مسلم لڑکیوں کے ارتداد کا مسئلہ:معاشرتی نظام میں تبدیلی کی ضرورت!- پروفیسر مشتاق احمد 

دربھنگہ، بہار

یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ کسی بھی قوم کی شناخت کا ضامن اس کا معاشرتی نظام ہوتا ہےاور معاشرے کی تشکیل میں افراد کے اعمال و کردار کا اہم کردار ہوتا ہے ۔اسی لیے تمام ماہرین سماجیات نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اگر کوئی جماعت خود کو دوسری جماعتوں سے منفرد رکھنا چاہتی ہے تو سب سے پہلے اسے اپنے معاشرے کو انفراد بخشنا ہوگا ۔ جہاں تک اسلامی معاشرے کا سوال ہے تو مذہب اسلام میں سب سے زیادہ زور اصلاح معاشرہ پر دیا گیا ہے ۔اسلام دنیا کا پہلا مذہب ہے جس نے سب سے پہلے ایک صالح حیات انسانی معاشرے کا تصور دیا۔نسلو ذات کی تفریق ختم کی ۔مرد و عورت کے مرتبہ و حقوق کی وضاحت کی ۔ازدواجی زندگی کے اصول و ضابطے طے کیے ۔غیر مذہبی اشخاص سے ربط و ضبط کے دائرے متعین کیے ۔غرض کہ مذہبی شناخت کے تمام نسخے بتائے گئے۔تاریخ کے اوراق شواہد پیش کرتے ہیں کہ جب تک مسلمانوں نے اسلامی معاشرے کے تقاضوں کو پورا کیا اس وقت تک ہماری شناخت نہ صرف مستحکم رہی بلکہ ہم دنیا میں نمایاں رہے؛لیکن تبدیلی زمانہ کے ساتھ جیسے جیسے ہمارے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوا ویسے ویسے ہماری شناخت بھی مسخ ہوتی گئی۔نتیجہ یہ نکلا کہ دیکھتے ہی دیکھتے ہم ان تمام اوصاف جمیلہ سے محروم ہو گئے جو ہمیں قرآن وحدیث کے ذریعے ملا تھا ۔ظاہر ہے کہ جب ہم مسلمانوں نے اس نسخہ حیات کو فراموش کر دیا جو ہمیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ سے ملا تھا تو یہ حشر ہونا ہی تھا ۔

اس وقت پوری دنیا میں اگر مسلمانبے شمار مسائل سے دوچار ہیں تو اس کی واحد وجہ یہی ہے کہ ہم نے اسلامی معاشرے کی تشکیل میں کوئی کردار ادا نہیں کیا اور اس کے تقاضوں کو فراموش کرکے دیگر قوم کی طرح آزادانہ زندگی کو فوقیت دی۔اور اب جب اس آزادانہ زندگی نے ہمارے معاشرتی نظام کو درہم برہم کر دیا ہے تو فکر مندی ظاہر کی جا رہی ہے ۔اگرچہ اب بہت دیر ہو چکی ہے مگر اب بھی اگر ہم سنبھل جائیں تو شاید ہمارا کھویا ہوا وقار واپس ہو جائے ۔

واضح ہو کہ ان دنوں اخبارات و رسائل اوردیگر میڈیا میں یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ بین المذاہب شادی ہمارے لئے ایک سب سے بڑا مسئلہ بن گیا ہے؛ کیونکہ حالیہ دنوں میں مسلم لڑکیوں کا غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ شادی کرنے کی خبریں عام بات ہو گئی ہیں ۔کچھ دنوں پہلے تک تو صرف یہ خبریں آرہی تھیں کہ مسلم لڑکے غیرمسلم لڑکیوں کے ساتھ شادی کر رہے ہیں اور اس کی تشہیر بھی کچھ زیادہ اس لئے ہو رہی تھی کہ ایک خاص سیاسی جماعت نے اسے فرقہ وارانہ رنگ دینے کی مہم چلا رکھی تھی ۔لو جہاد کے نام پر نہ جانے کتنے بے قصورلوگوں کی جانیں بھی گئی ہیں ۔ہماری قومی میڈیا نے لفظ جہاد کے معنی کو کچھ اس طرح مسخ کرکے پیش کیا کہ اس لفظ کی حرمتہی ختم ہوگی اور نفرت کا استعارہ بن گیا ۔ایک مسلم لڑکے کا غیر مسلم لڑکیوں سے نکاح کو ایک سازش قرار دیا گیا اور فرقہ وارانہ رنگ دے کر سماج میں نفرت کی دیوار کھڑی کی جانے لگی ۔سچائی تو یہ ہے کہ حقیقت سے کہیں زیادہ افواہیں پھیلائی گیں ۔ملک میں کئی جگہوں پر فرقہ وارانہ فسادات بھی ہوئے اور کئی جگہوں پر سیاسی مفادکے لیے افواہیں پھیلائی گئی اور بے قصور مسلمانوں کو سلاخوں کے پیچھے بھیجا گیا ۔

بہر کیف اب مسلم لڑکیوں کا غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ گھر چھوڑ کر جانے کی خبریں عام ہو رہی ہیںتو ہمارے کئی رہنماؤں کی نیند ٹوٹی ہے اور وہ اس پر اظہار فکرمندی کر رہے ہیں ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ عمل ہمارے لئے باعث فکر مندی ہے؛لیکن ہمارے مذہبی رہنما بین المذاہب شادی کے لیے جن وجوہ کا ذکر کر رہے ہیں صرف وہی درست نہیں ہے ۔ہمارے کئی مذہبی رہنماؤں نے اس کے لیے مخلوط تعلیم اور عورتوں کا سرکاری ملازمت کرنا کو اہم وجہ قرار دیا ہے ۔ ساتھہی مسلم خاندان کا غیر مسلم خاندان کے ساتھ رابطہ رکھنا کو بھی مضر کہا ہے؛لیکن میرے خیال میں بین المذاہب شادی کی صرف یہی وجہ نہیں ہیں ۔بلکہ مسلم معاشرے میں جہیز جیسی لعنت نے برسوں سے نکاح جیسی آسان سنت کو ایک بڑا مسئلہ بنا دیا ہے ۔اور اس کی وجہ سے طرح طرح کی سماجی برائیاں پروان چڑھتی رہی ہیں ۔لیکن ہم ان سب سے بے خبر رہے ہیں ۔اور اگر خبر بھی رہی ہے تو جان بوجھ کر ان دیکھی کرتے رہے۔سچائی تو یہ ہے کہ دو دہائی پہلے سے ہی ملک کی کئی رضا کار تنظیموں نے اجتماعی شادی کا اہتمام کرتی آ رہی ہیں اور اس میں ایک دو نہیں بلکہ سیکڑوں مسلم لڑکیوں کی شادی غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ ہونے کی خبریں شائع ہوتی رہی ہیں ۔اترپردیس میں ناری نکیتن نام کی ایک تنظیم نے تو یہ کام اسی کی دہائی سے کر رہی ہے ۔ہر سال اس تنظیم کے ذریعے اجتماعی شادی کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔اور اس کی خبریں بڑے اہتمام سے اخباروں میں شائع ہوتی ہیں ۔بالخصوص مسلم لڑکیوں کی شادی غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ ہونے کی خبروں کو نمایاں جگہ دی جاتی ہے ۔مگر اس وقت ہم سوئے رہے اور ہمارے مذہبی رہنما مسلکی تنازوں کو فروغ دینے میں لگے رہے ۔کہیں دیوبندی کا جھگڑا تو کہیں بریلوی کا فساد ۔کہی سنی تو کہیں وہابی کا تنازعہ ۔کہیں بیک وارڈ اور فار وارڈ مسلم مورچہ آمنے سامنے ۔فرقہو مسلک کے نام پر مسجدوں میں جنگ او کئی ایسے واقعات بھی رونما ہوئے کہ دیوبندی اور بریلوی کے تنازوں کی وجہ سے مسجدوں میں دیوار کھڑی کر دی گئی ہے ۔ایسے معاشرے میں اگرمسلم لڑکے کا غیر مسلم لڑکیوں کے ساتھ ازدواجی زندگی گزارنا اور مسلم لڑکیوں کا غیر مسلم لڑکوں کے ساتھجانا ایک سنگین مسئلہ بن گیا ہے تو اس کے لئے ذمہ دار کون ہے ۔اگر ہم اپنے معاشرتی نظام کو درہم برہم ہونے سے بچائے رکھتے اور اسلامی اسباق سے پر زندگی گزارنے کو فوقیت دیتے تو کیا یہ دن دیکھنے کو ملتا ۔ہمارے مسلم سماج کے دولت مند افراد جہیز جیسی لعنت کو اپنی شان و شوکتسمجھنے لگے ۔ظاہری طور پر نکاح میں مہر فاطمہ کا شورتوگونجا مگر اسیشادی میں لاکھوں نہیں کروڑوں روپیے پانی کی طرح بہائے گئے ۔کبھی ہم نے سوچا کہ اسی معاشرے میںسینکڑوں ایسی لڑکیاں ہیں جن کا نکاح محض اس لئے نہیں ہو رہا کہ ان کے والدین شادی کے اخراجات کا بوجھ اٹھانے میں قاصر ہیں ۔کبھی ہم نے سوچا کہ غیر مسلم رضا کار تنظیموں کی طرح اجتماعی شادی کی تقریب کا اہتمام کریں اور ان میں غریب و نادار طبقےکی لڑکیوں کے نکاح کا مسئلہ حل کریں ۔مجھے یاد آرہا ہےکہ جنوبی ہند میں کئی چھوٹی چھوٹی تنظیموں نے اس طرح کی کوشش کی ہیں ۔اور بینگلور میں ایک سیاسی لیڈر نے بھی اس کی پہل کی تھی ۔مگر شمالی ہند میں اس طرح کی کوئی پہل نہیں ہے ۔بالخصوص اترپردیس جہاں کئی ہندو تنظیموں نے اجتماعی شادی کی مہم تیز کر رکھی ہے اور اس میں ہر سال سیکڑوں مسلم لڑکیاں بھی غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ بیاہی جا رہی ہیں وہاں کوئی مسلم تنظیم فعال نظر نہیں آرہی ہے۔بہار اور مغربی بنگال جہاں مسلمان اکثریت کے علاقے ہیں وہاں بھی یہ مہم نہیں چل رہی ہے ۔اصلاحی کانفرنس کے نام پر ملک میں روز اجلاس ہو رہے ہیں مگر کیا ان جلسوں میں اجتماعی شادی کا کوئی ایجنڈا بھی شامل ہوتا ہے ۔جبکہ غیر مسلم تنظیموں کے ذریعے ادرس بیبا ہ یعنی مندروں میں جاکر سادگی کے ساتھ بیواہ کرنے کی تحریک چلائی جارہی ہے ۔کیا ہمارے مسلم معاشرے میں مسجدوں میں نکاح کرنے کی روایت قائم ہے ۔اور اگر نہیں ہے تو پھر اس کے لئے ذمہ دار کون ہے ۔جس قوم کو آج سے چودہ سو سال پہلے ایک مہذب قوم بنایا گیا اور اسے اقرأ کا نسخہ دیا گیا اگر وہ قوم جہالت کی پستی میں ہے تو پھر ہماری بستی میں دیوبندی اور بریلوی کا پرچم بلند کیوں ہو رہا ہے ۔اگر وقت ملے تو اس پر بھی غور کیجئے گا کہ بین المذاہب شادی جیسے مسئلے کا حل اس میں پوشیدہ ہے !