مسلم چہرے نہیں مسلم ایشوز پر زور دیجیے ـ الیاس نعمانی

ایک تحریر میں ہم نے لکھا تھا کہ امت کو اپنی توجہ مسلم چہروں پر نہیں مسلم ایشیوز پر رکھنی چاہیے، اس کی وضاحت میں چند سطریں تحریر کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے:
سب سے پہلے چند تاریخی حقائق بطور مثال ملاحظہ کیجیے:

1. ہندوستان کے آزاد ہوتے ہی نصاب تعلیم میں دیوناگری بت پرستانہ تہذیب داخل کی جانے لگی اور ہم جانتے ہیں کہ آزادی سے دس برس تک ملک کا وزیر تعلیم کیسا عظیم مسلم چہرہ تھاـ

2. علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو اپنے اقلیتی کردار کے سلسلے میں سب سے شدید بحران کا جب سامنا کرنا پڑا اس وقت وزارت تعلیم کریم چھاگلہ صاحب کے پاس تھی اور اس مسلم چہرہ کا خیال تھا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے نام سے "مسلم” نکال دینا چاہیےـ

3. کشمیری عوام کو مرکزی حکومت سے ظلم وستم کی سب سے زیادہ شکایت جن دنوں (1988-1989) میں رہی اس وقت ملک کے وزیر داخلہ کشمیر کے معروف سیاسی راہنما مفتی محمد سعید (محبوبہ مفتی کے والد) تھےـ

4. بہوجن سماج پارٹی نے جب پارلیمنٹ میں سی اے اے کی حمایت کی تو اس کے ارکان میں بھی مسلم چہرے تھےـ

5. مظفر نگر کے فسادات کے وقت ریاستی حکومت میں بہت سے مسلم چہرے تھے، بڑے بھی اور چھوٹے بھی،لیکن ہمارے کان ان میں سے کسی ایک سے بھی کوئی حرف مذمت چھوڑیے حرف ندامت تک سننے کو ترس گئےـ

اس لیے یہ سوال نہ کیجیے کہ پوسٹر یا اسٹیج پر فلاں چہرہ کیوں نہیں ہے، یہ چہرے آپ کے کام آنے والے نہیں ہیں، سوال (مثلا) یہ کیجیے کہ آپ نے جن مسلم بے قصوروں کی رہائی کی بات کی تھی وہ آپ کے پچھلے عہد حکومت میں رہائی کیوں نہیں پاسکےتھے؟
اور یہ بھی سوچیے کہ اگر ملک گیر این پی آر ہونے لگا تو کس پارٹی کی حکومت سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ ملک کی بعض دیگر ریاستوں کی طرح نئے فارمیٹ کا انکار کردے گی, اس کو ووٹ کیجیے اور جس پارٹی کے بارے میں یہ لگے کہ وہ این پی آر نئے فارمیٹ کے مطابق کرائے گی اس کو ہرانے کی ہر ممکن کیجیے، اس لیے نہیں کہ ہم نے اس کو ہرانے کا ٹھیکا لیا ہوا ہے، بلکہ اس لیے کہ ہماری شہریت خطرے میں نہ پڑجائےـ