مسلم آبادی کا جھوٹا پروپگینڈا ـ حسام صدیقی

 

اترپردیش اسمبلی کا الیکشن نزدیک آیا تو بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کے فرقہ پرست حامیوں خصوصاً مسلم دشمن ٹی وی چینلوں نے ہندوتو کا ایجنڈا سامنے لانے کے لئے تبدیلیٔ مذہب اور مسلم آبادی جیسے گھٹیا ایشوز تلاش کرلئے ہیں۔ پروپگینڈا کیا جارہا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کی آبادی میں تیز رفتاری کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے، اس لئے آبادی کنٹرو ل کرنے کا قانون بننا چاہئے۔

اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ آبادی کنٹرول بل لے کر آئے ہیں۔ اسی کے ساتھ کہا گیا کہ راکیش سنہا اور انل اگروال یہ قانون بنوانے کے لئے راجیہ سبھا میں پرائیویٹ ممبر بل لانے والے ہیں۔ لوک سبھا میں روی کشن نے ایسی ہی باتیں کہی ہیں۔ تو کیا یہ بی جے پی کی کوئی سوچی سمجھی حکمت عملی ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ کے بل میں کہا گیا ہے کہ دو سے زیادہ بچے والوں کو پنچائت اور نگر نگم کے الیکشن لڑنے کا موقع نہیں ملے گا، سرکاری نوکریاں نہیں دی جائیں گی اور سرکار سے ملنے والی مختلف سہولتیں نہیں ملیں گی۔ بل لایا تو گیا مسلمانوں کو نشانہ بنا کر لیکن بل کا اصل نشانہ بنیں گے پچھڑے، دلت اور آدیواسی۔ جہاں تک سرکاری نوکریاں نہ ملنے کا سوال ہے تو مسلمانوں کو پہلے ہی سرکاری نوکریاں کہاں مل رہی ہیں دلتوں ، آدیواسیوں اور پچھڑوں کو مل رہی ہیں۔ یہ بل انہیں ہی ختم کرنے کی سازش ہے۔

اترپردیش اور آسام میں آبادی کنٹرول بل لایا جاچکا ہے۔ تو راجیہ سبھا اور لوک سبھا کے ذریعہ مرکز میں بھی یہ بل لانے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ کئی سیاسی پارٹیوں نے اس کی مخالفت کی ہے لیکن مودی بی جے پی کے این ڈی اے میں شامل نتیش کمار نے بھی یہ کہہ کر اس کی مخالفت کی ہے کہ قانون بنانے سے مقصد حل نہیں ہوگا۔ چین اس کی مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا واحد راستہ حواتین کو تعلیم یافتہ بنانا ہے۔ خواتین میں تعلیم زیادہ ہوگی تو وہ بیدار ہوں گی تو بچوں کی پیدائش کی شرح خود بہ خود کم ہوجائے گی۔

یوگی آدتیہ ناتھ کا بل سامنے آیا تو سب سے پہلے انہی کی پارٹی کی بے چینی میں اضافہ ہوگیا۔ لکھنؤ نگرنگم کی میئر سمیت آدھے سے زیادہ کارپوریٹر اور حال ہی میں منتخب ہوئے بی ڈی سی ممبران، ضلع پنچائت چیئرمین اور بلاک پرمکھ ایسے ہیں جن کے دو سے زیادہ بچے ہیں۔ کچھ کے تو پانچ سے سات تک ہیں۔ اس طرح مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لئے جو تیر چلایا گیا تھاوہ بی جے پی کے اپنوں کو ہی لگ گیا۔کانگریس لیڈر سلمان خورشید نے بالکل صحیح سوال اٹھایا ہے کہ ایسا کوئی قانون بنانے سے پہلے بی جے پی کو یہ اعلان کرنا چاہئے کہ اس کے وزیروں کے کتنے کتنے بچے ہیں؟انہو ںنے کہا کہ ان بچوں میں جائز اورناجائز دونوں طرح کے بچوں کاذکر ہونا چاہئے۔

اس بل سے مسلمانوں سے کئی گنا زیادہ ناراضگی پچھڑوں، دلتوں اور آدیواسیوں میں ہے۔ کیونکہ ان میں تقریباً ہر گھر میں دو سے زیادہ بچے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق تراسی فیصد ہندوؤں اور صرف تیرہ فیصد مسلمانوں میں دو سے زیادہ بچے ہوتے ہیں۔ اس صورت میں یہ جو پروپگینڈہ کیا جارہا ہے کہ مسلمانوں میں بچے زیادہ ہوتے ہیں اس کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ جہاں تک قانون کا سوال ہے تو نریندر مودی، یوگی آدتیہ ناتھ اور راکیش سنہا جیسے وہی لوگ اس کی حمائت میں ہیں جن کی یاتو شادیاں نہیں ہوئی ہیں یا شادی ہوئی تو بیوی کو چھوڑ دیا۔ یوگی کے بل میں یہ بھی کہا جارہا ہے کہ نوزائدہ بچوں کی موت کی شرح میں کمی کرکے ۲۰۲۳ تک آدھے سے بھی کم شرح پر لایا جائے گا۔ مطلب یہ کہ اب یوگی اور ان کی سرکار بھگوان یا اللہ ہوگئے ہیں جو موت زندگی دینے کا کام کریں گے۔

یہ شوشا چھوڑا ہے آسام کے نئےوزیراعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے۔ انہوں نے کہا ہے کہ آسام میں مسلم آبادی میں بہت تیزی کے ساتھ اضافہ ہوا ہے، مسلمانوں کو بھی سوچنا چاہئے کہ انہیں زیادہ بچے چاہئیں یا کم بچے،ان کی بہترین پرورش اور ان کے لئے اعلیٰ تعلیم۔ مسلم آبادی میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے یہ شوشا کوئی نیا نہیں ہے۔ آر ایس ایس یہ پروپگینڈا کئی سالوں سے کررہا ہے۔ اس پروپگینڈے کا حقیقت سے کچھ بھی لینا دینا نہیں ہے۔ جب کبھی کسی ریاست میں الیکشن کے وقت بی جے پی کمزور نظر آتی ہے تو انتہا پسند ہندوؤں کو پولرائز کرنے کے لئے یہ شوشا چھوڑا جاتا ہے۔لیکن پارلیمنٹ میں باقاعدہ بل لاکر اس پر قانون نہیں بنایا جاتا کیونکہ پارلیمنٹ میں بیٹھے ذمہ داروں کو پتہ ہے کہ مسلمانوں اور ہندوؤں دونوں میں زیادہ بچے پیدا ہورہے ہیں۔ بی جےپی نے اترپردیش کے بلرام پور میں جس لڑکی آرتی تیواری کو ضلع پنچائت چیئرپرسن بنوایا ہے وہ بی اے فائنل کی طالبہ ہے اور والدین کے پانچ بچوں میں سب سے بڑی ہے تو کیا تیواری بھی مسلمان ہے۔ انڈین ایکسپریس نے کووڈ سے مرنے و الے کچھ ایسے لوگوں کی تفصیل شائع کی ہے جن کے گھروں میں صرف بچے ہی بچے ہیں ان میںکئی ہندو خاندان ایسے ہیں جن کے تین سے پانچ تک بچے ہیں۔آزادی کے وقت ملک کی تقسیم کے بعد بھارت کی آبادی تقریباً پینتیس کروڑ تھی، جن میں تیس کروڑ ہندو اور پانچ کروڑ مسلمان تھے، آج ملک کی آبادی تقریباً ایک سو چالیس کروڑ ہے جس میں مسلمان تقریباً تیس کروڑ ہی ہیں تو آزادی کے بعد کس کی تعداد میں زیادہ اضافہ ہوا ہے؟

آر ایس ایس اور بی جے پی نے مسلمانوں کی مبینہ بڑھتی آبادی کا شوشا چھوڑا تو کئی فرقہ پرست ٹی وی چینل اسے لے اڑے۔ مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن اور مودی سرکار کے تلوے ہی نہیں بلکہ جوتے چاٹنے والے زی نیوز نے پروگرام بنا دیا۔ جس کی ہیڈنگ تھی’قدرت تو بہانہ ہے مسلم آبادی بڑھانا ہے‘۔ یہ کیپشن اس لئے دیاگیاکیونکہ سنبھل سے سماج وادی پارٹی کے لوک سبھاممبر شفیق الرحمانی برق نے کہہ دیا تھا کہ بچے تو قدرت کی دین ہیں۔ سنبھل کے ہی سماج وادی پارٹی ممبر اسمبلی اور سابق وزیر اقبال محمود نے کہہ دیا کہ سب سے زیادہ بچے تو دلتوں اور آدیواسیوں کے گھروں میں پیدا ہوتے ہیں۔ اس پر بھی خوب ہنگامہ ہوا۔ اقبال محمود کو اس قسم کا بیان نہیں دینا چاہئےتھا کیونکہ زیادہ بچے ہر طبقوں اور ہر ذات کے لوگوں کے گھروں میں پیدا ہوتے ہیں۔ ہم نے شروع میں بلرامپور ضلع پنچائت کی چیئر مین آرتی تیواری کا ذکر کیا جو پانچ بھائی بہن ہیں اور برہمن ہیں۔

آر ایس ایس اور بی جے پی نے گزشتہ سات سالوں میں ملک کے ہندوؤں میں یہ خوف پیدا کیا کہ مسلمانوں کی تیزی سے بڑھتی آبادی کی وجہ سے ملک کے ہندو خطرے میں ہیں۔ کچھ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ۲۰۵۰ تک ملک میں مسلمانوں کی آبادی ہندوؤں سے زیادہ ہوجائے گی پھر ملک میں کوئی ہندو وزیراعظم نہیں بن پائے گا۔بڑی تعداد میں لوگوں نے اس پروپگینڈے پر یقین کرلیا اور سوشل میڈیا پر اس سلسلہ میں پوسٹروں کی بھرمار ہوگئی۔ یہ پروپگینڈا کرنے والوں اور اس پر یقین کرنے والوں دونوں نے اس حقیقت پر غور نہیں کیا کہ ۱۹۵۱ میں ملک میں پانچ کروڑ مسلمان اور تیس کروڑ ہندو تھے بہتر سالوں میں ہندو آبادی بڑھ کر سو کروڑ سے زیادہ اور مسلم آبادی تقریباً تیس کروڑ ہوئی ہے تو صرف تیس سالوں میں ملک میں مسلم آبادی ہندوؤں سے زیادہ کیسے ہوجائے گی؟

پڑوسی ملک چین نے ایک بچے کا قانون بنایا تھا سختی کے ساتھ اس قانون پر عمل کیا گیا تو انتہا یہ کہ آٹھویں اور نویں مہینے تک چینی سرکار نے خواتین کا حمل ضائع کرایا۔ ایران نے بھی ایک بچے کے قانون پر سختی سے عمل کیا نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں ممالک میں بیشتر آبادی بوڑھوں کی ہوگئی جو سرکار پر بڑا بوجھ ثابت ہوئی نتیجہ یہ کہ چین نے ۲۰۱۵ میں دو اور اب تین بچے تک پیدا کرنے کی اجازت دے دی ایران میں بھی یہی ہوا ہے۔ اس لئے آبادی کنٹرول قانون ملک کی آبادی کم کرنے کا مناسب طریقہ نہیں ہوسکتا۔

جیسا کہ اس خبر میں شروع میں لکھا گیا کہ آر ایس ایس اور بی جے پی نےآبادی کنٹرول کی بات چھیڑی تو زی ٹی وی اور تمام مسلم مخالف چینلوں نے اپنا زہریلا چہرہ دکھانا شروع کردیا’قدرت تو بہانہ ہے، مسلم آبادی بڑھانا ہے‘۔ ’ہندو خطرے میں ہیں‘۔ ’نظام قدرت یا ہندوستان پر آفت‘، ’مذہب تو بہانہ ہے یوپی الیکشن پر نشانہ ہے‘۔ اس قسم کے زہریلے کیپشن کے ساتھ ٹی وی چینلوں نے گھنٹوں کے پروگرام دکھائے اور بحث کرائی۔ مطلب صاف ہے کہ ٹی وی چینلوں میں بیٹھے فرقہ پرست لوگ بھی اس بات پر یقین کرتے ہیں کہ اس ملک کی آبادی میں اضافے کی اصل وجہ مسلمان ہی ہیں۔