مسلم آبادی بڑھنے کا جھوٹا پروپیگنڈہ-معصوم مرادآبادی

 

آسام کے بعد اب ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں آبادی کنٹرول کرنے کے لیے قانون سازی کی تیاریاں ہورہی ہیں۔’ بچے دوہی اچھے‘ نامی یہ مہم یوں تو پوری آبادی پر نافذ کرنے ہوگی ، لیکن جاننے والے بخوبی جانتے ہیں کہ ملک میں جب بھی بڑھتی آبادی کو کنٹرول کرنے کی بحث شروع ہوتی ہے تو اس کی تان ہمیشہ مسلمانوں پر آکر ہی ٹوٹتی ہے۔آسام اور اترپردیش میں اس بحث کو شروع کرنے کامقصد بھی یہی معلوم ہوتا ہے ، کیونکہ اس کی پشت پرآبادی کو قابو میں کرنے کا جذبہ نہیں بلکہ ہمیشہ کی طرح اس کی آڑ میں سیاست کی روٹیاں سینکنا اورمسلمانوں کو ہراساں کرنا ہے۔

مختلف اوقات میں کئے گئے سروے یہ ثابت کرچکے ہیں کہ ملک میں مسلم آبادی کی شرح دیگر فرقوں کے مقابلے میں کم ہے ، لیکن پھر بھی ان پر ملک کی آبادی میں عدم توازن پیدا کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے۔مسلمانوں کے تعلق سے جو باتیں بار بار کہی جاتی ہیں ، ان میں پانچ سب سے زیادہ نمایاں ہیں۔مسلمانوں پر سب سے بڑا الزام یہ ہے کہ وہ زیادہ بچے پیدا کرتے ہیں اور آبادی میں اضافہ کے لیے تنہاوہی ذمہ دار ہیں۔ دوسری بات یہ کہی جاتی ہے کہ مسلمانوں کی وجہ سے آبادی کا توازن بگڑ گیا ہے۔تیسرا الزام یہ ہے کہ مسلمان جان بوجھ کر اپنی آبادی بڑھارہے ہیں تاکہ آہستہ آہستہ ہندو اقلیت میں آجائیں اور مسلمان ملک کے اقتدار پر قابض ہوجائیں۔ چوتھا الزام یہ ہے کہ مسلمان ایک سے زیادہ شادیاں کرتے ہیں تاکہ آبادی کو بڑھا سکیں۔ اسی لیے یہ نعرہ لگایا جاتا ہے کہ’’ ہم پانچ ، ہمارے پچیس‘‘۔ پانچویں بات بہت زور وشور سے یہ کہی جاتی ہے کہ اسلام خاندانی منصوبہ بندی کا مخالف ہے، اس لیے مسلمان اس پر عمل نہیں کرتے۔

دراصل اس پروپیگنڈے سے فرقہ پرست اور مسلم دشمن طاقتوں کو آکسیجن ملتی ہے،اس لیے اس کو ہوا دینا فرقہ پرستوں کو سب سے زیادہ راس آتاہے۔ اس قسم کی باتیں اکثر الیکشن کے میدان میں بھی کی جاتی ہیں۔ ہمارے محبوب وزیراعظم نے کسی زمانے میں گجرات اسمبلی کی انتخابی مہم کے دوران ’ ہم پانچ ، ہمارے پچیس ‘ کا نعرہ مستانہ لگاکر ہندو ووٹوں کی صف بندی کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی۔ بھولے بھالے ہندوؤں پر اس پروپیگنڈے کا اثر یوں ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف ان کی نفرت میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ یہی دراصل فسطائی جماعتوں کا مقصد بھی ہے کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تشددکو ہوا دی جائے اور انھیں نرم چارہ بنایا جائے۔ آزادی کے بعد سے مسلسل یہی ہورہا ہے اور کسی بھی حکومت نے اس کا توڑ کرنے کے لیے اصل اعداد وشمار عوام کی عدالت میں پیش نہیں کئے۔

پچھلے دنوں سابق الیکشن کمشنر ڈاکٹر ایس وائی قریشی نے اس موضوع پر ایک کتاب لکھی ہے۔’ آبادی کا مفروضہ :اسلام ، خاندانی منصوبہ بندی اور ہندوستانی سیاست ‘ کے عنوان سے انگریزی زبان میں شائع ہونے والی اس کتاب میں انھوں نے یہ نتیجہ اخذکیا ہے کہ’’پیدائش کی شرح مسلمانوں میں زیادہ ہے ، لیکن اتنی نہیں کہ جتنا پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے۔عام طور پر یہ تاثر پیدا کیا جاتا ہے کہ کسی ہندوخاندان میں دوبچے ہیں تو مسلم خاندان میں دس بچے جنم لیتے ہیں۔ڈاکٹر قریشی نے اپنی تحقیق میں لکھا ہے کہ کبھی بھی ہندوؤں اور مسلمانوں میں ایک بچے سے زیادہ کا فرق نہیں رہا۔ ان کا کہنا ہے کہ اب مسلمان کافی تیزی سے بلکہ ہندوؤں سے زیادہ خاندانی منصوبہ بندی کو اپنا رہے ہیں۔ یہ شرح گھٹ کر 0.48 پرآچکی ہے۔دوسری غلط فہمی یہ ہے کہ آبادی کا توازن بگڑ رہا ہے۔ اس میں اس حدتک تو سچائی ہے کہ گزشتہ ساٹھ سال میں مسلم آبادی میں چار فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور ہندوؤں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ یعنی ہندو 84 فیصد سے گھٹ کر 79 فیصد رہ گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کمی صرف مسلمانوں میں نہیں بلکہ تمام قوموں میں تقسیم ہوگئی ہے۔ مسلمان 9.8 فیصد سے بڑھ کر14فیصد ہوگئے ہیں۔ اس سے آبادی کا توازن بگڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مسلمانوں کی آبادی ساٹھ سال میں صرف چار فیصد بڑھی ہے ۔ اس اعتبار سے ان کے اکثریت بننے میں 600 سال لگیں گے-

ان دنوں آسام کے نومنتخب وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا سرماکے سر پربھی بڑھتی ہوئی مسلم آبادی کا بھوت سوار ہے۔اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کے ہاتھوں میں ایک ایسی ریاست کی باگ ڈورآگئی ہے جہاں سب سے زیادہ یعنی 34 فیصد مسلم آبادی ہے ۔ آسام کے مسلمانوں کے خلاف مسلسل یہ پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ ان میں سے بیشتر ’ گھس پیٹھئے ‘ ہیں جو پڑوسی ملک بنگلہ دیش سے یہاں آئے ہیں۔نومنتخب وزیر اعلیٰ کی پہلی کوشش یہی ہے کہ وہ کسی طرح مسلمانوں کی آبادی کو’ کنٹرول‘ کرکے اپنے سیاسی آقاؤں کو خوش کردیں۔اسی لیے اپنی ریاست میں مسلمانوں کی آبادی کم کرنے کے لیے انھوں نے طرح طرح کی اسکیمیں وضع کرلی ہیں۔ سب سے بڑی اسکیم یہ ہے کہ دوسے زیادہ بچے پیدا کرنے والے اب سرکاری ملازمت سے محروم رہیں گے۔دوسے زیادہ بچوں والے جو لوگ پہلے سے ملازم ہیں ان کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ یہ ایک ایسے وزیراعلی کی پالیسی ہے جس کے خود چھ بہن بھائی ہیں ۔

اسی قسم کے ضابطے بی جے پی کے اقتدار والے دیگر صوبوں میں بھی نافذ کیے گئے ہیں۔ یعنی دوسے زیادہ بچے والوں کولوکل باڈیز کے انتخابات کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا ہے۔اس قانون کو نافذ کرنے والے صوبوں میں گجرات، مدھیہ پردیش، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، کرناٹک اور ہریانہ شامل ہیں۔ بعض غیر بی جے پی اقتدار والے صوبوں مثلاً راجستھان ، مہاراشٹر، آندھرا پردیش، تلنگانہ اور اڑیسہ میں بھی اس کی پیروی کی جارہی ہے۔اترپردیش بھی جلد ہی اس فہرست میں شامل ہونے والا ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ آسام میں دوبچوں کی پالیسی کا نفاذ تو مسٹر سرماکے پیش رو وزیراعلیٰ نے گزشتہ جنوری میں ہی کردیا تھا۔اب انھوں نے دو سے زیادہ بچے والوں کو تمام سرکاری مراعات سے محروم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ان کا خاص نشانہ مسلمان ہیں۔آپ کو یاد ہوگا کہ انھوں نے پچھلے دنوں ’ پناہ گزین مسلمانوں‘ کو یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ آبادی کو کنٹرول کرنے کے ’ مہذب طریقے ‘اختیار کریں۔دراصل موجودہ وزیراعلیٰ کی نگا ہ میں آسام کے مسلمان ’پناہ گزین‘ ہیں جو بنگلہ دیش سے نقل مکانی کرکے آسام میں آباد ہوئے ہیں۔آپ کو یہ بھی یاد ہوگا کہ انھوں نے اسمبلی الیکشن کی مہم میں واضح طور پر کہا تھا کہ ریاست کی 34فیصد مسلم آبادی بی جے پی کے ایجنڈے میں اس لیے شامل نہیں ہے کہ وہ بی جے پی کو ووٹ نہیں دیتی ۔سرما کا یہ بیان ان کی پارٹی کی حکمت عملی کا حصہ ضرور ہے اور ایسا انھوں نے الیکشن کے میدان میں کہا تھا ، لیکن اب جبکہ وہ سب کے ساتھ انصاف کرنے کا حلف اٹھاکر وزیراعلیٰ بنے ہیں تو انھیں دستور کی پابندی کرتے ہوئے ایسے اقدامات کرنے چاہیے جن کا فیض بلا تفریق مذہب وملت سب کو پہنچے ۔ عجیب مذاق ہے کہ بی جے پی کے لیڈران آئین کی پاسداری کا حلف اٹھانے کے باوجود کھلم کھلا اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک آئین کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

گزشتہ دنوں ایک بیان میں وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا سرمانے کہا تھا کہ’’ پناہ گزین مسلم فرقہ کو مجموعی ترقی اور غربت کے خاتمہ اور آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے خاندانی منصوبہ بندی کی پالیسی اپنانی چاہئے، کیونکہ ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی خصوصاً اقلیتی برادریوں کے درمیان وسائل کی قلت پیدا ہورہی ہے۔‘‘انھوں نے اقلیتی برادریوں کے ذمہ داروں پر زور دیا تھاکہ وہ ’’لوگوں کو آبادی پر قابو پانے پر توجہ دینے کی ترغیب دیں۔‘‘ وزیراعلیٰ نے یہاں تک کہا کہ ’’حکومت اقلیتی برادری کی خواتین کواس مسئلہ سے موثر انداز میں نمٹنےکی تعلیم دینے کاہدف بنارہی ہے۔‘‘اس بیان سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آسام میں آبادی کو کنٹرول کرنے کی ساری کوششیں مسلمانوں تک محدود ہیں اور حکومت انھیں ہی ہدف بنانا چاہتی ہے۔یہ دراصل حکمراں جماعت کی پالیسی اور ایجنڈے کا حصہ ہے اور اس کا مقصد مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے سواکچھ بھی نہیں ہے جبکہ زمینی سچائی اس کے برعکس ہے۔ 2019-20 کے سرکاری اعداد شمار یہ ثابت کرتے ہیں کہ اگر آسام میں کسی فرقہ کی آبادی کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے تو وہ صرف مسلمان ہیں۔اس عرصہ کے دوران مسلمانوں کی آبادی میں صرف دواعشاریہ چارفیصد کا اضافہ ہوا ہے جبکہ2005-06 کے دوران اضافہ کی یہ شرح تین اعشاریہ چھ فیصد تھی یعنی سرکاری اعداد وشمار کے مطابق مسلمانوں کی آبادی میں ایک اعشاریہ دوفیصد کی کمی واقع ہوئی ہے جبکہ اس کے برعکس ہندو آبادی کی شرح میں اضافہ درج کیا گیاہے۔جہاں تک ایک سے زیادہ شادیوں کا سوال ہے تو یہ بھی ایک مفروضہ سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ ہندوستان کا جنسی تناسب گزشتہ 100سال سے جوں کا توں ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ 2020کے اعداد وشمار کے مطابق 1000مردوں کے مقابلے میں 924عورتیں ہیں۔ ایسے میں دوسری بیوی ملنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔