامات پر ہماری آہ و بکا تو جاری ہے‘ مگر یہ افسوسناک حقیقت ہے کہ نہ ہم نوشتۂ دیوار پڑھنے کے عادی ہیں، نہ ہی خواب غفلت سے جاگنے کے لئے تیار ہیں۔ ہمارا غور و فکر، ہمارا اقدام سوشیل میڈیا تک محدود ہے۔ اِن حالات کے پس منظر میں وزیر اعظم مودی نے پرائم منسٹر منٹرشپ اسکیم فار ینگ آتھرس اسکیم کے تحت اردو کے بشمول ہندوستان کی 22سرکاری زبانوں میں 30سال تک کی عمر کے طلبہ و نوجوانوں کے لئے مجاہدین آزادی، گمنام ہیروز، قومی تحریکات جیسے موضوعات پر مضامین کا انعامی مقابلہ کا اعلان کیا ہے۔ مضامین کے مسودہ داخل کرنے کی آخری تاریخ 31جولائی مقرر کی گئی ہے۔ کل ہند مقابلہ میں 75قلمکاروں کو منتخب کیا جائے گا‘ انہیں 6مہینے تک ماہانہ 50ہزاروپئے بطور اسکالر شپ پیش کئے جائیں گے۔ یعنی منتخب 75 قلمکاروں کو6مہینے میں فی کس 30لاکھ روپئے کی اسکالرشپ ملے گی۔ اس سلسلہ میں باقاعدہ اخبارات میں اشتہارات شائع کئے گئے ہیں۔ ایک اطلاع کے مطابق اردو میں مضامین نہ ملنے کے برابر ہے۔ یہ کتنی بڑی بدنصیبی ہے کہ ایک طرف ہم آزادی ہند میں مسلمانوں کا رول مٹادینے کی سازشوں کے خلاف احتجاج کرتے ہیں۔ دوسری طرف موقع دیا جاتا ہے کہ تو اپنے اسلاف کی تاریخ کو پیش کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ موجودہ نسل کے وہ مسلم نوجوان جو عصری تعلیمی اداروں کے فارغ التحصیل ہیں یا زیر تعلیم ہیں‘ ان سے کسی قسم کی توقعات فضول ہیں۔ کیوں کہ بنیادی تعلیم کا آغاز ”جونی جونی یس پاپا سے ہے“ کیوں کہ لارڈ میکالے نے ایسا نظام تعلیم مرتب کیا تھا جس سے ہندوستانیوں کے ذہن‘ فرنگی تعلیم و تہذیب سے آلودہ ہوتے رہے ہیں۔ صرف دینی مدارس نے ابھی تک اپنے اسلاف کی تعلیم کو یاد رکھا اور آنے والی نسلوں کے لئے محفوظ رکھا۔ اس لئے قومی سطح کے اس مقابلہ میں دینی مدارس کے طلبہ اپنے اساتذہ کی نگرانی میں مقالے لکھ سکتے ہیں۔ بھلے ہی کوئی مقالہ انعام کے لئے منتخب نہ ہو‘ کم از کم ارباب اقتدار کو اسلاف کے کارناموں کو یاد دلایا جاسکتا ہے۔ جنگ آزادی میں مسلمانوں اور علمائے کرام نے جو رول ادا کیا تھا‘ اس پر بے شمار کتابیں لکھی جاچکی ہیں‘ بہت سارا مواد ویکی پیڈیاپر بھی اردو پی ڈی ایف شکل میں دستیاب ہے۔ اس سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ حال ہی میں آندھرا پردیش کے مشہور صحافی شیخ نصیر احمد نے مسلم مجاہدین آزادی پر 22کتابیں لکھی ہیں۔ ایک کتاب میں تو انہوں نے 155 ایسے مجاہدین آزادی سے متعلق مختصر سوانح خاکے پیش کئے ہیں‘ جن کا ذکر تاریخ میں بہت کم ملتا ہے۔ نواب سراج الدولہ، میر قاسم علی خاں، حیدر علی، ٹیپو سلطان سے لے کر آندھراپردیش کے کرنل شیخ نظام الدین تک کی فہرست اور ان شخصیات کے کارنامے انہوں نے تلگو زبان میں پیش کئے جس کا مختلف زبانوں میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ بی جے پی حکومت نے مسلم حکمرانوں کے نام سے موسومہ سڑکوں، شہروں، مختلف اداروں کے نام تبدیل کرنے کی مہم شروع کی ہے۔ مسلم عبادت گاہوں کو ہندو مذہبی مقامات ثابت کرنے کی سازشیں اپنی جگہ ہیں۔ تاریخ کی کتابوں سے مسلم حکمران اور مجاہدین کا ذکر غائب کیا جاچکا ہے۔ حال ہی میں حکومت کرناٹک نے ٹیپو سلطان شہید کے یوم پیدائش کی سرکاری طور پر تقاریب کی روایت ختم کردی۔ ان حالات میں وزیر اعظم مودی کے اعلان کردہ یہ مقابلہ ایک سنہری موقع ہے اپنا اسلاف کی خدمات اور کارناموں کو یاد دلانے کا۔ اس سے فائدہ نہ اٹھانا سب سے بڑی بدبختی ہوگی۔ تحریک آزادی کی شروعات تو اصل میں مسلمانوں نے ہی کی تھی۔ مولانا ابوالحسن علی ندویؒ لکھتے ہیں کہ سب سے پہلا شخص جس کو خطرہ کا احساس ہوا وہ ٹیپو سلطان تھا جس نے راجا مہاراجاؤں اور نوابوں کو انگریزوں سے جنگ پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ اس مقصد سے انہوں نے ترکی کے سلطان سلیم عثمانی کے علاوہ دوسرے مسلمان بادشاہوں سے بھی خط و کتابت کی تھی۔ افسوس کہ آستین کے سانپوں نے دھوکہ دیا اور ٹیپو سلطان شہید کردیئے گئے۔ انگریزوں کے خلاف تحریک آزادی کی لڑائی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والوں میں علمائے دیوبند کا کلیدی رول رہا بلکہ مولانا قاسم نانوتوی نے یہ ادارہ قائم ہی اس لئے کیا تھا کہ یہاں سے انگریزوں کے خلاف تحریک آزادی کو تقویت دی جائے۔ خود مولانا قاسم نانوتوی نے تحریک دیوبند کے تحت جگہ جگہ مدارس قائم کئے تاکہ ہندوستان میں اسلام اور اسلامی تعلیمات کا تحفظ ہوسکے۔ مولاناقاسم نانوتوی بھی انگریزوں کی گولی سے زخمی ہوگئے تھے‘ بلکہ وہ دیوبند کے پہلے طالب علم مولانا محمود حسن کی تحریک ریشمی رومال کو کیسے فراموش کیا جاسکتا ہے۔ مولانا محمود حسن نے جو قربانیاں دیں اُسے تاریخ فراموش نہیں کرسکتی۔ مولانا محمود حسین دیوبندی نے انگریزوں کے خلاف عالمی رائے عامہ ہمو ار کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کئی مسلم ممالک کے حکمرانوں سے رابطہ قائم کرکے انگریزوں کے خلاف علمائے کرام کی امداد کے لئے آمادہ کرلیا تھا۔ اس سلسلہ میں انہوں نے ترکی کے گورنر غالب شریف کا دستخط شدہ اعلامیہ بھی حاصل کرلیا تھا۔ مگر 1916ء میں حجاز میں شریف حسین کی حکومت نے مدینہ منورہ میں انہیں گرفتار کرکے انگریزی حکومت کے حوالے کردیا۔ جہاں سے انہیں جزیرہئ مالٹامیں جلاوطن کردیا گیا اور جیل خانوں میں ڈال دیا گیا۔ انگریز‘انہیں تہہ خانے میں لے جاتے اور لوہے کی گرم تپتی ہوئی سلاخیں لے کر کمر پر لگاتے اور انگریزوں کی تائید میں فتویٰ جاری کرنے کے لئے کہتے مولانا محمد حسن دیوبندی کہتے میں بلال کا وارث ہوں تمہارے حق میں فتویٰ نہیں دے جاسکتا‘ ایسی قربانیاں کس کس نے نہیں دیں۔انگریزوں کے خلاف فتویٰ دینے کی سزا ہزاروں علمائے کرام کو دی گئی۔
عام مسلمانوں کے علاوہ شہید علماء کی تعداد50ہزار تک بتائی جاتی ہے۔ 1857ء میں تحریک ناکام ہوئی مگر آزاد ہندوستان کی تاریخ مسلمانوں کے خون سے لکھی جاچکی ہے ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں گئیں۔ مولانا مفتی کفایت اللہ، مولانا برکت اللہ بھوپالی، مولانا حسین احمد مدنی،مولانا شاہ عبدالعزیز دہلوی سے لے کر مولانا آزاد تک مسلم مجاہدین کی ایک طویل فہرست ہے۔ یہ اور بات ہے کہ تاریخ میں چند ایک کا ہی ذکر ملتا ہے۔ برسوں پہلے روزنامہ سیاست نے مسلم مجاہدین آزادی پر ایک فیچر شائع کیا تھا جس میں اُن مسلمانوں کا ذکر کیا گیا جنہوں نے انڈین نیشنل آرمی کے لئے بھی اپنی تمام دولت عطیہ میں دے دی۔اور نیتاجی سبھاش چندربوس کے شانہ بہ شانہ انگریزوں کے خلاف لڑائی میں حصہ لیا۔ ایسے بے شمار نام ہیں‘ نہ صرف علمائے کرام بلکہ زندگی کے مختلف شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے اپنی تحریری، تقریری، دامے، درمے، سخنے اپنے وطن عزیز کی آزادی کے لئے چلائی جانے والی تحریکات میں تقویت دینے کیلئے حصہ لیا۔ ایک طرف علمائے کرام، دوسری طرف شعراء اور ادیب جن میں میر ا من دہلی، سیفی نعمانی، مولانا حالی، علامہ اقبال،انعام اللہ خان یقین، محمد حسین آزاد، اشفاق اللہ خاں شہید، جوش، فیض قابل ذکر ہیں۔ ڈاکٹر مہتاب عالم نے لکھا ہے کہ دنیا کو گاندھی کے قاتل کا نام یاد ہے مگر گاندھی کی جان بچانے والے بطخ میاں انصاری کا نام یاد نہیں‘ شیخ نصیر احمد نے ان پر کتاب لکھی ہے۔ انگریزوں کے خلاف کابل میں پہلی جلاوطن حکومت پروفیسر برکت اللہ بھوپالی نے بنائی تھی۔ ڈاکٹر تسنیم حبیب کہتے ہیں کہ لفظ مادروطن اور بھارت کی جئے کا نعرہ عظیم اللہ خان نامی مجاہد آزادی نے دیا۔ یوسف مہر علی نے بھارت چھوڑدو کا نعرہ دیا اور عابد حسن سفرانی نے جئے ہند کا نعرہ دیا۔ نئی نسل کو اس سلسلہ میں اپنے اساتذہ کی نگرانی میں ریسرچ کرتے ہوئے کل ہند انعامی مقابلہ میں اپنے مضامین بہرحال بھیجنے چاہئے۔ ہمیں یقین ہے کہ سوئے ہوئے ضمیر ضرور جاگیں گے۔