مسلم اور غیر مسلم کے طریقۂ ابلاغ کا فرق ـ مسعود جاوید

فیس بک نے بیک گراؤنڈ کلر کے آپشن میں جہاں مختلف رنگ اور مناظر دیے ہیں وہیں ان دنوں اسرائیلی emblem اور شعار ڈیوڈ اسٹار نجم داؤدی کا اضافہ کیا ہے۔ لوگ جانے انجانے اس بیک گراؤنڈ کا استعمال کر رہے ہیں۔ ہمارا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہوتا جب تک کہ ہم تمام انبیا و رسل علیہم السلام پر ایمان نہ لائیں اس لیے عیسائیوں، یہودیوں اور دیگر تقریباً 124,000 پیغمبروں کے درمیان ہم تفریق نہیں کرتے ہر ایک کا احترام کرتے ہیں۔ تاہم اسرائیل بالخصوص صہیونی ظلم و بربریت نے پچھلے ستر سالوں سے عالم اسلام کو آبدیدہ کر رکھا ہے اس لیے ہمیں اس کے شعار کی تشہیر کا ذریعہ بننے سے احتراز کرنا چاہیے۔
ہم مسلمانوں کی خاصیت یا حماقت یہ ہے کہ دوسری قوموں کے برعکس ہم مقصد کے حصول سے زیادہ جذباتیت میں یقین رکھتے ہیں اسی لیے ہم نام اور رنگ پر اس قدر زور دیتے ہیں کہ ہرے رنگ کو اسلامی رنگ بنا دیا۔ ہماری ملی تنظیموں، اخبارات ورسائل اور سیاسی پارٹیوں کے نام اسلام اور مسلمان کے بغیر مکمل نہیں ہوتے۔ میں اسے جذباتی استحصال کہتا ہوں۔ مجلس اتحاد المسلمین، مسلم مجلس، علما کاؤنسل وغیرہ سیاسی پارٹیاں ہوں یا رفاہی ادارے این جی اوز الخیر ، جنت کا راستہ ، مسلم ٹرسٹ، وغیرہ۔
اس حقیقت سے ہم بخوبی واقف ہیں کہ اسلام اور مسلم نام سے بہت سے لوگوں کو الرجی ہے۔ جب ہندوستان میں غیرمسلموں کے ساتھ اور غیر مسلموں کے درمیان کام کرنا ہے تو کامن نام جتنا پر کشش ہوگا مذہبی نام اور شعارات نہیں۔ میرے کچھ دوستوں نے بتایا کہ جنوبی ہند میں ریلیف اور رفاہی کاموں میں متحرک بعض افراد گرچہ جماعت اسلامی سے وابستہ ہیں مگر نام کی الرجی سے بچنے کے لیے انہوں نے کامن نام کا بینر لگانا شروع کیا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی جانفشانی کے ساتھ منظم کام کا نوٹس مقامی انتظامیہ نے لیا اور اب ہر ایسے موقعوں پر انتظامیہ انہیں بھی مدعو کرتا ہے ان کی بے لوث خدمات کو سراہتا ہے۔
اس کے برعکس غیروں کے نام سے ظاہر نہیں ہوتا کہ وہ رفاہی ادارہ، اخبارات، رسائل میگزین ،چینل وغیرہ کس کمیونٹی کے ہیں۔ ایسے کامن نام اور کام کی طرف اشارہ کرنے والے نام اور شعار عام قارئین و ناظرین کو اپنی طرف زیادہ مائل کرتے ہیں۔ مخصوص مذہب کے نام دیکھتے ہی لوگوں کا کونسیپٹ یہ ہوجاتا ہے کہ یہ غیر جانبدار نہیں اپنی مخصوص جماعت اور نظریہ کی تبلیغ نشرو اشاعت کرنے والی تنظیم یا ترجمان ہے۔ Reuter نیوز ایجنسی کا مالک ایک یہودی ہے عموماً لوگ یہ نہیں جانتے اور نا ہی نام سے ایسا لگتا ہے لیکن برسہا برس سے دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ اسے ایک معتبر نیوز ایجنسی کا درجہ دے کر اس کی خبروں کا استعمال کرتے ہیں۔ تاہم ایسےکامن نام والے اخبارات میگزین اور نیوز ایجنسیاں پس پردہ اپنے ایجنڈے بھی چلاتی رہتی ہیں۔ دائیں بازو کے رجحان والی ٹائم میگزین کو کاؤنٹر کرنے کے لیے بعض عرب سرمایہ داروں نے امریکہ اور برطانیہ میں بعض کہنہ مشق عرب اور مسلم صحافیوں کو ،جن کو ان میگزین میں کام کرنے کا تجربہ بھی تھا، اپنی میگزین نکالنے کے لئے اچھی تنخواہوں پر ہائر کیا لیکن اس معیاری انگریزی میگزین کا نام رکھا العربیہ Arabia ظاہر ہے کہ نام دیکھ کر ہی غیر مسلم دنیا کی اکثریت نے اسے ہاتھ نہیں لگایا الا یہ کہ جو اعتدال پسند حقیقت جاننے کی خواہش رکھتے تھے۔
مذکورہ بالا اسرائیلی شعار اور علم کے چھ جہتی ستارہ جو دو مثلث ایک دوسرے پر رکھنے سے بنتا ہے یہ بیک گراؤنڈ استعمال کرنے کے لیے کسی کو نہیں کہا لیکن خاموشی سے ایسا طریقہ اختیار کیا کہ جانے انجانے لوگ اسے عام ستارہ سمجھ کر استعمال کر رہے ہیں جبکہ عام ستارہ یا نجم سلیمانی پانچ جہتی ہوتا ہے۔
اس خامہ فرسائی سے مقصود یہ بتانا ہے کہ کس طرح خاموشی سے شاطرانہ طور پر اسرائیلیوں نے اپنے سمبل اور ایمبلم ہم تک پہنچا دیے۔
ہندوستان میں اردو خطاطی ایران کی دین ہے۔ آج بھی خطاطی میں ایران ہی سر فہرست ہے۔ طغروں اور کیلنڈر پر خوبصورت مناظر کے ذریعے ہمارے گھروں میں خاموشی سے پنج تن محمد- علی- فاطمہ- حسن – حسین اور براق ہمارے ذہنوں میں راسخ کر دیا گیا۔ ہم صحیح ترتیب : اللہ- محمد-ابوبکر- عمر- عثمان- علی- اور عشرہ مبشرہ کے باقی اسما بھول گئے۔ اپنے پیغام پہنچانے کے لیے جذبات نہیں ذہانت کا استعمال کیا جائےـ

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*