مسلم لڑکیوں کی تعلیمی ترقی معاشرے کی ترقی کی کلید ہے -جویریہ قاضی

ہیڈ مسڑیس مومن گرلز ہا ئی اسکول
jaweriyakazi@gmail.com

عالم کاری کے موجودہ دور میں تعلیم اقوام کی سماجی معاشی اور ثقافتی ترقی کے عمل کو بہتر بنانے کے لیے ایک نظام کے طور پر کام کرتی ہے، جو سماجی تبدیلی کا اہم رکن ہے، جس کا نتیجہ انفرادی آزادی اور خود مختاری ہوتی ہے۔ جو معاشرتی ترقی اور خود انحصاری کو فروغ دیتی ہے لہذا تعلیم میں صنفی مساوات ، خواتین کا مسئلہ نہیں ہے ؛ بلکہ ترقی کا مسئلہ ہے تاہم عدم مساوات عام طور سے حصولِ تعلیم پائی جاتی ہے اور بالخصوص مسلمان عورتوں میں زیادہ پائیدار ہے۔
۲۰۱۱ کی مردم شماری کے مطابق ۱ء۴۸ مسلم خواتین ناخواندہ ہیں۔یہ مضمون اتر پردیش کے مئو ضلع کے شہر مئو ناتھ بھنجن میں منعقد مطالعہ کی بنیاد پر لکھا ہے۔اس کا مقصد ان حالات کا مطالعہ تھا ۔جو مسلمان لڑکیوں کی اسکول جانے میں معاون ہیں یا رکاوٹ بنتے ہیں۔ معاشرے کے مردوں کا تعلیم حاصل کرنا بھی اہم ہے تاکہ وہ لڑکیوں کی تعلیم کی فیصلہ سازی میں ملوث ہو سکیں ۔یہ اعداد و شمار ان کے والد ین سے لیے گئے ہیں جن کی کم از کم ایک بیٹی چھ سے اٹھارہ سال کی عمر کے درمیان ہے۔
آزادی کے بعد سے ہی حکومت نے تعلیم پر توجہ مرکوز کی ہے تاہم بہت کاوشوں کے باوجود مختلف حلقوں کے درمیان اس موضوع پر تفاوت کو دور نہیں کیا جا سکا ہے۔مسلمان ہندوستان کی سب سے بڑی مذہبی اقلیت ہیں۔اور آبادی کا ۴ء ۱۴ فی صدہیں۔۲۰۱۱ کی مردم شماری کے حساب سے وہ تعلیمی پسماندگی کا سب سے زیادہ شکار ہیں۔مسلمانوں کا تعلیمی تناسب اکثریتی فرقہ اور دیگر اقلیتوں کے مقابلے میں سب سے کم ہے۔۲۰۱۱ء کے اعدادوشمار کے مطابق ۔تعلیم کے حوالے سے خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم میں مسلمانوں کی پسماندگی کی ایک تشویشناک صورتِ حال ہے۔مطالعہ سے اس بات کا انکشاف بھی ہوا ہے کہ لڑکیوں کا تعلیم یافتہ ہونا امورِ خانہ داری میں بھی مددگار معاون ہوتا ہے ۔۷۰ فی صد جوب دہندگان کا جواب تھا کہ پڑھی لکھی لڑکی اپنے گھر اور بچوں کی بہتر نگہداشت کر سکتی ہے۔
یہ نتائج واضح طور پر مئو کے مسلم معاشرے کیے پد رانہ ڈدھانچے کی عکاس ہیں۔ Biswal(2006)کے مطالعے کے مطابق خواتین میں فطری طور پر ممتا کا جذبہ ا ہو تا ہے اور وہ ممتا زہیں لیکن یہ پد رانہ ڈھانچہ انہیں ثانوی درجہ دیتا ہے۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ عورت کی "اوّلین ذمہ داری ” شوہر بچے اور گھر کے افراد کی دیکھ بھال ہے۔
بچوں کی اوّلین درسگاہ والدین ہی ہوتے ہیں ۔جو بچوں کی تعلیم اور شخصیت پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ بچے کو ابتدائی تعلیم ان کے والدین کو موصول شدہ تعلیم سے حاصل ہوتی ہے۔والدین کی خواندگی ان کے بچوں کی تعلیم پر پوری طرح اثر انداز ہوتی ہے۔ کیوں کہ جو والدین ہائی اسکول کے آگے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔وہ اپنے بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں میں زیادہ ملوث پائے جاتے ہیں۔نسبتاََ ان کے جو ہائی اسکول کی تعلیم بھی پوری نہیں کر پاتے کم تعلیم یافتہ والدین بچے کی تدریسی سرگرمیوں میں شرکت نہیں کرتے ۔کیوں کہ انہیں بچوں کے تعلیمی معاملات میں ان کے ساتھ گفتتگو کی اہمیت کا اندازہ نہیں ہوتاتحقیق کے نتائج سے یہ ظاہر ہوا کہ ۶۸ء۱۹ فی صد جواب دہندگان کبھی اسکول نہیں گئے اور ۲ء۲۲ جواب دہندگان پرائمری اسکول ۶ء۲۹ فی صد اپر پرائمری اور صرف ۳۰ فی صد سیکنڈری اسکول یا اس کے آگے جا چکے تھے ۔
مطالعہ سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ والدین کا آمرانہ رویہ سے بچے کے رویے اور رجحان کو ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ایک اچھا بچہ بڑوں کی تو قعات پر پورا اترتا ہے۔اچھا رویہ رکھتا ہے ۔سرکشی نہیں کرتا اور گھریلوں امور میں حصہ لیتا ہے۔۳ء۱۸ خواتین جواب دہندگان کہتی ہے کہ مرد گھر کا سربراہ ہوتا ہے اس لیے بیٹیوں سے جڑے تمام فیصلے وہی کرتا ہے۔
۱۰ فی صدی کا یہ ماننا ہے کہ وہ فیصلہ ساز ہیںاس لیے ان کی شریک ِ حیات کا نظریہ بیٹیوں کی تعلیم کے بارے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا ۔ اس لیے ایک والد کو اپنی بیٹی کو تعلیم کے لیے حوصلہ افزائی کرنی چاہئے بجائے اپنے فیصلے کو ماننے پر مجبور کرنے کے ۔بیٹی کی تعلیم اس بات پر بھی منحصر ہے کہ فیصلہ سازی کا اختیار کسے ہے۔ اگر مائیں تعلیم یافتہ ہیں تو وہ لڑکیوں کے تعلیم کرنے کے فیصلے پر اثر انداز ہوں گی۔
کئی طرح کے عوامل جیسے سماجی ساخت اور ادارے اور تحفظ ، شناخت ، سماجی اقتصادی اور سیاسی عوامل جو روزانہ روشن کی طرح عیاں ہیں ۔جو مسلمان لڑکیوں کی تعلیم میں رکاوٹ ہیں ۔اقتصادی رکاوٹ بھی ایک کلیدی کردار ادا کرتی ہے ۔ممعاشرے میں خواتین کا کردار شادی اوربچوں کی نگہداشت تک محدود ہے عورتوں کی آمدنی میں شراکت کا تصور نہیں ہے۔ لہذا تعلیم میں سرمایہ کاری کی اہمیت نہیں ہے۔ تحقیق کے نتائج کے مطابق ، اوسط خاندان کی آمدنی ۶۲۸۴ روپے تھی جو دولت کی غیر مساوی تقسیم کا پتہ دیتی ہے۔
۲۶ فی صدی جواب دہندگان نے بتایا کہ مالی وجوہات کی بناء پر بچیوں کی تعلیم جاری نہیں رکھی جا سکی لیکن کچھ اور عوامل بھی ہیں جیسے تعلیم کی جانب رویہ خاندانی پس منظر ، خاندانوں کا روز گار ، کاروبای ڈھانچے ،تعلیمی شعور کی کمی ،لڑکیوں میں عدم تحفظ کا احساس ۔والدین کے تعاون کا فقدان بھی لڑکیوں کے حصول ِ تعلیم میں رکاوٹ ہے۔
بنیادی سطح پر مسلمان قیادت کی کمی اور والدین کو تعلیمی میدان میں مدد کی فراہم نہ ہونا بھی ایک وجہ ہے۔
مسلم علماء کا کردار بھی لڑکیوں کی تعلیمی پسماندگی کا ذمہ دار ہے آزادی سے قبل بھی علماء کا انگریزی تعلیم کی مخالفت کا رویہ دیکھا گیا ہے ۔ یہ ناقابل تردید ہے کہ روایتی ہندوستانی علماء نے لڑکیوں کو گھروں تک محدود رکھا ہے۔ ان کا یقین ہے کہ عورت کی بنیادی ذمہ داری شوہر بچو ںکا خیال رکھنا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ خواتین کا گھر سے باہر قدم رکھنا معاشرے میں ہنگامہ ارائی اور فتنے کا سبب ہوگا ۔ جو ایمان ،شناخت اور اسلامی اخلاقیات کو مسخ کرے گا ۔تاہم گذشتہ چند رہائیوں کے دوران اس رویے کافی تبدیلی آئی ہے۔
گذشتہ دہائیوں میں بڑے پیمانے پر مسلم لڑکیوں کی تعلیم میں تغیر اتی تبدیلی لانے کی کوششیں کی گئی ہیں۔ لیکن اس معاملے پر زیادہ فعال طریقے سے اور نیک نیتی کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے مسلم لڑکوں اور لڑکیوں کو مساوی طور پر تعلیم حاصل کرنی چاہیئے۔ اس کے لیے مسلم رہنما خاص طور سے علماء کو آگے آنا ہوگا کیونکہ مسلم معاشرے کی فلاح و بہبود کے لیے لڑکیوں کی تعلیم میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔
یونیورسٹی ایجوکیشن کمیشن (1949) کی رائے کے مطابق تعلیم یافتہ خواتین کے بغیر تعلیم یافتہ افراد نہیں ہو سکتے ۔ ترقی پذیر ملکوں میں تعلیم نسواں بہت اہمیت کی حامل ہے ایک عورت کا تعلیم یافتہ ہونا تعلیم کا اگلی نسل کو منتقل ہونا ہے بجائے ایک تعلیم یافتہ مرد کے َ۔ہمارے ملک میں طبقاتی شعور تو شاید صرف سائنٹفک تعلیم ہی سے پیدا ہو سکے اور اپنے مقدر پر راضی برضا ہو کر بیٹھے رہنے اور توکل کے عقیدے پر قناعت کر لینے کی تہیں شاید انتہا درجے کی محنت ہی سے چٹخ سکیں ۔
ساتھ ہی لڑکیوںپر اعتماد کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ بھی معاشرے کی ترقی میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتی ہیں اگر انہیں اہمیت د ی جائے اور ان کی حوصلہ افزائی کی جائے تو وہ ثابت کر سکتی ہیں۔لڑکیوں کے اس کردار سے لوگوں کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔حکومت بھی لڑکیوں کے اسکولوں کو سہولیات فراہم کرے۔اور مسلم اکثریتی علاقوں میں تکنیکی اور اعلیٰ تعلیم کا نظم کیا جانا چاہئے۔ سچر کمیٹی کی طرف سے پیش کردہ رپورٹ میں یہ محسوس کیا گیا ہے کہ اسکولوں کی عدم دستیابی بھی حصول علم میں رکاوٹ ہے۔ساتھ ہی مسلم معاشرے کی مالی مشکلات بھی رکاوٹ کا سبب ہے اس لئے لڑکیوں کی تعلیم کے لیے مالی مدد با لخصوص مسلم لڑکیوں کے تعلیمی اخراجات کو پورا کرنے کے لئے مالی تعاون کی فراہمی کی جانی چاہیے۔ ریاستِ مہاراشٹر کی وزیرِ تعلیم معزز ورشا تائی گائیکواڑ نے جو عملی قدم اٹھایا ہے وہ مسلم لڑکیوں کے خوش آئند مستقبل کے کیے تاریخ ساز ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ انسان وہ نہیں جو اپنی پیدائش کا منطقی مصرف پورا کر لے مشین بن کر جیے اپنی عمر تمام کر لے بلکہ دھوپ بن کر خود اپنے پر پھیلے عود و عنبر سا سلگے کہ خوشبو سنگ و خشت سے آزاد ہے ۔لڑکیوں کے اسکولوں کو آگے بڑھا کر طالبات کی تعلیم کو ممکن بنا کر معزز وزیر نے جتایا ہے کی وہ ان فرزانوں سے تعلق رکھتی ہیں جس کا پڑاؤ کوچہ کوچہ ضرور ہوتا ہے لیکن خود ایک مستقل ، اٹل اور بے مثال کردار رکھتا ہے دنیا کو کچھ دینے والے جس کا لینا دنیا کو یاد رہے اور بھلا لگے ۔ہم شکر گزار ہیں اور مزید مثبت فیصلوں کے منتظر ہیں کہ ذہن کا کوئی دم آخر اور فکر کی کو ئی دمِ واپسی نہیں ہوتی اب ہمارا کام ہے بڑھ کے جام اٹھا لینے کا کہ منزل ہمیشہ ایک قدم کے انتظار میں رہا کرتی ہے کہ وہ اٹھا اور وہ سفر شروع ہوگیا جہاں آنکھ قلندر اور سینہ صوفی ہے مسافر شکستہ پا تو ہو سکتا ہے شکستہ دل نہیں جہاں پیر آپس میں ٹکرا سکتے ہیں سر نہیں ،جی ہاں ایسا سفر جو اپنے آپ میں منزل ہے کہ راہی کو آسودہ کردے ۔
ref:The Companion Ref Biswal,T.(2006) Human Right Gender and environment
(pp.1-25) New Delhi Viva book private limited

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*