مسلم ممبران اسمبلی کے ساتھ جمعیت علماء بہا رکی میٹنگ، مسلم مسائل پر تبادلۂ خیال

پٹنہ:جمعیۃ علماء بہار میں سبھی سیاسی جماعتوں کے مسلم ارکان قانون سازیہ اسمبلی وکونسل اور مدعو ئین خصوصی کی ایک مشاورتی نشست مورخہ ۲۳؍ فروری ۲۰۲۱ء بروز منگل بوقت سات بجے شب جمعیۃ علماء بہار کے ریاستی دفتر نزد مدنی مسافرخانہ پٹنہ جنکشن ، پٹنہ میں الحاج حسن احمد قادری ناظم اعلیٰ جمعیۃ علماء بہار منعقد ہوئی، جس میں حکومت کے ذریعہ اعلان شدہ اقلیتوں سے متعلق محکمہ تعلیم، محکمہ داخلہ، محکمہ اقلیتی فلاح، محکمہ اصلاحات اراضی، محکمہ کابینہ سکریٹریٹ کے دیرینہ وموجودہ مسائل پر تفصیل سے گفت وشنید ہوئی ۔ نشست میں یہ فیصلہ لیا گیا کہ زیر التوا مسئلوں کو ارکان قانون سازیہ رواں بجٹ سیشن میں اپنے سوالات کے ذریعہ حکومت کی توجہ مبذول کرائیں تاکہ حکومت ان مسائل کے حل کے لیے عملی اقدام اٹھائے۔ جمعیت علماء بہار نے ممبران اسمبلی و کونسل کو جو سوالات پیش کیے اس میںنئی تعلیمی پالیسی میں اقلیتی تعلیمی اداروں پرائمری سطح سے یونیورسیٹی سطح تک اور مدارس میں مادری زبان کا حصہ ،اردو بہار کی دوسری سرکاری زبان ہے اس کے باوجود ہائی اسکولوں میں ارود مضمون جو لازمی تھا اس کو اختیاری مضمون کیوں اور کس وجہ سے بنایا گیا ہے، اسے حسب سابق لازمی مضمون بنایا جائے گا یانہیں؟ بہار کے کتنے منظور شدہ اردو مکاتب کو ختم کرکے دوسرے اسکولوں میں ضم کردیا گیاہے؟ریاست میں پرائمری، مڈل اور ہائی اسکول میں درس وتدریس کے لیے کتنے اردو اساتذہ کی جگہ منظور شدہ ہے، کتنے اساتذہ اردوکی درس وتدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں اور اردو اساتذہ کی کتنی جگہ خالی ہے، اسے کب پُر کیا جائے گا ؟۔ پٹنہ ہائی کورٹ نے سرکاری مدارس کے اساتذہ کوپینشن دینے کا حکم حکومت بہار اور متعلقہ محکموں کو دیا ہے۔ محکمہ تعلیم نے اس فیصلے پر عمل درآمد کے لئے کیا اقدام کیاہے اور اس کا نفاذ کب ہوگا؟ اس کے علاوہ مڈل اسکولوں میں اردو مسئلہ ، پرائمری اسکولوں میں اردو مسئلہ، ٹیچر ٹریننگ کالج میں اردو لیکچرر کی کمی، گورنمنٹ اردو لائبریری کی خراب حالت، اداروں میں خالی آسامیوں کو پر کرنے سے متعلق، بہار اردو اکیڈمی کی معطلی، اردو مشاورتی کمیٹی کا تشکیل،سرکاری ملازمتوں میں مسلم اقلیت کی حصہ داری جیسے کچھ اہم سوالات پیش کئے گئے ۔اس نشست میں اردو کے دیرینہ مسائل پر بہت ہی سنجیدگی سے گفتگو ہوئی ۔ تمام ممبران نے اس بات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صرف سرکار سے امیدیں وابسطہ کرنے سے کام نہیں چلے گا بلکہ اردو آبادی کو اس کےلیے آگے آنا ہوگا ۔ یہ بھی فیصلہ ہوا کہ مختلف محکموں سے متعلق جو مسائل ہیں اس کے لئے وزیر اعلیٰ بہار، وزیر اقلیتی فلاح ، وزیر تعلیم کو خط لیکر توجہ مبذول کرائی جائے اور اس مسئلہ کو لیکر وزیر اعلیٰ سے وقت بھی لینے کا فیصلہ ہوا ۔ ساتھ ہی اردو کے مسئلہ کے لئے اردو تحریک سے منسلک افراد کے ساتھ ارکان قانون سازیہ کی ایک نشست بہت جلد کی جائیگی ۔ اس نشست میں پروفیسر غلام غوث ایم ایل سی ، اختر الایمان ایم ایل اے ، انظار نعیمی ایم ایل اے ، اظہار آصفی ایم ایل اے ، شہنواز عالم ایم ایل اے ، ڈاکٹرخالد انور ایم ایل سی ، قائم مقام ناظم مولانا مشہود احمد قادری ندوی، ناظم نشر و اشاعت ڈاکٹر انوارالہدیٰ، ریاض عظیم آبادی، ذیشان کلیم، ابولحذر، جلال کاکوی، ارشد متین، دانش قادری وغیرہ موجود تھے ۔