مسلم چینل کا خواب دکھانے والے توجہ فرمائیں-محمد علم اللہ

مجھے یاد ہے کہ جب کبھی بچپن میں میرے چھوٹے بھائی کی طبیعت خراب ہوتی تو محلہ کی کچھ بزرگ خواتین بڑے اعتماد کے ساتھ علاج بتانا شروع کر دیتی تھیں۔ مثال کے طور پر کوئی کہتی ‘امرود اور شہتوت کے پتے ابال کر اس کا پانی پلا دو دیکھنا پیتے ہی اثر ہوگا’ کوئی دوسری خاتون مشورہ دیتی کہ ‘ادرک، نمک اور چینی ملاکر رات کو پلا دینا صبح تک بالکل ٹھیک ہو جائے گا’ میری اماں بے چاری ان عورتوں کی عمر اور باتوں سے مرعوب ہوکر ان کے نسخے پر عمل کرتیں لیکن خاک اثر نہ ہوتا تھا۔ دراصل ان بڑھیوں کی عادت تھی کہ مشورے دیتے وقت کچھ ایسی باتیں کرتیں جن سے لگتا کہ وہ ادویات اور حکمت سے خوب واقف ہیں اور اس شعبے کی جانکار ہیں اس لیے میری سادہ لوح ماں ان کی تدابیر پر بہت جلد ایمان لے آتی تھیں۔

آجکل میں وہی منظر دوسری نوعیت سے دیکھ رہا ہوں۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کا اپنا چینل شروع ہو جائے تو بس بیڑا ہی پار لگ جائے۔ میرے محلے کی بوڑھی دادیوں کی طرح بات میں وزن پیدا کرنے کے لیے کچھ آلات کے نام اور ٹی وی نیوز چینل کے بے ترتیب اجزاے ترکیبی بھی بتائے جا رہے ہیں تاکہ پڑھنے والا مشورہ دینے والے کو اس فیلڈ کا گہرا جانکار مان لے۔

خیر، سوشل میڈیا پر کچھ نہ کچھ لکھنے کا سب ہی کا دل کرتا ہے تو اگر کسی نے اپنی حسرت یوں نکالنے کی سوچی تو اس سے گلہ کیسا؟ عرض یہ ہے کہ میرا میڈیا سے تھوڑا بہت تعلق ہے۔ میں انکساری کے ساتھ عرض کروں کہ میں نے جس ادارے سے میڈیا کی اعلی تعلیم حاصل کی ہے اس میں داخلے کے لیے ہر سال ہزاروں طلبہ قسمت آزمائی کرتے ہیں۔ پھر میں ایک ایسے نشریاتی ادارے سے برسوں جڑا رہا ہوں جہاں ایک نہیں ایک درجن سے زیادہ چینل چوبیس گھنٹے نشر ہوتے ہیں۔ اب میں اس تجربہ کی روشنی میں عرض کرتا ہوں کہ مسلمانوں کا چینل والا معاملہ جس طرح بتایا جا رہا ہے وہ نہ تو قابل عمل ہے اور نہ ہی نتیجہ خیز ہوگا۔ ہم یہ کیوں سمجھ رہے ہیں کہ ہندوستان میں صرف چار چھ نیوز چینل ہیں اور اگر ان میں ایک نیوز چینل ہمارا بھی شروع ہو گیا تو اسے بھی کروڑوں لوگ دیکھنا شروع کر دیں گے۔

ذہن میں رہے کہ ملک میں چار سو سے زیادہ نیوز چینل ہیں جو پچاسوں کروڑ کے انفراسٹرکچر، پورے اسٹاف، مکمل وسائل، معیاری پروڈکشن اور مواد کے ساتھ کام کر رہے ہیں لیکن ان میں سے کتنوں کے نام آپ کو پتہ ہیں؟ چینل قائم ہوتے ہی چل جایا کرتا تو گردیپ سپل جیسا ٹی وی نیوز انڈسٹری کی رگ رگ جاننے والا شخص سوراج اپکسپریس نام سے اپنا چینل لے کر برسوں سے بیٹھا ہے اور اس چینل میں وہی سب کچھ مواد تیار ہوتا ہے جس کا خواب مسلمانوں کے نیوز چینل کے لیے دیکھا جا رہا ہے لیکن ایمان سے بتائیے کتنے لوگ اس چینل کے نام سے بھی واقف ہیں؟گردیپ سپل کے بارے میں بتا دوں کہ وہ راجیہ سبھا ٹی وی کے بانیان میں سے ہیں اور ایماندارانہ صحافتی اقدار کے امین ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے چینل کو جس طرح سنجیونی بوٹی کے طور پر بتایا جا رہا ہے عملی طور پر ویسا نہیں ہے۔ ایک صاحب نے مشورہ دیا کہ اس چینل کے ذریعے مسلمانوں کے بارے میں پھیلائی جا رہی غلط فہمیوں کو دور کیا جائے اور دہشت گردی کے الزام سے بری ہوئے نوجوانوں کے بارے میں قسط وار پروگرام بنایا جائے۔

معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ یہ کام ہو رہا ہے۔ این ڈی ٹی وی نے باقائدہ ایسی ڈاکیومینٹریز بنائیں جن میں عشرت جہاں انکاؤنٹر، مسلمانوں کو برسوں تک جیل میں رکھنے کے واقعات اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے پھیلائی جانے والی فیک نیوز کا پردہ فاش کیا گیا۔ دوسرے تیسرے دن رویش کمار کے شوز پرائم ٹائم اور دیش کی بات میں یہی مباحث آتے رہتے ہیں۔ شری نواسن جین کا پروگرام ریئلٹی چیک اور ٹروتھ ورسیز ہائپ بھی اسی قبیل کے ہیں۔ آپ کا بنایا ہوا چینل پہنچ کے اعتبار سے وہاں نہیں جا سکتا جہاں این ڈی ٹی وی اور رویش کمار جیسے لوگوں کے شوز ہیں۔ تو پھر جب وسیع پہنچ کے ساتھ یہ کام ہو ہی رہا ہے تو آپ کا چینل نیا کیا کرے گا؟ (بشرطیکہ اسے لوگ دیکھیں)۔ یہ بھی فرمایا گیا کہ چینل میں ابھیسار، پونیہ پرسون اور اجیت انجم وغیرہ کو لیا جائے۔ عرض ہے کہ یہ لوگ اپنی آڈینس سے مسلسل بات کر رہے ہیں۔ ان کے یوٹیوب چینلس پر ان کے جتنے بھی ناظرین ہیں وہ سب روزانہ ان کو سنتے ہیں۔ ہمیں یہ غلط فہمی کیوں ہو گئی کہ یہ بے چارے بے آواز ہو گئے ہیں اس لیے ہمارا چینل انہیں پلیٹ فارم دے گا۔ اب جبکہ وہ اپنے حلقہ تک پہنچ ہی رہے ہیں تو چینل سے نیا کیا ہوگا؟

ایک چیز یہ بھی یاد رکھیے کہ اپنی استعداد کے اعتبار سے یوٹیوب اور سوشل پلیٹ فارم ٹی وی سے زیادہ ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ مسلم نوجوان ان پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنی بات کہ رہے ہیں اور حالات ویسے تباہ کن بالکل نہیں ہیں جن کا نقشہ کہانی کہنے والے کھینچتے ہیں۔ ڈیجیٹل میڈیا اپنی رسائی اور مواد اپنی سہولت کے مطابق کبھی بھی دیکھے جانے کی صلاحیت کے سبب زیادہ موثر ذریعۂ اظہار ہے۔ ایسے میں جتنا تخلیقی مواد مسلمان نوجوان ڈیجیٹل اور آن لائن ڈومین میں ڈالیں گے اتنا ہی زیادہ مؤثر ہوگا۔

آخر میں ایک بات معذرت کے ساتھ یہ کہ مشورہ دینے والوں کو پتہ ہونا چاہیے کہ آج ٹی وی براڈکاسٹ کتنا آسان ہو گیا ہے۔ ایک صاحب کے ذریعے مسلم چینل کی بجٹ میں جو چیزیں گنائی گئیں انہیں دیکھ کر احساس ہوا کہ شاید وہ صاحب آخری بار کسی ٹی وی اسٹوڈیو اور پی سی آر میں ایک دہائی پہلے گئے ہوں گے۔ نیوز چینل خود آن لائن اور ڈیجیٹل ڈومین میں آ رہے ہیں اس لیے ہمیں اپنے نوجوانوں کو تحریک دینی چاہیے کہ وہ اس ڈومین سے استفادہ کریں اور اپنی بات کریٹیو طریقے سے رکھیں۔ ماتم کرنے اور سب کچھ تباہ ہونے کا نوحہ ہر وقت پڑھنے والے کبھی مثبت پیش رفت کو بھی دیکھ لیا کریں۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*