مسلم لیڈر شپ کو ابھرنے کیوں نہیں دیا گیا؟-مسعود جاوید

یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ نے آسام میں زمینی کام کر کے بلا تفریق مذہب و ذات برادری ضرورت مندوں اور مظلوموں کی آواز بن کر اپنا مقام بنایا ہے۔
مسلم سیاسی پارٹیاں(مسلم نام ، ہرے جھنڈے اور چاند تارے والے بینر) ، جو عموماً انتخابات کے وقت اچانک نمودار ہوتی ہیں اور ہارنے کے لئے یا کسی پارٹی کو ہرانے کے لئے یا افواہ کے مطابق کسی پارٹی سے پیسے لے کر کسی کے حق میں بیٹھ جانے کے لئے الیکشن لڑتی ہیں اور نتیجے کا اعلان آنے کے بعد پھر پانچ سال کے لئے سو جاتی ہیں یا کسی جذباتی موضوع پر کبھی کبھی اخباری بیان بازی کو کافی سمجھتی ہیں،ان سے ہٹ کر یونائیٹڈ ڈیموکریٹک پارٹی وجود میں آئی۔ اس کی بنیاد مولانا بدرالدین اجمل صاحب کی قیادت میں اس وقت رکھی گئی جب کانگریس کے سر پر اقلیتوں کی قیمت پر اکثریتی فرقہ کو خوش کرنے کا بھوت سوار ہوا اور کئی دہائیوں سے جمعیت علما کے تعاون سے آسام کے مسلمانوں کی پسندیدہ پارٹی ہونے کے باوجود ان کے جائز حقیقی مسائل کی ان دیکھی شروع کی۔ بعد میں جب یو ڈی ایف نے بحیثیت مضبوط متبادل پارٹی اپنے پاؤں جما لیے تو بی جے پی کے مد مقابل کانگریس سے الائنس کے لیے ہاتھ بڑھایا مگر کانگریس شاید اس خدشہ کے تحت، کہ الائنس سے یو ڈی ایف کی مقبولیت میں اضافہ ہوگا اور الائنس نہ کرنے سے یہ پارٹی فطری موت مر جائے گی، یو ڈی ایف کی پیشکش کو ٹھکراتی رہی یہ اور بات ہے کہ الیکشن میں شکست کے بعد کف افسوس ملتی رہی اور ریاستی لیڈروں نے دبے لفظوں میں غلطی کا اعتراف بھی کیا اور دوسری طرف میڈیا بالخصوص متعدد انگریزی اخبارات نے یو ڈی ایف کو کنگ میکر کہہ کر تجزیہ کیا اور اس کی مقامی مقبولیت اور اس کے غریب پرور اقدامات کی ستائش کی۔
لیکن دوسری طرف مخصوص ذہنیت کے اخبارات اور چینلز نے براہ راست یا بالواسطہ پینلسٹس کی زبانی یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ مجلس اتحاد المسلمین کی طرح یو ڈی ایف بھی فرقہ پرست پارٹی ہے اور غیر تو غیر اپنے بھی ان کے چلائے ہوئے بیانیہ کو دہرانے لگے۔
یو ڈی ایف غیر مسلموں کے اشتراک سے الیکشن میں اترتی ہے اچھی منصوبہ بندی کر کے سیٹ شیئرنگ پر اتفاق کرتی ہے اور حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہ ہوتے ہوئے بھی اتنی اہمیت حاصل کر لیتی ہے کہ دوسری پارٹیاں اس کا سپورٹ لینے پر یا تحالف پر مجبور ہوتی ہیں۔ الیکشن میں شکست و فتح یقینی نہیں ہے گزشتہ انتخابات میں خاطر خواہ نتیجہ نہیں آنے کی وجہ کچھ ملک میں زعفرانی لہر بھی تھی۔
کچھ مسلم دانشوروں کو مسلم لیڈرشپ کے خیال سے ہی اللہ واسطے کا بیر ہے۔ ایسی کسی تحریر یا کنسیپٹ پر فورا ان کا ردعمل ہوتا ہے ” پھر ایک پاکستان بنانا چاہتے ہیں؟”ـ ” اکیلے مسلم ووٹرز کے بل بوتے جیت پائیں گے”؟ ” "لوہے کو لوہا ہی کاٹتا ہے اس لئے مضبوط کل ہند پارٹی (یعنی کانگریس) کی جیت یقینی بنائیں” وغیرہ وغیرہ۔ اتر پردیش میں بلکہ پورے ہندوستان میں کانگریس دور حکومت میں سب سے زیادہ فرقہ وارانہ فسادات ہوئے اس میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ اتر پردیش میں کانگریس کو سبق سکھایا گیا مگر کانگریس مکت یو پی کی بدیل سماجوادی پارٹی اور دلت مسلم اتحاد کی خواہاں پارٹی بی ایس پی کی کارکردگی کا بھی جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
آج ایس پی میں ملائم سنگھ اور اکھلیش کے داہنا ہاتھ سمجھے جانے والے اعظم خان ان کی اہلیہ اور بیٹا کس حال میں ہیں۔ پارٹی نے ان کے لئے کیا کیا؟ ٹھیک ہے قانونی معاملات میں دخل اندازی کی اجازت نہیں ہے مگر سنجیدگی سے پیروی اور احتجاج تو ان کا حق ہے۔ مین اسٹریم پولیٹیکل پارٹیز سے ہی مسلمان جڑیں، بہت عمدہ مشورہ ہے لیکن مین اسٹریم کی سب سے پرانی پارٹی اور ہمیشہ مسلمانوں کی منظور نظر رہنے والی پارٹی کانگریس کا سلوک ان کے اپنے سینئر موسٹ مسلم لیڈروں کے ساتھ کیسا رہا ہے،یہ اخبارات کے ذریعے سب کو معلوم ہے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)