مسلم آبادی کے تعلق سے آسام کے وزیر اعلیٰ کا بیان شرمناک،معافی مانگیں:ڈاکٹر منظور عالم

نئی دہلی:مسلمانوں کی آبادی کے تعلق سے آسام کے وزیر اعلی ہیمنتا بسوا کے بیان پر آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد منظور عالم نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے شرمناک بتایااور کہاکہ ایک وزیر اعلی کی زبان سے اس طرح کا فرقہ وارانہ اور ایک خاص کمیونٹی کے خلاف بیان یہ واضح کرتاہے کہ بی جے پی کے رہنماؤں میں اب ذرہ برابر بھی ذمہ داری اور آئین کا پاس ولحاظ نہیں رہ گیا ہے۔ مسلمانوں کی آباد ی کو جس طرح نشانہ بناتے ہوئے ہیمنتا بسوا شرمانے اپنا بیان دیاہے وہ یقینی طور پر ملک کی گنگا جمنی تہذیب اور آئین کے نہ صرف خلا ف ہے بلکہ مسلمانوں کو ایک طرح سے دھمکی دی گئی ہے۔ڈاکٹر منظور عالم نے کہاکہ مسلمانوں کی آبادی بڑھنے کی شرح گذشتہ سالوں کے مقابلے میں کم ہورہی ہے۔ دوسری طرف خود ہیمنتابسوا چھ بھائی سے زیادہ ہیں۔ سابق وزیر اعلی سونوال آٹھ بھائی تھے۔ یہ اپنے گھر میں نہیں دیکھتے ہیں اور صرف مسلمانوں کو تنبہیہ کرتے ہیں۔در اصل بی جے پی آسام میں جب این آرسی کے نام پرمسلمانوں کو پریشان کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے اور مسلمانوں سے زیادہ جب اکثریتی طبقہ کا نام آگیاہے تو اب انہیں آبادی کو بنیاد بناکر پریشان کرنے اور نشانہ بنانے کی یہ مہم شروع ہوئی ہے۔ آسام میں مسلمانوں کی آبادی بہت پرانی ہے ، ان پر کسی طرح کا سوال اٹھانے کا کسی کو کوئی حق نہیں ہے۔2011 کی مردم شماری کے مطابق آسام سے زیادہ دوسرے صوبوں میں آبادی کی شرح زیادہ ہے۔ آسام میں آبادی میں اضافہ کی شرح سترہویں نمبر پرہے۔ یہ در اصل ملک کے ماحول کو خراب کرنے کی سازش ہے اور وزیر اعلی اپنی کرسی کا خیال رکھنے کے بجائے گھٹیاترین حرکت کررہے ہیں۔ ایسے بیان سے گریز کرنا چاہیے اور تمام مسلمانوں سے معافی مانگنی چاہیے۔